ویویکانند آرکائیو

شانزدہم — بہنیں

جلد8 letter
240 الفاظ · 1 منٹ کا مطالعہ · Epistles - Fourth Series

یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ براہ کرم اصل انگریزی متن سے رجوع کریں۔

AI-translated. May contain errors. For accurate text, refer to the original English.

اردو

شانزدہم

ہیل خواتین کے نام

ڈیٹرائٹ،

۱۲ مارچ، ۱۸۹۴ء

عزیز بہنو،

میں ابھی مسٹر پالمر کے ہاں مقیم ہوں۔ وہ بہت اچھے شریف النفس ہیں۔ انہوں نے پرسوں رات اپنے پرانے دوستوں کی ایک دعوت کا اہتمام کیا جن میں سے ہر ایک کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہے اور وہ اسے اپنا "پرانے لڑکوں کا کلب" کہتے ہیں۔ میں نے ایک اوپیرا ہاؤس میں ڈھائی گھنٹے خطاب کیا۔ لوگ بہت خوش ہوئے۔ بوسٹن اور نیویارک جا رہا ہوں۔ یہاں سے وہاں کے اخراجات کے لیے کافی مل جائے گا۔ مجھے فلیگ اور پروفیسر رائٹ دونوں کے پتے یاد نہیں رہے۔ میں مشی گن میں لیکچر نہیں دوں گا، مسٹر ہولڈن نے آج صبح مجھے مشی گن میں لیکچر دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی مگر میرا پورا ذہن بوسٹن اور نیویارک کو ذرا دیکھنے کی طرف لگا ہوا ہے۔ سچ بات یہ ہے کہ جتنی مقبولیت اور تقریر میں روانی آتی جا رہی ہے اتنا ہی میں اوب رہا ہوں۔ میرا آخری خطاب اب تک کا بہترین تھا۔ مسٹر پالمر خوشی سے سرشار تھے اور سامعین تقریباً مسحور رہے، اتنے کہ لیکچر کے بعد مجھے پتا چلا کہ میں نے اتنا طویل خطاب کیا تھا۔ مقرر کو ہمیشہ سامعین کی بے چینی یا عدم توجہی محسوس ہوتی ہے۔ خداوند مجھے ایسی لغویات سے بچائے، میں اوب گیا ہوں۔ اگر خداوند نے اجازت دی تو بوسٹن یا نیویارک میں آرام کروں گا۔ آپ سب کو میری محبت۔ ہمیشہ خوش رہیں!

آپ کا محبت مند بھائی،

وویکانند۔

English

XVI

To the Hale Sisters

DETROIT,

12th March, 1894.

DEAR SISTERS,

I am now living with Mr. Palmer. He is a very nice gentleman. He gave a dinner the night before last to a group of his old friends, each more than 60 years of age, which he calls his "old boys' club". I spoke at an opera house for two hours and a half. People were very much pleased. I am going to Boston and New York. I will get here sufficient to cover my expenses there. I have forgotten the addresses of both Flagg and Prof. Wright. I am not going to lecture in Michigan, Mr. Holden tried to persuade me this morning to lecture in Michigan but I am quite bent upon seeing a little of Boston and New York. To tell you the truth, the more I am getting popularity and facility in speaking, the more I am getting fed up. My last address was the best I ever delivered. Mr. Palmer was in ecstasies and the audience remained almost spellbound, so much so that it was after the lecture that I found I had spoken so long. A speaker always feels the uneasiness or inattention of the audience. Lord save me from such nonsense, I am fed up. I would take rest in Boston or New York if the Lord permits. My love to you all. May you ever be happy!

Your affectionate brother,

VIVEKANANDA.


متن ویکی سورس عوامی ملکیت سے۔ اصل کو ادویت آشرم نے شائع کیا۔