ویویکانند آرکائیو

فنِ لطیف پر

جلد5 lecture
239 الفاظ · 1 منٹ کا مطالعہ · Notes from Lectures and Discourses

یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ براہ کرم اصل انگریزی متن سے رجوع کریں۔

AI-translated. May contain errors. For accurate text, refer to the original English.

اردو

فنِ لطیف کے بارے میں

یونانی فنِ لطیف کا راز یہ ہے کہ وہ فطرت کی باریک سے باریک تفصیلات کی بھی تقلید کرتا ہے؛ جبکہ ہندوستانی فنِ لطیف کا راز یہ ہے کہ وہ آدرش (مثالی) کو پیش کرتا ہے۔ یونانی مصور کی ساری توانائی شاید ایک گوشتی ٹکڑے کو پینٹ کرنے میں صرف ہو جاتی ہے، اور وہ اس میں اتنا کامیاب ہو جاتا ہے کہ کتا دھوکا کھا کر اسے گوشت کا اصل ٹکڑا سمجھ کر کاٹنے لگتا ہے۔ اب محض فطرت کی تقلید میں کیا شان ہے؟ کتے کے سامنے گوشت کا اصل ٹکڑا کیوں نہیں رکھ دیتے؟

دوسری طرف ہندوستانی رجحان — یعنی آدرش کو، ماورائے حواس کو پیش کرنا — گھناؤنی تصاویر بنانے میں زوال کا شکار ہو گیا ہے۔ اب حقیقی فنِ لطیف کا موازنہ اس کنول کے پھول سے کیا جا سکتا ہے جو زمین سے اگتا ہے، زمین سے غذا حاصل کرتا ہے، زمین سے ہم رشتہ ہے، اور پھر بھی اس سے کہیں اوپر ہوتا ہے۔ پس فنِ لطیف کا فطرت سے رابطہ ہونا چاہیے — اور جہاں کہیں وہ رابطہ ٹوٹ جائے وہاں فن زوال پاتا ہے — لیکن اسے فطرت سے بلند بھی ہونا چاہیے۔

فنِ لطیف یہ ہے: خوبصورتی کو پیش کرنا۔ ہر چیز میں فن ہونا چاہیے۔

معماری اور محض تعمیر میں یہ فرق ہے کہ پہلی ایک خیال کا اظہار کرتی ہے جبکہ دوسری محض اقتصادی اصولوں پر کھڑی ایک عمارت ہے۔ مادے کی قدر و قیمت کا انحصار صرف اس کی خیالات کو بیان کرنے کی صلاحیتوں پر ہے۔

فنِ لطیف کی صلاحیت ہمارے آقا شری رام کرشن میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھی، اور وہ کہتے تھے کہ اس صلاحیت کے بغیر کوئی واقعی روحانی نہیں ہو سکتا۔

English

ON ART

The secret of Greek Art is its imitation of nature even to the minutest details; whereas the secret of Indian Art is to represent the ideal. The energy of the Greek painter is spent in perhaps painting a piece of flesh, and he is so successful that a dog is deluded into taking it to be a real bit of meat and so goes to bite it. Now, what glory is there in merely imitating nature? Why not place an actual bit of flesh before the dog?

The Indian tendency, on the other hand, to represent the ideal, the supersensual, has become degraded into painting grotesque images. Now, true Art can be compared to a lily which springs from the ground, takes its nourishment from the ground, is in touch with the ground, and yet is quite high above it. So Art must be in touch with nature — and wherever that touch is gone, Art degenerates — yet it must be above nature.

Art is — representing the beautiful. There must be Art in everything.

The difference between architecture and building is that the former expresses an idea, while the latter is merely a structure built on economical principles. The value of matter depends solely on its capacities of expressing ideas.

The artistic faculty was highly developed in our Lord Shri Ramakrishna, and he used to say that without this faculty none can be truly spiritual.


متن ویکی سورس عوامی ملکیت سے۔ اصل کو ادویت آشرم نے شائع کیا۔