ویویکانند آرکائیو

تیاری

جلد4 lecture
3,248 الفاظ · 13 منٹ کا مطالعہ · Addresses on Bhakti-Yoga

یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ براہ کرم اصل انگریزی متن سے رجوع کریں۔

AI-translated. May contain errors. For accurate text, refer to the original English.

اردو

تیاری

عشق (بھکتی یوگ) کی بہترین تعریف غالباً اِس شعر میں سمائی ہوئی ہے: «وہ نہ مٹنے والی محبت جو بے تمیز لوگ حواس کے فانی و زودگزر اشیا سے رکھتے ہیں، کبھی میرے اِس دل سے جدا نہ ہو — مجھ سے، جو تیری تلاش میں ہوں!» ہم دیکھتے ہیں کہ وہ انسان جنھیں اِس سے بہتر کچھ معلوم نہیں، حواس کی اشیا سے، مال و دولت سے، لباس سے، اپنی بیویوں، اولاد، دوستوں اور جائیداد سے کیسی شدید محبت رکھتے ہیں۔ اِن تمام چیزوں سے اُن کی کیسی زبردست وابستگی ہوتی ہے! چنانچہ بالا میں مذکور دعا میں عارف کہتا ہے، «میں وہی لگاؤ، وہی زبردست وابستگی صرف تجھ ہی سے رکھوں گا۔» یہی محبت جب خدا کو دی جاتی ہے، تو اُسے عشق کہتے ہیں۔ عشق تباہ کن نہیں ہے؛ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں جو قوتیں عطا ہوئی ہیں اُن میں سے کوئی بھی رائیگاں نہیں دی گئی، اور اُنھی کے ذریعے نجات تک پہنچنے کی فطری راہ ہے۔ عشق ہماری فطری رجحانات کو ختم نہیں کرتا، نہ یہ فطرت کے خلاف جاتا ہے، بلکہ صرف اُسے ایک بلند تر اور زیادہ طاقت ور رخ دیتا ہے۔ ہم حواس کی اشیا سے کس قدر فطری طور پر محبت کرتے ہیں! ہم ایسا کیے بغیر رہ ہی نہیں سکتے، کیونکہ وہ ہمارے لیے اِس قدر حقیقی ہیں۔ ہم عام طور پر بلند تر چیزوں میں کوئی حقیقی شے نہیں دیکھتے، لیکن جب کسی شخص نے حواس سے ماورا، حواس کی کائنات سے ماورا کوئی حقیقی شے دیکھ لی ہو، تو خیال یہ ہے کہ وہ ایک شدید لگاؤ رکھ سکتا ہے، بس اُسے اُس شے کی جانب منتقل کر دینا چاہیے جو حواس سے ماورا ہے، یعنی خدا کی جانب۔ اور جب وہی محبت جو پہلے حواس کی اشیا کو دی جاتی تھی خدا کو دی جائے، تو اُسے عشق کہتے ہیں۔ عارف رامانج کے مطابق، اُس شدید محبت کے حصول کے لیے درج ذیل تیاریاں درکار ہیں۔

پہلی چیز وِویک ہے۔ یہ ایک نہایت عجیب بات ہے، خاص طور پر مغرب کے لوگوں کے لیے۔ رامانج کے مطابق اِس کے معنی ہیں «خوراک کی تمیز»۔ خوراک میں وہ تمام توانائیاں موجود ہوتی ہیں جو ہمارے جسم و ذہن کی قوتوں کو تشکیل دیتی ہیں؛ وہ منتقل ہوئی، محفوظ ہوئی، اور میرے جسم میں اُسے نئی سمتیں دی گئیں، مگر میرے جسم و ذہن میں اُس خوراک سے جوہری طور پر کوئی فرق نہیں جو میں نے کھائی۔ جس طرح وہ قوت اور مادہ جو ہم مادی دنیا میں پاتے ہیں ہمارے اندر جسم و ذہن بن جاتے ہیں، اِسی طرح، جوہر کے اعتبار سے، جسم و ذہن اور اُس خوراک کے درمیان جو ہم کھاتے ہیں فرق صرف اظہار میں ہے۔ جب معاملہ یوں ہے کہ ہم اپنی خوراک کے مادی ذرّات سے فکر کا آلہ تعمیر کرتے ہیں، اور اِن ذرّات میں موجود لطیف تر قوتوں سے خود فکر کو ڈھالتے ہیں، تو فطری طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ فکر اور یہ آلہ دونوں اُس خوراک سے متاثر ہوں گے جو ہم لیتے ہیں۔ بعض قسم کی خوراک ذہن میں ایک خاص تبدیلی پیدا کرتی ہیں؛ ہم یہ روزانہ دیکھتے ہیں۔ کچھ اور قسمیں ہیں جو جسم میں تبدیلی پیدا کرتی ہیں، اور بالآخر ذہن پر زبردست اثر ڈالتی ہیں۔ یہ سیکھنا ایک عظیم بات ہے؛ ہم جو بہت سی مصیبت جھیلتے ہیں اُس کا بڑا حصہ اُس خوراک کی وجہ سے ہوتا ہے جو ہم لیتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ایک بھاری اور دیر ہضم کھانے کے بعد ذہن کو قابو میں رکھنا بہت دشوار ہوتا ہے؛ وہ بھاگتا رہتا ہے، ہر وقت بھاگتا رہتا ہے۔ کچھ غذائیں ایسی ہیں جو اشتعال انگیز ہوتی ہیں؛ اگر آپ ایسی غذا کھائیں، تو آپ پائیں گے کہ آپ ذہن کو قابو میں نہیں رکھ سکتے۔ یہ ظاہر ہے کہ بڑی مقدار میں شراب یا کوئی اور نشہ آور مشروب پینے کے بعد، انسان دیکھتا ہے کہ اُس کا ذہن قابو میں نہیں آتا؛ وہ اُس کے قابو سے نکل بھاگتا ہے۔

رامانج کے مطابق، خوراک میں تین چیزیں ایسی ہیں جن سے ہمیں اجتناب کرنا چاہیے۔ پہلی، جاتی ہے، یعنی خوراک کی فطرت یا نوع، جس پر غور کرنا چاہیے۔ تمام اشتعال انگیز خوراک سے پرہیز کرنا چاہیے، جیسے مثلاً گوشت؛ اِسے نہیں لینا چاہیے کیونکہ یہ اپنی فطرت ہی سے ناپاک ہے۔ ہم اِسے صرف کسی دوسرے کی جان لے کر ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمیں ایک لمحے کی لذت ملتی ہے، اور ایک اور مخلوق کو ہمیں وہ لذت دینے کے لیے اپنی جان دینی پڑتی ہے۔ نہ صرف یہ، بلکہ ہم دوسرے انسانوں کو بھی بداخلاق بناتے ہیں۔ یہ کہیں بہتر ہوتا کہ ہر وہ شخص جو گوشت کھاتا ہے خود جانور کو ذبح کرے؛ مگر اِس کے بجائے، معاشرہ اشخاص کا ایک طبقہ مقرر کرتا ہے کہ وہ اُن کے لیے یہ کام کریں، اور پھر یہی کام کرنے کی وجہ سے وہ اُن سے نفرت بھی کرتا ہے۔ انگلستان میں کوئی قصاب جیوری میں نہیں بیٹھ سکتا، خیال یہ ہے کہ وہ بہ فطرت سنگ دل ہوتا ہے۔ اُسے سنگ دل کون بناتا ہے؟ معاشرہ۔ اگر ہم گائے اور بھیڑ کا گوشت نہ کھاتے، تو کوئی قصاب ہی نہ ہوتا۔ گوشت کھانا صرف اُن لوگوں کے لیے جائز ہے جو بہت سخت محنت کرتے ہیں، اور جو بھکت (عاشقِ خدا) نہیں بننے والے؛ لیکن اگر آپ بھکت بننا چاہتے ہیں، تو آپ کو گوشت سے پرہیز کرنا چاہیے۔ نیز، تمام اشتعال انگیز غذائیں، جیسے پیاز، لہسن، اور تمام بدبودار خوراک، جیسے «ساؤرکراؤٹ»۔ ہر وہ خوراک جو کئی دن پڑی رہی ہو، یہاں تک کہ اُس کی حالت بدل جائے، ہر وہ خوراک جس کے فطری رس تقریباً سوکھ چکے ہوں، ہر وہ خوراک جو بدبودار ہو، اُس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

اگلی چیز جس پر خوراک کے سلسلے میں غور کرنا ہے وہ مغربی اذہان کے لیے اور بھی زیادہ پیچیدہ ہے — اور یہ وہ ہے جسے آشرے کہتے ہیں، یعنی وہ شخص جس کی طرف سے وہ آتی ہے۔ یہ ہندوؤں کا ایک خاصا اسرارآمیز نظریہ ہے۔ خیال یہ ہے کہ ہر انسان کے گرد ایک خاص ہالہ ہوتا ہے، اور وہ جس چیز کو بھی چھوتا ہے، اُس پر گویا اُس کے کردار کا ایک حصہ، اُس کا اثر، چھوٹ جاتا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ انسان کا کردار اُس سے گویا ایک طبیعی قوت کی طرح خارج ہوتا ہے، اور وہ جس چیز کو بھی چھوتا ہے اُس سے متاثر ہوتی ہے۔ چنانچہ ہمیں محتاط رہنا چاہیے کہ ہماری خوراک پکنے کے بعد اُسے کون چھوتا ہے؛ کسی بدکار یا بداخلاق شخص کو اُسے نہیں چھونا چاہیے۔ جو شخص بھکت بننا چاہتا ہے اُسے اُن لوگوں کے ساتھ کھانا نہیں کھانا چاہیے جنھیں وہ نہایت بدکار جانتا ہو، کیونکہ اُن کی آلودگی خوراک کے ذریعے آ جائے گی۔

پاکیزگی کی دوسری صورت جس کا خیال رکھنا ہے وہ نمت، یعنی آلات، ہے۔ خوراک میں میل اور دھول نہیں ہونی چاہیے۔ خوراک کو بازار سے لا کر بِلا دھوئے میز پر نہیں رکھنا چاہیے۔ ہمیں لعابِ دہن اور دیگر رطوبتوں کے بارے میں بھی محتاط رہنا چاہیے۔ مثلاً، انگلیوں سے ہونٹوں کو کبھی نہیں چھونا چاہیے۔ مخاطی جھلّی جسم کا نہایت نازک حصہ ہے، اور تمام رجحانات لعابِ دہن کے ذریعے نہایت آسانی سے منتقل ہو جاتے ہیں۔ اِس لیے اِس کا تماس نہ صرف ناگوار، بلکہ خطرناک بھی سمجھا جانا چاہیے۔ نیز، ہمیں ایسی خوراک نہیں کھانی چاہیے جس کا نصف حصہ پہلے ہی کوئی اور کھا چکا ہو۔ جب خوراک میں اِن چیزوں سے اجتناب کیا جاتا ہے، تو وہ پاک ہو جاتی ہے؛ پاک خوراک ایک پاک ذہن لاتی ہے، اور پاک ذہن میں خدا کی مسلسل یاد رہتی ہے۔

اب میں آپ کو یہی بات ایک اور شارح، شنکر آچاریہ کی وضاحت کے مطابق بتاتا ہوں، جو بالکل ایک دوسرا نقطۂ نظر اختیار کرتا ہے۔ سنسکرت میں خوراک کا یہ لفظ اُس مادے سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں جمع کرنا۔ آہار کے معنی ہیں «جو جمع کیا گیا»۔ اُس کی وضاحت کیا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ عبارت کہ جب خوراک پاک ہو تو ذہن پاک ہو جائے گا، دراصل اِس کا مطلب ہے کہ کہیں ہم حواس کے تابع نہ ہو جائیں، اِس لیے ہمیں درج ذیل سے اجتناب کرنا چاہیے: پہلے لگاؤ کے بارے میں؛ ہمیں خدا کے سوا کسی چیز سے بھی حد سے زیادہ لگاؤ نہیں رکھنا چاہیے۔ ہر چیز دیکھیے، ہر کام کیجیے، لیکن لگاؤ نہ رکھیے۔ جیسے ہی حد سے زیادہ لگاؤ آتا ہے، انسان خود کو کھو دیتا ہے، وہ اب اپنا مالک نہیں رہتا، وہ غلام ہے۔ اگر کوئی عورت کسی مرد سے زبردست لگاؤ رکھے، تو وہ اُس مرد کی غلام بن جاتی ہے۔ غلام بننے میں کوئی فائدہ نہیں۔ اِس دنیا میں کسی انسان کا غلام بننے سے بلند تر چیزیں موجود ہیں۔ ہر کسی سے محبت کیجیے اور بھلائی کیجیے، لیکن غلام نہ بنیے۔ سب سے پہلے، لگاؤ ہمیں انفرادی طور پر زوال پذیر کرتا ہے، اور دوسرے یہ کہ ہمیں حد سے زیادہ خود غرض بنا دیتا ہے۔ اِسی خامی کے باعث، ہم اُن لوگوں کی بھلائی کے لیے جن سے ہم محبت کرتے ہیں دوسروں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ اِس دنیا میں جو بہت سے بُرے کام کیے جاتے ہیں، وہ دراصل بعض اشخاص سے لگاؤ ہی کی وجہ سے کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ نیک اعمال سے لگاؤ کے سوا ہر لگاؤ سے اجتناب کرنا چاہیے؛ لیکن محبت ہر کسی کو دینی چاہیے۔ پھر حسد کے بارے میں۔ حواس کی اشیا کے سلسلے میں کوئی حسد نہیں ہونا چاہیے؛ حسد ہر برائی کی جڑ ہے، اور سب سے دشوار چیز ہے جسے فتح کیا جائے۔ اگلی چیز، فریب۔ ہم ہمیشہ ایک چیز کو دوسری سمجھ بیٹھتے ہیں، اور اُسی پر عمل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہم اپنے اوپر مصیبت لے آتے ہیں۔ ہم بُرے کو اچھا سمجھ بیٹھتے ہیں۔ جو چیز بھی ہمارے اعصاب کو ایک لمحے کے لیے گدگداتی ہے، ہم اُسے سب سے بڑی بھلائی سمجھ کر فوراً اُس میں کود پڑتے ہیں، مگر جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے تب پتا چلتا ہے کہ اُس نے ہمیں ایک زبردست ضرب لگائی ہے۔ ہر روز ہم اِسی غلطی میں جا گرتے ہیں، اور اکثر ساری عمر اِسی میں لگے رہتے ہیں۔ جب حواس، حد سے زیادہ لگاؤ کے بغیر، حسد کے بغیر، یا فریب کے بغیر، دنیا میں کام کرتے ہیں، تو ایسا کام یا تاثرات کا ایسا مجموعہ، شنکر آچاریہ کے مطابق، پاک خوراک کہلاتا ہے۔ جب پاک خوراک لی جاتی ہے، تو ذہن اشیا کو قبول کرنے اور لگاؤ، حسد یا فریب کے بغیر اُن کے بارے میں سوچنے کے قابل ہو جاتا ہے؛ پھر ذہن پاک ہو جاتا ہے، اور پھر اُس ذہن میں خدا کی مسلسل یاد رہتی ہے۔

یہ کہنا بالکل فطری ہے کہ شنکر کا مفہوم بہترین ہے، لیکن میں یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ کسی کو رامانج کی تفسیر کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ صرف اُسی وقت باقی سب کچھ آتا ہے جب آپ حقیقی مادی خوراک کا خیال رکھتے ہیں۔ یہ بالکل سچ ہے کہ ذہن مالک ہے، لیکن ہم میں سے بہت کم ایسے ہیں جو حواس کے پابند نہ ہوں۔ ہم سب مادے کے زیرِ تسلط ہیں؛ اور جب تک ہم یوں زیرِ تسلط ہیں، ہمیں مادی سہاروں کو لینا ہی پڑے گا؛ اور پھر، جب ہم طاقت ور ہو جائیں، تو ہم جو چاہیں کھا یا پی سکتے ہیں۔ ہمیں خوراک اور مشروب کا خیال رکھنے میں رامانج کی پیروی کرنی ہوگی؛ اور ساتھ ہی ہمیں اپنی ذہنی خوراک کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔ مادی خوراک کا خیال رکھنا بہت آسان ہے، لیکن اِس کے ساتھ ذہنی محنت بھی چلنی چاہیے؛ پھر بتدریج ہماری روحانی ذات زیادہ سے زیادہ طاقت ور ہوتی جائے گی، اور طبیعی ذات کم خودسر ہوتی جائے گی۔ پھر خوراک آپ کو مزید کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ہر شخص بلند ترین نصب العین تک ایک ہی چھلانگ میں پہنچنا چاہتا ہے، مگر چھلانگ لگانا راہ نہیں ہے۔ اِس کا انجام صرف گرنے پر ہوتا ہے۔ ہم یہاں جکڑے ہوئے ہیں، اور ہمیں اپنی زنجیریں آہستہ آہستہ توڑنی ہیں۔ اِسی کو وِویک، یعنی تمیز، کہتے ہیں۔

اگلی چیز وموک کہلاتی ہے، یعنی خواہشات سے آزادی۔ جو شخص خدا سے محبت کرنا چاہتا ہے اُسے انتہائی خواہشات سے نجات پانی چاہیے، خدا کے سوا کسی چیز کی خواہش نہ کرے۔ یہ دنیا اُسی حد تک اچھی ہے جس حد تک یہ کسی کو بلند تر دنیا کی طرف جانے میں مدد دیتی ہے۔ حواس کی اشیا اُسی حد تک اچھی ہیں جس حد تک وہ ہمیں بلند تر اشیا حاصل کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ہم ہمیشہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا ایک مقصد کا ذریعہ ہے، نہ کہ خود بذاتِ خود ایک مقصد۔ اگر یہی مقصد ہوتا تو ہم یہاں اپنے طبیعی جسم میں لافانی ہوتے؛ ہم کبھی نہ مرتے۔ مگر ہم ہر لمحے اپنے گرد لوگوں کو مرتے دیکھتے ہیں، اور پھر بھی، بے وقوفی سے، ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کبھی نہ مریں گے؛ اور اِسی یقین سے ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہی زندگی منزل ہے۔ ہم میں سے ننانوے فیصد کا یہی حال ہے۔ اِس تصور کو فوراً ترک کر دینا چاہیے۔ یہ دنیا اُسی حد تک اچھی ہے جس حد تک یہ خود کو کامل بنانے کا ذریعہ ہے؛ اور جیسے ہی یہ ایسا ہونا چھوڑ دیتی ہے، یہ شر ہے۔ چنانچہ بیوی، شوہر، اولاد، مال اور علم اُسی وقت تک اچھے ہیں جب تک وہ ہمیں آگے بڑھنے میں مدد دیتے ہیں؛ لیکن جیسے ہی وہ ایسا کرنا چھوڑ دیتے ہیں، وہ شر کے سوا کچھ نہیں رہتے۔ اگر بیوی ہمیں خدا تک پہنچنے میں مدد دے، تو وہ ایک اچھی بیوی ہے؛ یہی حال شوہر یا اولاد کا ہے۔ اگر مال کسی انسان کو دوسروں کی بھلائی کرنے میں مدد دے، تو اُس کی کچھ قدر ہے؛ لیکن اگر نہیں، تو یہ محض شر کا ایک ڈھیر ہے، اور جتنی جلدی اُس سے نجات پا لی جائے، اُتنا ہی بہتر ہے۔

اگلی چیز ابھیاس، یعنی مشق، ہے۔ ذہن کو ہمیشہ خدا کی جانب جانا چاہیے۔ کسی اور چیز کو اُسے روکنے کا کوئی حق نہیں۔ اُسے مسلسل خدا کا خیال کرنا چاہیے، اگرچہ یہ ایک نہایت دشوار کام ہے؛ پھر بھی یہ مستقل مشق سے انجام پا سکتا ہے۔ ہم اِس وقت جو کچھ ہیں، وہ ہماری گزشتہ مشق کا نتیجہ ہے۔ نیز، مشق ہی ہمیں وہ بناتی ہے جو ہم آئندہ بنیں گے۔ پس دوسری راہ پر مشق کیجیے؛ ایک طرف مڑنے نے ہمیں اِس راہ پر لا کھڑا کیا ہے، دوسری طرف مڑیے اور جتنی جلد ہو سکے اِس سے باہر نکل آئیے۔ حواس کا خیال کرنے نے ہمیں یہاں نیچے لا گرایا ہے — کہ ایک لمحے روئیں، اگلے لمحے خوش ہوں، ہر ہوا کے جھونکے کے رحم و کرم پر ہوں، ہر چیز کے غلام ہوں۔ یہ شرم ناک ہے، اور پھر بھی ہم خود کو روح کہتے ہیں۔ دوسری راہ پر چلیے، خدا کا خیال کیجیے؛ ذہن کو کسی طبیعی یا ذہنی لذت کا نہیں، بلکہ صرف خدا کا خیال کرنے دیجیے۔ جب وہ کسی اور چیز کا خیال کرنے کی کوشش کرے، تو اُسے ایک کرارا تھپڑ لگائیے، تاکہ وہ پلٹ کر خدا کا خیال کرے۔ جیسے ایک برتن سے دوسرے میں اُنڈیلا گیا تیل ایک نہ ٹوٹنے والی لکیر میں گرتا ہے، جیسے دور سے آتی گھنٹیوں کی آواز کان پر ایک مسلسل صدا کی طرح پڑتی ہے، اِسی طرح ذہن کو خدا کی جانب ایک مسلسل دھارے میں بہنا چاہیے۔ ہمیں یہ مشق صرف ذہن پر ہی عائد نہیں کرنی چاہیے، بلکہ حواس کو بھی کام میں لانا چاہیے۔ احمقانہ باتیں سننے کے بجائے، ہمیں خدا کے بارے میں سننا چاہیے؛ احمقانہ الفاظ بولنے کے بجائے، ہمیں خدا کی بات کرنی چاہیے۔ احمقانہ کتابیں پڑھنے کے بجائے، ہمیں اچھی کتابیں پڑھنی چاہئیں جو خدا کی بات کرتی ہیں۔

خدا کو یاد میں رکھنے کی اِس مشق میں سب سے بڑا سہارا غالباً موسیقی ہے۔ خداوند، عشق کے عظیم استاد نارد سے کہتا ہے، «میں نہ آسمان میں رہتا ہوں، نہ یوگی کے دل میں رہتا ہوں، بلکہ جہاں میرے عاشق میری ثنا گاتے ہیں، وہیں میں ہوں۔» موسیقی کو انسانی ذہن پر اِس قدر زبردست طاقت حاصل ہے؛ یہ اُسے ایک لمحے میں یکسوئی پر لے آتی ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ کند، جاہل، پست، حیوان نما انسان، جو دوسرے اوقات میں اپنے ذہن کو ایک لمحے کے لیے بھی قائم نہیں رکھتے، جب وہ دل کش موسیقی سنتے ہیں، تو فوراً مسحور اور یکسو ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ جانوروں کے ذہن، جیسے کتّے، شیر، بلیاں اور سانپ بھی موسیقی سے مسحور ہو جاتے ہیں۔

اگلی چیز کریا، یعنی عمل، ہے — دوسروں کی بھلائی کرنا۔ خدا کی یاد خود غرض انسان کو نصیب نہیں ہوگی۔ جتنا ہم باہر نکل کر دوسروں کی بھلائی کریں گے، اُتنا ہی ہمارے دل پاک ہوں گے، اور خدا اُن میں ہوگا۔ ہمارے صحیفوں کے مطابق، عمل کی پانچ اقسام ہیں، جنھیں پنج گُنا قربانی کہتے ہیں۔ پہلی، مطالعہ۔ انسان کو ہر روز کوئی مقدس اور نیک چیز پڑھنی چاہیے۔ دوسری، خدا، فرشتوں یا اولیا کی عبادت، جیسا بھی موقع ہو۔ تیسری، اپنے آبا و اجداد کے ساتھ ہمارا فرض۔ چوتھی، انسانوں کے ساتھ ہمارا فرض۔ انسان کو خود کسی گھر میں رہنے کا اُس وقت تک کوئی حق نہیں، جب تک وہ غریبوں کے لیے بھی، یا کسی بھی ضرورت مند کے لیے، گھر نہ بنائے۔ گھر بار والے کا گھر ہر اُس شخص کے لیے کھلا ہونا چاہیے جو غریب اور دکھی ہو؛ تب ہی وہ ایک حقیقی گھر بار والا ہے۔ اگر وہ گھر صرف اپنے اور اپنی بیوی کے لطف کے لیے بنائے، تو وہ کبھی خدا کا عاشق نہیں ہوگا۔ کسی انسان کو صرف اپنے لیے خوراک پکانے کا حق نہیں؛ یہ دوسروں کے لیے ہے، اور اُسے وہ لینا چاہیے جو باقی بچے۔ ہندوستان میں یہ ایک عام رواج ہے کہ جب موسم کی پیداوار، جیسے اسٹرابیریاں یا آم، پہلی بار بازار میں آتی ہیں، تو ایک شخص اُن میں سے کچھ خریدتا ہے اور غریبوں کو دیتا ہے۔ پھر وہ اُن میں سے کھاتا ہے؛ اور اِس ملک میں پیروی کرنے کے لیے یہ ایک نہایت عمدہ مثال ہے۔ یہ تربیت انسان کو بے غرض بنائے گی، اور ساتھ ہی، اُس کی بیوی اور اولاد کے لیے ایک بہترین عملی سبق ہوگی۔ قدیم زمانے میں عبرانی پہلے پھل خدا کو دیا کرتے تھے۔ ہر چیز کا پہلا حصہ غریبوں کو جانا چاہیے؛ ہمارا حق صرف اُسی پر ہے جو باقی بچے۔ غریب خدا کے نمائندے ہیں؛ ہر وہ شخص جو دکھ جھیلتا ہے اُسی کا نمائندہ ہے۔ بغیر دیے، جو کھاتا ہے اور کھانے سے لطف اندوز ہوتا ہے، وہ گناہ سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ پانچویں، پست جانوروں کے ساتھ ہمارا فرض۔ یہ کہنا شیطانی ہے کہ تمام جانور انسان کے لیے پیدا کیے گئے ہیں کہ وہ اُنھیں مار ڈالے اور جیسے چاہے استعمال کرے۔ یہ شیطان کی انجیل ہے، خدا کی نہیں۔ ذرا سوچیے کہ یہ کتنا شیطانی ہے کہ اُنھیں چیر پھاڑ کر یہ دیکھا جائے کہ جسم کے ایک خاص حصے میں کوئی عصب پھڑکتا ہے یا نہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ہمارے ملک میں ہندو ایسی چیزوں کی حمایت نہیں کرتے، خواہ اُنھیں اُس غیرملکی حکومت سے، جس کے وہ زیرِ نگیں ہیں، کتنی ہی حوصلہ افزائی کیوں نہ ملے۔ گھر میں پکائی گئی خوراک کا ایک حصہ جانوروں کا بھی ہوتا ہے۔ اُنھیں ہر روز خوراک دینی چاہیے؛ اِس ملک کے ہر شہر میں غریب، لنگڑے یا اندھے گھوڑوں، گایوں، کتّوں اور بلیوں کے لیے اسپتال ہونے چاہئیں، جہاں اُنھیں کھلایا اور اُن کی دیکھ بھال کی جائے۔

پھر کلیان، یعنی پاکیزگی، ہے، جو درج ذیل پر مشتمل ہے: ستیہ، یعنی سچائی۔ جو سچا ہے، اُس کے پاس سچائی کا خدا آتا ہے۔ فکر، قول اور عمل بالکل سچے ہونے چاہئیں۔ پھر آرجو، یعنی راست بازی، سیدھائی۔ اِس لفظ کے معنی ہیں سادہ ہونا، دل میں کوئی کجی نہ ہو، کوئی دوہرا پن نہ ہو۔ خواہ تھوڑا سخت ہی کیوں نہ ہو، سیدھی راہ چلیے، کج روی سے نہیں۔ دیا، یعنی ترس، رحم۔ اہنسا، یعنی کسی بھی ہستی کو فکر، قول یا عمل سے نقصان نہ پہنچانا۔ دان، یعنی خیرات۔ خیرات سے بلند تر کوئی فضیلت نہیں۔ سب سے پست انسان وہ ہے جس کا ہاتھ لیتے ہوئے اپنی طرف سمٹتا ہے؛ اور سب سے بلند انسان وہ ہے جس کا ہاتھ دیتے ہوئے باہر کی طرف بڑھتا ہے۔ ہاتھ ہمیشہ دینے کے لیے بنایا گیا تھا۔ روٹی کا آخری ٹکڑا بھی دے دیجیے خواہ آپ خود فاقے میں ہوں۔ اگر آپ دوسرے کو دے کر خود کو بھوکا مار ڈالیں، تو آپ ایک لمحے میں آزاد ہو جائیں گے۔ آپ فوراً کامل ہو جائیں گے، آپ خدا بن جائیں گے۔ جن لوگوں کے بچے ہوتے ہیں وہ پہلے ہی بندھے ہوئے ہیں۔ وہ دے نہیں سکتے۔ وہ اپنے بچوں سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں، اور اُنھیں اِس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ کیا دنیا میں پہلے ہی کافی بچے نہیں ہیں؟ یہ صرف خود غرضی ہے جو کہتی ہے، «میں اپنے لیے ایک بچہ رکھوں گا۔»

اگلی چیز انوسادہ ہے — یعنی مایوس نہ ہونا، خوش دلی۔ مایوسی دین نہیں ہے، خواہ وہ اور کچھ بھی ہو۔ ہمیشہ خوش گوار اور مسکراتے رہنے سے، یہ آپ کو خدا کے قریب لے جاتی ہے، کسی بھی دعا سے زیادہ قریب۔ وہ اذہان جو افسردہ اور کند ہیں محبت کیسے کر سکتے ہیں؟ اگر وہ محبت کی بات کرتے ہیں، تو یہ جھوٹ ہے؛ وہ دوسروں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ متعصبوں کے بارے میں سوچیے؛ وہ سب سے لمبے چہرے بناتے ہیں، اور اُن کا سارا دین قول و فعل میں دوسروں سے لڑنا ہے۔ سوچیے کہ اُنھوں نے ماضی میں کیا کیا ہے، اور اگر اُنھیں آج کھلا ہاتھ مل جائے تو وہ کیا کریں۔ اگر اُنھیں طاقت مل جائے تو وہ کل ہی ساری دنیا کو خون میں ڈبو دیں۔ طاقت کی پرستش کر کے اور لمبے چہرے بنا کر، وہ اپنے دلوں سے محبت کا ہر ذرّہ کھو بیٹھتے ہیں۔ چنانچہ وہ انسان جو ہمیشہ خود کو بدبخت محسوس کرتا ہے کبھی خدا تک نہیں پہنچے گا۔ یہ کہنا کہ «میں اِس قدر بدبخت ہوں» دین نہیں، بلکہ شیطانیت ہے۔ ہر انسان کو اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوتا ہے۔ اگر آپ بدبخت ہیں، تو خوش رہنے کی کوشش کیجیے، اِس پر فتح پانے کی کوشش کیجیے۔

خدا تک کمزور لوگ نہیں پہنچ سکتے۔ کبھی کمزور نہ بنیے۔ آپ کو طاقت ور ہونا چاہیے؛ آپ کے اندر لامحدود طاقت موجود ہے۔ ورنہ آپ کسی چیز کو کیسے فتح کریں گے؟ ورنہ آپ خدا تک کیسے پہنچیں گے؟ ساتھ ہی آپ کو حد سے زیادہ خوش طبعی سے بھی اجتناب کرنا چاہیے، اُدھرش، جیسا کہ اِسے کہتے ہیں۔ اِس حالت میں ذہن کبھی پُرسکون نہیں ہوتا؛ یہ متلوّن مزاج ہو جاتا ہے۔ حد سے زیادہ خوش طبعی کے پیچھے ہمیشہ غم آتا ہے۔ آنسو اور قہقہہ قریبی رشتے دار ہیں۔ لوگ اکثر ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف بھاگتے ہیں۔ ذہن کو خوش دل رہنے دیجیے، مگر پُرسکون۔ اُسے کبھی افراط میں نہ جانے دیجیے، کیونکہ ہر افراط کے پیچھے ایک ردِ عمل آتا ہے۔

رامانج کے مطابق، یہی عشق کی تیاریاں ہیں۔

English

THE PREPARATION

The best definition given of Bhakti-Yoga is perhaps embodied in the verse: "May that love undying which the non-discriminating have for the fleeting objects of the senses never leave this heart of mine — of me who seek after Thee!" We see what a strong love men, who do not know any better, have for sense-objects, for money, dress, their wives, children, friends, and possessions. What a tremendous clinging they have to all these things! So in the above prayer the sage says, "I will have that attachment, that tremendous clinging, only to Thee." This love, when given to God, is called Bhakti. Bhakti is not destructive; it teaches us that no one of the faculties we have has been given in vain, that through them is the natural way to come to liberation. Bhakti does not kill out our tendencies, it does not go against nature, but only gives it a higher and more powerful direction. How naturally we love objects of the senses! We cannot but do so, because they are so real to us. We do not ordinarily see anything real about higher things, but when a man has seen something real beyond the senses, beyond the universe of senses, the idea is that he can have a strong attachment, only it should be transferred to the object beyond the senses, which is God. And when the same kind of love that has before been given to sense-objects is given to God, it is called Bhakti. According to the sage Râmânuja, the following are the preparations for getting that intense love.

The first is Viveka. It is a very curious thing, especially to people of the West. It means, according to Ramanuja, "discrimination of food". Food contains all the energies that go to make up the forces of our body and mind; it has been transferred, and conserved, and given new directions in my body, but my body and mind have nothing essentially different from the food that I ate. Just as the force and matter we find in the material world become body and mind in us, so, essentially, the difference between body and mind and the food we eat is only in manifestation. It being so, that out of the material particles of our food we construct the instrument of thought, and that from the finer forces lodged in these particles we manufacture thought itself, it naturally follows, that both this thought and the instrument will be modified by the food we take. There are certain kinds of food that produce a certain change in the mind; we see it every day. There are other sorts which produce a change in the body, and in the long run have a tremendous effect on the mind. It is a great thing to learn; a good deal of the misery we suffer is occasioned by the food we take. You find that after a heavy and indigestible meal it is very hard to control the mind; it is running, running all the time. There are certain foods which are exciting; if you eat such food, you find that you cannot control the mind. It is obvious that after drinking a large quantity of wine, or other alcoholic beverage, a man finds that his mind would not be controlled; it runs away from his control.

According to Ramanuja, there are three things in food we must avoid. First, there is Jâti, the nature, or species of the food, that must be considered. All exciting food should be avoided, as meat, for instance; this should not be taken because it is by its very nature impure. We can get it only by taking the life of another. We get pleasure for a moment, and another creature has to give up its life to give us that pleasure. Not only so, but we demoralise other human beings. It would be rather better if every man who eats meat killed the animal himself; but, instead of doing so, society gets a class of persons to do that business for them, for doing which, it hates them. In England no butcher can serve on a jury, the idea being that he is cruel by nature. Who makes him cruel? Society. If we did not eat beef and mutton, there would be no butchers. Eating meat is only allowable for people who do very hard work, and who are not going to be Bhaktas; but if you are going to be Bhaktas, you should avoid meat. Also, all exciting foods, such as onions, garlic, and all evil-smelling food, as "sauerkraut". Any food that has been standing for days, till its condition is changed, any food whose natural juices have been almost dried ups any food that is malodorous, should be avoided.

The next thing that is to be considered as regards food is still more intricate to Western minds — it is what is called Âshraya, i.e. the person from whom it comes This is rather a mysterious theory of the Hindus. The idea is that each man has a certain aura round him, and whatever thing he touches, a part of his character, as it were, his influence, is left on it. It is supposed that a man's character emanates from him, as it were, like a physical force, and whatever he touches is affected by it. So we must take care who touches our food when it is cooked; a wicked or immoral person must not touch it. One who wants to be a Bhakta must not dine with people whom he knows to be very wicked, because their infection will come through the food.

The other form of purity to be observed is Nimitta, or instruments. Dirt and dust must not be in food. Food should not be brought from the market and placed on the table unwashed. We must be careful also about the saliva and other secretions. The lips ought never, for instance, to be touched with the fingers. The mucous membrane is the most delicate part of the body, and all tendencies are conveyed very easily by the saliva. Its contact, therefore, is to be regarded as not only offensive, but dangerous. Again, we must not eat food, half of which has been eaten by someone else. When these things are avoided in food, it becomes pure; pure food brings a pure mind, and in a pure mind is a constant memory of God.

Let me tell you the same thing as explained by another commentator, Shankarâchârya, who takes quite another view. This word for food, in Sanskrit, is derived from the root, meaning to gather. Âhâra means "gathered in". What is his explanation? He says, the passage that when food is pure the mind will become pure really means that lest we become subject to the senses we should avoid the following: First as to attachment; we must not be extremely attached to anything excepting God. See everything, do everything, but be not attached. As soon as extreme attachment comes, a man loses himself, he is no more master of himself, he is a slave. If a woman is tremendously attached to a man, she becomes a slave to that man. There is no use in being a slave. There are higher things in this world than becoming a slave to a human being. Love and do good to everybody, but do not become a slave. In the first place, attachment degenerates us, individually, and in the second place, makes us extremely selfish. Owing to this failing, we want to injure others to do good to those we love. A good many of the wicked deeds done in this world are really done through attachment to certain persons. So all attachment excepting that for good works should be avoided; but love should be given to everybody. Then as to jealousy. There should be no jealousy in regard to objects of the senses; jealousy is the root of all evil, and a most difficult thing to conquer. Next, delusion. We always take one thing for another, and act upon that, with the result that we bring misery upon ourselves. We take the bad for the good. Anything that titillates our nerves for a moment we think; as the highest good, and plunge into it immediately, but find, when it is too late, that it has given us a tremendous blow. Every day, we run into this error, and we often continue in it all our lives. When the senses, without being extremely attached, without jealousy, or without delusion, work in the world, such work or collection of impressions is called pure food, according to Shankaracharya. When pure food is taken, the mind is able to take in objects and think about them without attachment, jealousy or delusion; then the mind becomes pure, and then there is constant memory of God in that mind.

It is quite natural for one to say that Shankara's meaning is the best, but I wish to add that one should not neglect Ramanuja's interpretation either. It is only when you take care of the real material food that the rest will come. It is very true that mind is the master, but very few of us are not bound by the senses. We are all controlled by matter; and as long as we are so controlled, we must take material aids; and then, when we have become strong, we can eat or drink anything we like. We have to follow Ramanuja in taking care about food and drink; at the same time we must also take care about our mental food. It is very easy to take care about material food, but mental work must go along with it; then gradually our spiritual self will become stronger and stronger, and the physical self less assertive. Then will food hurt you no more. The great danger is that every man wants to jump at the highest ideal, but jumping is not the way. That ends only in a fall. We are bound down here, and we have to break our chains slowly. This is called Viveka, discrimination.

The next is called Vimoka, freedom from desires. He who wants to love God must get rid of extreme desires, desire nothing except God. This world is good so far as it helps one to go to the higher world. The objects of the senses are good so far as they help us to attain higher objects. We always forget that this world is a means to an end, and not an end itself. If this were the end we should be immortal here in our physical body; we should never die. But we see people every moment dying around us, and yet, foolishly, we think we shall never die; and from that conviction we come to think that this life is the goal. That is the case with ninety-nine per cent of us. This notion should be given up at once. This world is good so far as it is a means to perfect ourselves; and as soon as it has ceased to be so, it is evil. So wife, husband, children, money and learning, are good so long as they help us forward; but as soon as they cease to do that, they are nothing but evil. If the wife help us to attain God, she is a good wife; so with a husband or a child. If money help a man to do good to others, it is of some value; but if not, it is simply a mass of evil, and the sooner it is got rid of, the better.

The next is Abhyâsa, practice. The mind should always go towards God. No other things have any right to withhold it. It should continuously think of God, though this is a very hard task; yet it can be done by persistent practice. What we are now is the result of our past practice. Again, practice makes us what we shall be. So practice the other way; one sort of turning round has brought us this way, turn the other way and get out of it as soon as you can. Thinking of the senses has brought us down here — to cry one moment, to rejoice the next, to be at the mercy of every breeze, slave to everything. This is shameful, and yet we call ourselves spirits. Go the other way, think of God; let the mind not think of any physical or mental enjoyment, but of God alone. When it tries to think of anything else, give it a good blow, so that it may turn round and think of God. As oil poured from one vessel to another falls in an unbroken line, as chimes coming from a distance fall upon the ear as one continuous sound, so should the mind flow towards God in one continuous stream. We should not only impose this practice on the mind, but the senses too should be employed. Instead of hearing foolish things, we must hear about God; instead of talking foolish words, we must talk of God. Instead of reading foolish books, we must read good ones which tell of God.

The greatest aid to this practice of keeping God in memory is, perhaps, music. The Lord says to Nârada, the great teacher of Bhakti, "I do not live in heaven, nor do I live in the heart of the Yogi, but where My devotees sing My praise, there am I". Music has such tremendous power over the human mind; it brings it to concentration in a moment. You will find the dull, ignorant, low, brute-like human beings, who never steady their mind for a moment at other times, when they hear attractive music, immediately become charmed and concentrated. Even the minds of animals, such as dogs, lions, cats, and serpents, become charmed with music.

The next is Kriyâ, work — doing good to others. The memory of God will not come to the selfish man. The more we come out and do good to others, the more our hearts will be purified, and God will be in them. According to our scriptures, there are five sorts of work, called the fivefold sacrifice. First, study. A man must study every day something holy and good. Second, worship of God, angels, or saints, as it may be. Third, our duty to our forefathers. Fourth, our duty to human beings. Man has no right to live in a house himself, until he builds for the poor also, or for anybody who needs it. The householder's house should be open to everybody that is poor and suffering; then he is a real householder. If he builds a house only for himself and his wife to enjoy, he will never be a lover of God. No man has the right to cook food only for himself; it is for others, and he should have what remains. It is a common practice in India that when the season's produce first comes into the market, such as strawberries or mangoes, a man buys some of them and gives to the poor. Then he eats of them; and it is a very good example to follow in this country. This training will make a man unselfish, and at the same time, be an excellent object-lesson to his wife and children. The Hebrews in olden times used to give the first fruits to God. The first of everything should go to the poor; we have only a right to what remains. The poor are God's representatives; anyone that suffers is His representative. Without giving, he who eats and enjoys eating, enjoys sin. Fifth, our duty to the lower animals. It is diabolical to say that all animals are created for men to be killed and used in any way man likes. It is the devil's gospel, not God's. Think how diabolical it is to cut them up to see whether a nerve quivers or not, in a certain part of the body. I am glad that in our country such things are not countenanced by the Hindus, whatever encouragement they may get from the foreign government they are under. One portion of the food cooked in a household belongs to the animals also. They should be given food every day; there ought to be hospitals in every city in this country for poor, lame, or blind horses, cows, dogs, and cats, where they should be fed and taken care of.

Then there is Kalyâna, purity, which comprises the following: Satya, truthfulness. He who is true, unto him the God of truth comes. Thought, word, and deed should be perfectly true. Next Ârjava, straightforwardness, rectitude. The word means, to be simple, no crookedness in the heart, no double-dealing. Even if it is a little harsh, go straightforward, and not crookedly. Dayâ, pity, compassion. Ahimsâ, not injuring any being by thought, word, or deed. Dâna, charity. There is no higher virtue than charity. The lowest man is he whose hand draws in, in receiving; and he is the highest man whose hand goes out in giving. The hand was made to give always. Give the last bit of bread you have even if you are starving. You will be free in a moment if you starve yourself to death by giving to another. Immediately you will be perfect, you will become God. People who have children are bound already. They cannot give away. They want to enjoy their children, and they must pay for it. Are there not enough children in the world? It is only selfishness which says, "I'll have a child for myself".

The next is Anavasâda — not desponding, cheerfulness. Despondency is not religion, whatever else it may be. By being pleasant always and smiling, it takes you nearer to God, nearer than any prayer. How can those minds that are gloomy and dull love? If they talk of love, it is false; they want to hurt others. Think of the fanatics; they make the longest faces, and all their religion is to fight against others in word and act. Think of what they have done in the past, and of what they would do now if they were given a free hand. They would deluge the whole world in blood tomorrow if it would bring them power. By worshipping power and making long faces, they lose every bit of love from their hearts. So the man who always feels miserable will never come to God. It is not religion, it is diabolism to say, "I am so miserable." Every man has his own burden to bear. If you are miserable, try to be happy, try to conquer it.

God is not to be reached by the weak. Never be weak. You must be strong; you have infinite strength within you. How else will you conquer anything? How else will you come to God? At the same time you must avoid excessive merriment, Uddharsha, as it is called. A mind in that state never becomes calm; it becomes fickle. Excessive merriment will always be followed by sorrow. Tears and laughter are near kin. People so often run from one extreme to the other. Let the mind be cheerful, but calm. Never let it run into excesses, because every excess will be followed by a reaction.

These, according to Ramanuja, are the preparations for Bhakti.


متن ویکی سورس عوامی ملکیت سے۔ اصل کو ادویت آشرم نے شائع کیا۔