ویویکانند آرکائیو

تخلیق کا گیت

جلد4 poem
316 الفاظ · 1 منٹ کا مطالعہ · Translations: Poems

یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ براہ کرم اصل انگریزی متن سے رجوع کریں۔

AI-translated. May contain errors. For accurate text, refer to the original English.

اردو

تخلیق کا گیت

(بنگالی سے ترجمہ شدہ)

ایک ہی وحدت، جو صورت، نام اور رنگ سے بے نیاز،

زمان سے ماورا، گزرے اور آنے والے وقت سے بے نیاز،

مکان سے ماورا، بے آواز، لامحدود، ہر شے سے بے نیاز—

جہاں نفی کا کلام تک خاموش ہو کر سکون پاتا ہے۔

وہیں سے، نیچے کی جانب بہتا ہے علّت کا دریا،

تابناک آرزو کی صورت اوڑھے ہوئے،

اِس کی موجزن لہریں غضب ناک ہو کر گرجتی ہیں

وہ مسلسل گرج، «میں ہوں»، «میں ہوں»۔

اُس آرزو کے لامحدود سمندر میں،

ظاہر ہوتی ہیں چمکتی لہریں، بے شمار، لا انتہا،

آہ، وہ کس قدر گوناگوں طاقت کی مالک ہیں،

کس قدر بے شمار صورتوں کی، کس قدر سکون کی،

کس قدر متنوع حرکتوں کی، کون اُن کا شمار کر سکے؟

لاکھوں چاند، لاکھوں سورج،

اُسی سمندر میں جنم لیتے ہوئے،

پُرشور ہنگامے کے ساتھ سر کے بل لپکتے ہوئے،

سارے فلک پر چھا جاتے ہیں، ڈبو دیتے ہیں

آسمان کے کناروں کو تابندہ روشنی میں۔

اِس میں اٹھتے اور بستے ہیں جانے کون سے موجودات،

زندگی سے سرشار، کند، اور بے جان—بے شمار،

اور لذت و رنج، بیماری، پیدائش، اور موت!

بے شک، سورج وہی ہے، اُسی کی شعاع ہے،

نہیں بلکہ، سورج وہی ہے، اور وہی شعاع ہے۔

ایک ہی وحدت، جو صورت، نام اور رنگ سے بے نیاز،

زمان سے ماورا، گزرے اور آنے والے وقت سے بے نیاز،

مکان سے ماورا، بے آواز، لامحدود، ہر شے سے بے نیاز—

جہاں نفی کا کلام تک خاموش ہو کر سکون پاتا ہے۔

وہیں سے، نیچے کی جانب بہتا ہے علّت کا دریا،

تابناک آرزو کی صورت اوڑھے ہوئے،

اِس کی موجزن لہریں غضب ناک ہو کر گرجتی ہیں

وہ مسلسل گرج، «میں ہوں»، «میں ہوں»۔

اُس آرزو کے لامحدود سمندر میں،

ظاہر ہوتی ہیں چمکتی لہریں، بے شمار، لا انتہا،

آہ، وہ کس قدر گوناگوں طاقت کی مالک ہیں،

کس قدر بے شمار صورتوں کی، کس قدر سکون کی،

کس قدر متنوع حرکتوں کی، کون اُن کا شمار کر سکے؟

لاکھوں چاند، لاکھوں سورج،

اُسی سمندر میں جنم لیتے ہوئے،

پُرشور ہنگامے کے ساتھ سر کے بل لپکتے ہوئے،

سارے فلک پر چھا جاتے ہیں، ڈبو دیتے ہیں

آسمان کے کناروں کو تابندہ روشنی میں۔

اِس میں اٹھتے اور بستے ہیں جانے کون سے موجودات،

زندگی سے سرشار، کند، اور بے جان—بے شمار،

اور لذت و رنج، بیماری، پیدائش، اور موت!

بے شک، سورج وہی ہے، اُسی کی شعاع ہے،

نہیں بلکہ، سورج وہی ہے، اور وہی شعاع ہے۔

حواشی

English

THE HYMN OF CREATION

(Rendered from Bengali)

One Mass, devoid of form, name, and colour,

Timeless, devoid of time past and future,

Spaceless, voiceless, boundless, devoid of all—

Where rests hushed even speech of negation.

From thence, down floweth the river causal,

Wearing the form of desire radiant,

Its heaving waters angrily roaring

The constant roar, "I am", "I am".

In that ocean of desire limitless,

Appear shining waves, countless, infinite,

Oh, of what power manifold they are,

Of what forms myriad, of what repose,

Of what movements varied, who can reckon?

Millions of moons, millions of suns,

Taking their birth in that very ocean,

Rushing headlong with din tumultuous,

Overspread the whole firmament, drowning

The points of heaven in light effulgent.

In it arise and reside what beings,

Quick with life, dull, and lifeless—unnumbered,

And pleasure and pain, disease, birth, and death!

Verily, the Sun is He, His the ray,

Nay, the Sun is He, and He is the ray.

One Mass, devoid of form, name, and colour,

Timeless, devoid of time past and future,

Spaceless, voiceless, boundless, devoid of all—

Where rests hushed even speech of negation.

From thence, down floweth the river causal,

Wearing the form of desire radiant,

Its heaving waters angrily roaring

The constant roar, "I am", "I am".

In that ocean of desire limitless,

Appear shining waves, countless, infinite,

Oh, of what power manifold they are,

Of what forms myriad, of what repose,

Of what movements varied, who can reckon?

Millions of moons, millions of suns,

Taking their birth in that very ocean,

Rushing headlong with din tumultuous,

Overspread the whole firmament, drowning

The points of heaven in light effulgent.

In it arise and reside what beings,

Quick with life, dull, and lifeless—unnumbered,

And pleasure and pain, disease, birth, and death!

Verily, the Sun is He, His the ray,

Nay, the Sun is He, and He is the ray.

Notes


متن ویکی سورس عوامی ملکیت سے۔ اصل کو ادویت آشرم نے شائع کیا۔