ویویکانند آرکائیو

دنیا کے عظیم اساتذہ

جلد4 lecture
5,313 الفاظ · 21 منٹ کا مطالعہ · Lectures and Discourses

یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ براہ کرم اصل انگریزی متن سے رجوع کریں۔

AI-translated. May contain errors. For accurate text, refer to the original English.

اردو

دنیا کے عظیم معلّمین

(شیکسپیئر کلب، پسادینا، کیلیفورنیا میں ۳ فروری ۱۹۰۰ء کو دیا گیا خطاب)

ہندوؤں کے نظریے کے مطابق کائنات موجوں کی صورت میں ادوار کے اندر رواں دواں ہے۔ یہ اُٹھتی ہے، اپنے نقطۂ عروج کو پہنچتی ہے، پھر گرتی ہے اور گویا کچھ عرصے کے لیے نشیب میں ٹھہر جاتی ہے، تاکہ ایک بار پھر اُٹھے، اور یوں موج کے بعد موج اور زوال کے بعد زوال کا یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ جو بات کائنات کے بارے میں سچ ہے، وہی اُس کے ہر جزو کے بارے میں بھی سچ ہے۔ انسانی معاملات کا سفر اِسی طرح کا ہے۔ قوموں کی تاریخ بھی اِسی طرح کی ہے: وہ اُٹھتی ہیں اور وہ گرتی ہیں؛ عروج کے بعد زوال آتا ہے، اور پھر زوال میں سے زیادہ بڑی قوت کے ساتھ ایک نیا عروج جنم لیتا ہے۔ یہ حرکت ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ مذہبی دنیا میں بھی یہی حرکت موجود ہے۔ ہر قوم کی روحانی زندگی میں عروج کے ساتھ ساتھ زوال بھی ہے۔ قوم نیچے چلی جاتی ہے، اور ہر چیز پارہ پارہ ہوتی معلوم ہوتی ہے۔ پھر وہ دوبارہ قوت حاصل کرتی ہے، اُٹھتی ہے؛ ایک عظیم موج آتی ہے، کبھی کبھی ایک طوفانی موج — اور موج کی سب سے بلند چوٹی پر ہمیشہ ایک تابندہ روح ہوتی ہے، یعنی پیغام بر۔ وہ باری باری خالق بھی ہوتا ہے اور مخلوق بھی، وہی وہ تحریک ہے جو موج کو اُٹھاتی ہے، قوم کو اُٹھاتی ہے: اور اُسی وقت وہ خود بھی اُنہی قوتوں کی پیداوار ہے جو اِس موج کو جنم دیتی ہیں، جہاں عمل اور ردِّعمل باری باری وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے پر اپنی زبردست قوت صرف کرتا ہے؛ اور معاشرہ اُسے وہ بناتا ہے جو وہ ہے۔ یہی دنیا کے عظیم مفکر ہیں۔ یہی دنیا کے انبیا ہیں، زندگی کے پیغام بر ہیں، خدا کے اوتار ہیں۔

انسان کے ذہن میں یہ خیال ہے کہ صرف ایک ہی مذہب ہو سکتا ہے، کہ صرف ایک ہی نبی ہو سکتا ہے، اور کہ صرف ایک ہی اوتار ہو سکتا ہے؛ لیکن یہ خیال درست نہیں۔ اِن تمام عظیم پیغام بروں کی زندگیوں کا مطالعہ کرنے پر ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ایک کو، گویا، ایک کردار ادا کرنے کے لیے مقدّر کیا گیا تھا، اور صرف ایک کردار؛ اور یہ کہ ہم آہنگی مجموعے میں مضمر ہے، نہ کہ کسی ایک سُر میں۔ جیسا کہ نسلوں کی زندگی میں ہے — کوئی نسل اِس لیے پیدا نہیں ہوتی کہ تنہا دنیا سے لطف اندوز ہو۔ کوئی اِس سے انکار کی جرأت نہیں کر سکتا۔ ہر نسل کو قوموں کی اِس الٰہی ہم آہنگی میں ایک کردار ادا کرنا ہے۔ ہر نسل کا اپنا ایک مشن ہے جسے انجام دینا ہے، اپنا ایک فرض ہے جسے پورا کرنا ہے۔ مجموعہ ہی عظیم ہم آہنگی ہے۔

پس اِن میں سے کوئی نبی اِس لیے پیدا نہیں ہوا کہ دنیا پر ہمیشہ کے لیے حکومت کرے۔ ابھی تک نہ کوئی اِس میں کامیاب ہوا ہے اور نہ کوئی ہمیشہ کے لیے حکمران بننے والا ہے۔ ہر ایک محض ایک حصے کا اضافہ کرتا ہے؛ اور جہاں تک اُس حصے کا تعلق ہے، یہ سچ ہے کہ بالآخر ہر نبی دنیا اور اُس کی تقدیروں پر حکومت کرے گا۔

ہم میں سے اکثر پیدائشی طور پر کسی شخصی مذہب کے قائل ہوتے ہیں۔ ہم اصولوں کی بات کرتے ہیں، ہم نظریات کے بارے میں سوچتے ہیں، اور یہ سب درست ہے؛ لیکن ہمارا ہر خیال اور ہر حرکت، ہمارے اعمال میں سے ہر ایک یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کسی اصول کو صرف اُسی وقت سمجھ سکتے ہیں جب وہ کسی شخص کے ذریعے ہم تک پہنچے۔ ہم کسی خیال کو صرف اُسی وقت گرفت میں لے سکتے ہیں جب وہ کسی متشکّل و مجسّم آدرشی شخص کے ذریعے ہم تک آئے۔ ہم ضابطے کو صرف نمونے کے ذریعے سمجھ سکتے ہیں۔ کاش خدا کرے کہ ہم سب اِس قدر ترقی یافتہ ہوتے کہ ہمیں کسی نمونے کی، کسی شخص کی ضرورت ہی نہ رہتی۔ مگر ہم ایسے نہیں ہیں؛ اور قدرتی طور پر بنی نوع انسان کی عظیم اکثریت نے اپنی روحیں اِن غیرمعمولی شخصیات کے قدموں میں رکھ دی ہیں، یعنی انبیا، خدا کے اوتار — وہ اوتار جن کی پرستش عیسائیوں نے، بدھ مت کے پیروکاروں نے، اور ہندوؤں نے کی ہے۔ مسلمان ابتدا ہی سے ایسی کسی پرستش کے خلاف کھڑے رہے۔ وہ انبیا یا پیغام بروں کی پرستش، یا اُنہیں کسی قسم کی تعظیم پیش کرنے سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہتے تھے؛ لیکن عملاً ایک نبی کے بجائے ہزاروں ہزار اولیا کی پرستش کی جا رہی ہے۔ ہم حقائق کے خلاف نہیں جا سکتے! ہم شخصیات کی پرستش کرنے پر مجبور ہیں، اور یہ اچھا ہے۔ اپنے عظیم نبی کے اُس قول کو یاد رکھیے جو اِس سوال کے جواب میں تھا: ”اے پروردگار، ہمیں باپ کو دکھائیے“، ”جس نے مجھے دیکھا، اُس نے باپ کو دیکھ لیا۔“ ہم میں سے کون اُس کے بارے میں اِس کے سوا کچھ تصوّر کر سکتا ہے کہ وہ ایک انسان ہے؟ ہم اُسے صرف انسانیت کے اندر اور انسانیت کے ذریعے ہی دیکھ سکتے ہیں۔ روشنی کا ارتعاش اِس کمرے میں ہر جگہ موجود ہے: انسان اِسے ہر جگہ کیوں نہیں دیکھ سکتا؟ آپ کو اِسے صرف اُس چراغ میں دیکھنا پڑتا ہے۔ خدا ایک ہمہ گیر و حاضر اصول ہے — ہر جگہ موجود: لیکن ہم اِس وقت اِس طرح تشکیل پائے ہوئے ہیں کہ ہم اُسے صرف کسی انسانی خدا کے اندر اور اُس کے ذریعے ہی دیکھ سکتے ہیں، محسوس کر سکتے ہیں۔ اور جب یہ عظیم انوار آتے ہیں، تب انسان خدا کا ادراک کرتا ہے۔ اور وہ ہم سے مختلف انداز میں آتے ہیں جس انداز میں ہم آتے ہیں۔ ہم بھکاریوں کی مانند آتے ہیں؛ وہ شہنشاہوں کی مانند آتے ہیں۔ ہم یہاں یتیموں کی طرح آتے ہیں، اُن لوگوں کی طرح جو اپنا راستہ گم کر چکے ہیں اور اِس سے بے خبر ہیں۔ ہم کیا کریں؟ ہم نہیں جانتے کہ ہماری زندگیوں کا کیا مطلب ہے۔ ہم اِس کا ادراک نہیں کر سکتے۔ آج ہم ایک کام کر رہے ہیں، کل کوئی اور۔ ہم پانی میں اِدھر اُدھر ہچکولے کھاتے ہوئے تنکوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی مانند ہیں، اُن پروں کی مانند جو کسی طوفان میں اُڑتے پھرتے ہیں۔

لیکن بنی نوع انسان کی تاریخ میں آپ دیکھیں گے کہ یہ پیغام بر آتے ہیں، اور یہ کہ اُن کی پیدائش ہی سے اُن کا مشن دریافت اور متشکّل ہو جاتا ہے۔ پورا منصوبہ وہاں موجود ہوتا ہے، طے شدہ؛ اور آپ دیکھتے ہیں کہ وہ اُس سے ایک انچ بھی نہیں ہٹتے۔ چونکہ وہ ایک مشن کے ساتھ آتے ہیں، وہ ایک پیغام کے ساتھ آتے ہیں، اِس لیے وہ استدلال کرنا نہیں چاہتے۔ کیا آپ نے کبھی اِن عظیم معلّمین یا انبیا کے بارے میں سنا یا پڑھا کہ اُنہوں نے جو کچھ سکھایا اُس پر استدلال کیا ہو؟ نہیں، اُن میں سے کسی ایک نے بھی ایسا نہیں کیا۔ وہ براہِ راست بولتے ہیں۔ وہ استدلال کیوں کریں؟ وہ سچائی کو دیکھتے ہیں۔ اور وہ نہ صرف اُسے دیکھتے ہیں بلکہ اُسے دکھاتے بھی ہیں! اگر آپ مجھ سے پوچھیں، ”کیا کوئی خدا ہے؟“ اور میں کہوں ”ہاں“، تو آپ فوراً ایسا کہنے کی میری دلیلیں طلب کریں گے، اور بے چارے مجھے آپ کے لیے کوئی دلیل فراہم کرنے کی خاطر اپنی ساری قوتیں صرف کرنی پڑیں گی۔ اگر آپ مسیح کے پاس آتے اور کہتے، ”کیا کوئی خدا ہے؟“ تو وہ کہتے، ”ہاں“؛ اور اگر آپ پوچھتے، ”کیا کوئی ثبوت ہے؟“ تو وہ جواب دیتے، ”دیکھو پروردگار کو!“ اور یوں، آپ دیکھتے ہیں، یہ ایک براہِ راست ادراک ہے، اور بالکل بھی عقل کا استدلال نہیں۔ یہاں اندھیرے میں ٹٹولنا نہیں، بلکہ براہِ راست بصیرت کی قوت ہے۔ میں اِس میز کو دیکھتا ہوں؛ کوئی بھی استدلال یہ یقین مجھ سے نہیں چھین سکتا۔ یہ ایک براہِ راست ادراک ہے۔ ایسا ہی اُن کا یقین ہے — اپنے آدرشوں پر یقین، اپنے مشن پر یقین، اور سب سے بڑھ کر، اپنے آپ پر یقین۔ یہ عظیم تابندہ ہستیاں اپنے آپ پر اِس طرح یقین رکھتی ہیں جس طرح کوئی اور کبھی نہیں رکھتا۔ لوگ کہتے ہیں، ”کیا آپ خدا پر یقین رکھتے ہیں؟ کیا آپ آئندہ زندگی پر یقین رکھتے ہیں؟ کیا آپ اِس عقیدے یا اُس مسلک پر یقین رکھتے ہیں؟“ لیکن یہاں بنیاد ہی غائب ہے: یعنی اپنے آپ پر یہ یقین۔ ہاں، جو شخص اپنے آپ پر یقین نہیں رکھ سکتا، اُس سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ کسی اور چیز پر یقین رکھے گا؟ مجھے اپنے وجود کا بھی یقین نہیں۔ ایک لمحے میں سوچتا ہوں کہ میں موجود ہوں اور کوئی چیز مجھے فنا نہیں کر سکتی؛ اگلے ہی لمحے میں موت کے خوف سے کانپ رہا ہوتا ہوں۔ ایک منٹ میں سوچتا ہوں کہ میں لافانی ہوں؛ اگلے ہی منٹ کوئی بھوت نمودار ہوتا ہے، اور پھر مجھے معلوم نہیں رہتا کہ میں کیا ہوں، نہ یہ کہ میں کہاں ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں زندہ ہوں یا مردہ۔ ایک لمحے میں سوچتا ہوں کہ میں روحانی ہوں، کہ میں بااخلاق ہوں؛ اور اگلے ہی لمحے ایک ضرب پڑتی ہے، اور میں چِت گرا دیا جاتا ہوں۔ اور کیوں؟ — میں نے اپنے آپ پر یقین کھو دیا ہے، میری اخلاقی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے۔

لیکن اِن عظیم معلّمین میں آپ ہمیشہ یہ نشانی پائیں گے: کہ اُنہیں اپنے آپ پر شدید یقین ہوتا ہے۔ ایسا شدید یقین بے مثال ہے، اور ہم اِسے سمجھ نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معلّمین اپنے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں، اُسے ہم طرح طرح سے تاویل کر کے بے معنی بنانے کی کوشش کرتے ہیں؛ اور لوگ بیس ہزار نظریے ایجاد کرتے ہیں تاکہ اُس کی تشریح کر سکیں جو وہ اپنے ادراک کے بارے میں کہتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو اُسی طرح نہیں سوچتے، اور قدرتی طور پر ہم اُنہیں سمجھ نہیں سکتے۔

پھر، جب وہ بولتے ہیں، تو دنیا سننے پر مجبور ہوتی ہے۔ جب وہ بولتے ہیں، تو ہر لفظ براہِ راست ہوتا ہے؛ وہ بم کے گولے کی طرح پھٹتا ہے۔ لفظ میں کیا رکھا ہے، جب تک اُس کے پیچھے قوت نہ ہو؟ اِس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ کون سی زبان بولتے ہیں، اور آپ اپنی زبان کو کیسے ترتیب دیتے ہیں؟ اِس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ درست قواعد کے ساتھ بولتے ہیں یا عمدہ بلاغت کے ساتھ؟ اِس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ کی زبان آراستہ ہے یا نہیں؟ سوال یہ ہے کہ آیا آپ کے پاس دینے کے لیے کچھ ہے یا نہیں۔ یہ دینے اور لینے کا معاملہ ہے، نہ کہ محض سننے کا۔ کیا آپ کے پاس دینے کے لیے کچھ ہے؟ — یہ پہلا سوال ہے۔ اگر ہے، تو دیجیے۔ الفاظ تو محض عطیے کو منتقل کرتے ہیں: یہ تو بہت سے طریقوں میں سے محض ایک ہے۔ کبھی کبھی ہم بالکل بھی نہیں بولتے۔ ایک قدیم سنسکرت شعر ہے جو کہتا ہے، ”میں نے معلّم کو ایک درخت کے نیچے بیٹھے دیکھا۔ وہ سولہ برس کا ایک نوجوان تھا، اور شاگرد اسّی برس کا ایک بوڑھا تھا۔ معلّم کی تعلیم خاموشی تھی، اور شاگرد کے شکوک رخصت ہو گئے۔“

کبھی کبھی وہ بالکل نہیں بولتے، پھر بھی وہ سچائی کو ایک ذہن سے دوسرے ذہن تک پہنچا دیتے ہیں۔ وہ دینے کے لیے آتے ہیں۔ وہ حکم دیتے ہیں، وہ پیغام بر ہیں؛ آپ کو وہ حکم وصول کرنا ہے۔ کیا آپ کو اپنے ہی صحیفوں میں وہ اختیار یاد نہیں جس کے ساتھ عیسیٰ بولتے ہیں؟ ”پس آپ جائیے اور سب قوموں کو شاگرد بنائیے . . . اور اُنہیں سکھائیے کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جن کا میں نے آپ کو حکم دیا ہے۔“ اُن کے تمام اقوال میں اپنے ہی پیغام پر وہی زبردست یقین جاری و ساری ہے۔ یہ آپ کو اِن تمام عظیم ہستیوں کی زندگیوں میں ملے گا جنہیں دنیا اپنے انبیا کے طور پر پوجتی ہے۔

یہ عظیم معلّمین اِس زمین پر زندہ خدا ہیں۔ ہم اور کس کی پرستش کریں؟ میں اپنے ذہن میں خدا کا کوئی تصوّر قائم کرنے کی کوشش کرتا ہوں، اور پاتا ہوں کہ میں کیسی جھوٹی اور حقیر چیز تصوّر کرتا ہوں؛ اُس خدا کی پرستش کرنا گناہ ہو گا۔ میں اپنی آنکھیں کھولتا ہوں اور زمین کی اِن عظیم ہستیوں کی حقیقی زندگی کو دیکھتا ہوں۔ وہ خدا کے اُس ہر تصوّر سے بلند ہیں جو میں کبھی تشکیل دے سکتا ہوں۔ کیونکہ مجھ جیسا انسان رحم کا کیا تصوّر تشکیل دے سکتا ہے جو کسی شخص کے میری کوئی چیز چرانے پر اُس کے پیچھے پڑ جائے اور اُسے جیل بھیج دے؟ اور بخشش کا میرا بلند ترین تصوّر کیا ہو سکتا ہے؟ اپنی ذات سے آگے کچھ نہیں۔ آپ میں سے کون اپنے ہی جسم سے باہر چھلانگ لگا سکتا ہے؟ آپ میں سے کون اپنے ہی ذہن سے باہر چھلانگ لگا سکتا ہے؟ آپ میں سے کوئی ایک بھی نہیں۔ آپ الٰہی محبت کا کیا تصوّر تشکیل دے سکتے ہیں سوائے اُس کے جو آپ درحقیقت جیتے ہیں؟ جس کا ہمیں کبھی تجربہ ہی نہیں ہوا، اُس کا ہم کوئی تصوّر تشکیل نہیں دے سکتے۔ پس خدا کا تصوّر تشکیل دینے کی میری تمام بہترین کوششیں ہر صورت میں ناکام ہو جائیں گی۔ اور یہاں سادہ حقائق ہیں، نہ کہ تصوّریت — محبت، رحم اور پاکیزگی کے حقیقی حقائق، جن کا میں تصوّر تک نہیں کر سکتا۔ پھر کیا حیرت کہ میں اِن انسانوں کے قدموں میں گر جاؤں اور اُن کی خدا کی طرح پرستش کروں؟ اور کوئی اور کر بھی کیا سکتا ہے؟ میں اُس شخص کو دیکھنا چاہوں گا جو اِس کے سوا کچھ اور کر سکتا ہو، خواہ وہ کتنی ہی باتیں کیوں نہ کرے۔ باتیں کرنا حقیقت نہیں۔ خدا اور لاشخصی کے بارے میں، اور اِس اور اُس کے بارے میں باتیں کرنا سب بہت اچھا ہے؛ لیکن یہی انسان نما خدا تمام قوموں اور تمام نسلوں کے حقیقی خدا ہیں۔ اِن الٰہی انسانوں کی پرستش کی جاتی رہی ہے اور اُس وقت تک کی جاتی رہے گی جب تک انسان، انسان ہے۔ اِسی میں ہمارا یقین ہے، اِسی میں کسی حقیقت کی ہماری اُمید ہے۔ محض ایک تصوّفی اصول کا کیا فائدہ!

جو کچھ مجھے آپ سے کہنا ہے، اُس کا مقصد اور منشا یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں یہ ممکن پایا ہے کہ اِن سب کی پرستش کروں، اور اُن سب کے لیے بھی تیار رہوں جو ابھی آنے والے ہیں۔ ایک ماں اپنے بیٹے کو کسی بھی لباس میں پہچان لیتی ہے جس میں وہ اُس کے سامنے آئے؛ اور اگر کوئی ایسا نہ کرے، تو مجھے یقین ہے کہ وہ اُس شخص کی ماں ہی نہیں۔ اب، جہاں تک آپ میں سے اُن لوگوں کا تعلق ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ آپ سچائی، الوہیت اور خدا کو دنیا میں صرف ایک نبی میں سمجھتے ہیں، کسی اور میں نہیں، تو قدرتی طور پر میں جو نتیجہ اخذ کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ کسی میں بھی الوہیت کو نہیں سمجھتے؛ آپ نے محض الفاظ نگل لیے ہیں اور خود کو ایک فرقے کے ساتھ منسوب کر لیا ہے، بالکل اُسی طرح جیسے آپ پارٹی کی سیاست میں رائے کے ایک معاملے کے طور پر کرتے ہیں؛ لیکن یہ بالکل بھی مذہب نہیں۔ اِس دنیا میں کچھ احمق ایسے ہیں جو کھاری پانی استعمال کرتے ہیں حالانکہ قریب ہی عمدہ میٹھا پانی موجود ہے، کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ کھاری پانی کا کنواں اُن کے باپ نے کھودا تھا۔ اب، اپنے مختصر تجربے میں، میں نے یہ علم جمع کیا ہے — کہ جس قدر شیطانیت کا الزام مذہب پر دھرا جاتا ہے، اُس میں مذہب کا بالکل بھی قصور نہیں: کسی مذہب نے کبھی انسانوں کو نہیں ستایا، کسی مذہب نے کبھی جادوگرنیوں کو نہیں جلایا، کسی مذہب نے کبھی اِن میں سے کوئی کام نہیں کیا۔ پھر لوگوں کو اِن کاموں پر کس چیز نے اُکسایا؟ سیاست نے، مگر مذہب نے کبھی نہیں؛ اور اگر ایسی سیاست مذہب کا نام اختیار کر لیتی ہے تو یہ کس کا قصور ہے؟

پس جب ہر شخص کھڑا ہو کر کہتا ہے ”میرا نبی ہی واحد سچا نبی ہے“، تو وہ درست نہیں — وہ مذہب کے الف سے بھی واقف نہیں۔ مذہب نہ تو گفتار ہے، نہ نظریہ، نہ ذہنی رضامندی۔ یہ ہمارے دلوں کی گہرائی میں ادراک ہے؛ یہ خدا کو چھونا ہے؛ یہ محسوس کرنا ہے، یہ ادراک کرنا ہے کہ میں ایک روح ہوں جو عالمگیر روح اور اُس کے تمام عظیم مظاہر کے ساتھ رشتے میں ہے۔ اگر آپ واقعی باپ کے گھر میں داخل ہو چکے ہیں، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ نے اُس کے بچوں کو دیکھا ہو اور اُنہیں نہ پہچانا ہو؟ اور اگر آپ اُنہیں نہیں پہچانتے، تو آپ باپ کے گھر میں داخل ہی نہیں ہوئے۔ ماں اپنے بچے کو کسی بھی لباس میں پہچان لیتی ہے اور خواہ وہ کتنا ہی بھیس بدلے، اُسے پہچان لیتی ہے۔ ہر دور اور ہر ملک کے تمام عظیم، روحانی مردوں اور عورتوں کو پہچانیے، اور دیکھیے کہ وہ درحقیقت ایک دوسرے سے متضاد نہیں۔ جہاں کہیں بھی حقیقی مذہب رہا ہے — یعنی الٰہی کا یہ لمس، روح کا الٰہی کے ساتھ براہِ راست حسّی رابطے میں آنا — وہاں ہمیشہ ذہن میں ایک کشادگی پیدا ہوئی ہے جو اُسے ہر جگہ روشنی دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اب، کچھ مسلمان اِس معاملے میں نہایت خام اور سب سے زیادہ فرقہ پرست ہیں۔ اُن کا نعرہ یہ ہے: ”ایک خدا ہے، اور محمد اُس کے رسول ہیں۔“ اِس سے آگے ہر چیز نہ صرف بُری ہے، بلکہ اُسے فوراً تباہ کر دیا جانا چاہیے؛ ایک لمحے کی اطلاع پر، ہر وہ مرد یا عورت جو بعینہٖ اِس پر یقین نہ رکھے، اُسے قتل کر دیا جانا چاہیے؛ ہر وہ چیز جو اِس پرستش سے تعلق نہ رکھے، اُسے فوراً توڑ دیا جانا چاہیے؛ ہر وہ کتاب جو کوئی اور چیز سکھائے، اُسے جلا دیا جانا چاہیے۔ بحرالکاہل سے بحرِ اوقیانوس تک، پانچ سو برس تک ساری دنیا میں خون بہتا رہا۔ یہ ہے اسلام کا یہ روپ! اِس کے باوجود اِن مسلمانوں کے درمیان، جہاں کہیں کوئی فلسفی منش انسان رہا، وہ یقیناً اِن سفّاکیوں کے خلاف احتجاج کرتا رہا۔ اِس میں اُس نے الٰہی کا لمس ظاہر کیا اور سچائی کے ایک جزو کا ادراک کیا؛ وہ اپنے مذہب کے ساتھ کھلواڑ نہیں کر رہا تھا؛ کیونکہ وہ اپنے باپ کے مذہب کی بات نہیں کر رہا تھا، بلکہ ایک مرد کی طرح براہِ راست سچ بول رہا تھا۔

ارتقا کے جدید نظریے کے شانہ بہ شانہ ایک اور چیز بھی ہے: یعنی رجعت۔ ہم میں مذہب کے پرانے خیالات کی طرف لوٹ جانے کا رجحان موجود ہے۔ آئیے کچھ نیا سوچیں، خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔ ایسا کرنا بہتر ہے۔ آپ نشانے پر تیر مارنے کی کوشش کیوں نہ کریں؟ ہم ناکامیوں کے ذریعے زیادہ دانا ہوتے ہیں۔ وقت لامحدود ہے۔ دیوار کو دیکھیے۔ کیا دیوار نے کبھی جھوٹ بولا؟ وہ ہمیشہ دیوار ہی رہتی ہے۔ انسان جھوٹ بولتا ہے — اور خدا بھی بن جاتا ہے۔ کچھ کرنا بہتر ہے؛ کوئی پروا نہیں اگر یہ غلط بھی ثابت ہو، یہ کچھ نہ کرنے سے بہتر ہے۔ گائے کبھی جھوٹ نہیں بولتی، مگر وہ ہر وقت گائے ہی رہتی ہے۔ کچھ کیجیے! کوئی خیال سوچیے؛ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ درست ہیں یا غلط۔ مگر کچھ تو سوچیے! چونکہ میرے آبا و اجداد نے اِس طرح نہیں سوچا، تو کیا میں چپ چاپ بیٹھ جاؤں اور رفتہ رفتہ اپنی حسّیات اور اپنی فکری قوتیں کھو دوں؟ تب تو میں مردہ ہونا ہی بہتر سمجھوں گا! اور زندگی کس کام کی اگر ہمارے پاس مذہب کے بارے میں کوئی زندہ خیالات، کوئی اپنے ذاتی یقین نہ ہوں؟ ملحدوں کے لیے کچھ اُمید ہے، کیونکہ اگرچہ وہ دوسروں سے مختلف ہیں، تاہم وہ اپنے لیے سوچتے ہیں۔ جو لوگ اپنے لیے کبھی کچھ نہیں سوچتے، وہ ابھی مذہب کی دنیا میں پیدا ہی نہیں ہوئے؛ اُن کا وجود محض جیلی مچھلی جیسا ہے۔ وہ سوچیں گے نہیں؛ اُنہیں مذہب کی پروا نہیں۔ لیکن منکر، ملحد کو پروا ہے، اور وہ جدوجہد کر رہا ہے۔ پس کچھ سوچیے! خدا کی طرف جدوجہد کیجیے! کوئی پروا نہیں اگر آپ ناکام ہوں، کوئی پروا نہیں اگر آپ کسی عجیب نظریے کو تھام لیں۔ اگر آپ کو عجیب کہلانے کا ڈر ہے، تو اِسے اپنے ذہن میں رکھیے — آپ کو جا کر اِس کی تبلیغ دوسروں کے سامنے کرنے کی ضرورت نہیں۔ مگر کچھ کیجیے! خدا کی طرف جدوجہد کیجیے! روشنی آنی ہی چاہیے۔ اگر کوئی شخص میری زندگی کے ہر دن مجھے کھلائے، تو بالآخر میں اپنے ہاتھوں کا استعمال کھو بیٹھوں گا۔ بھیڑوں کے گلّے کی طرح ایک دوسرے کی پیروی کرنے کا نتیجہ روحانی موت ہے۔ بے عملی کا نتیجہ موت ہے۔ سرگرم رہیے؛ اور جہاں کہیں سرگرمی ہے، وہاں اختلاف لازماً ہونا چاہیے۔ اختلاف زندگی کا چٹخارہ ہے؛ یہ ہر چیز کا حُسن ہے، یہ ہر چیز کا فن ہے۔ اختلاف ہی یہاں ہر چیز کو خوبصورت بناتا ہے۔ یہ تنوّع ہی ہے جو زندگی کا سرچشمہ ہے، زندگی کی نشانی ہے۔ ہم اِس سے کیوں ڈریں؟

اب ہم اِس مقام پر پہنچ رہے ہیں جہاں ہم انبیا کے بارے میں سمجھ سکیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخی شہادت یہ ہے — مذہب میں جیلی مچھلی جیسے وجود کو الگ رکھتے ہوئے — کہ جہاں کہیں کوئی حقیقی فکر رہی ہے، خدا کے لیے کوئی حقیقی محبت رہی ہے، وہاں روح خدا کی طرف بڑھی ہے اور اُسے گویا گاہے گاہے ایک جھلک ملی ہے، وہ براہِ راست ادراک میں آئی ہے، خواہ ایک لمحے کے لیے، خواہ اپنی زندگی میں صرف ایک بار۔ فوراً ہی، ”تمام شکوک ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتے ہیں، اور دل کی ساری کجی سیدھی ہو جاتی ہے، اور تمام بندھن غائب ہو جاتے ہیں، اور عمل اور کرما کے نتائج اُڑ جاتے ہیں جب وہ دیکھ لیا جاتا ہے جو قریب ترین کا قریب ترین اور دور ترین کا دور ترین ہے۔“ یہ ہے مذہب، یہی مذہب کا کل ہے؛ باقی سب محض نظریہ، عقیدہ، اور اُس براہِ راست ادراک کی حالت تک پہنچنے کے بے شمار طریقے ہیں۔ اب ہم ٹوکری پر لڑ رہے ہیں جبکہ پھل خندق میں جا گرے ہیں۔

اگر دو آدمی مذہب کے بارے میں جھگڑیں، تو بس اُن سے یہ سوال پوچھیے: ”کیا آپ نے خدا کو دیکھا ہے؟ کیا آپ نے یہ چیزیں دیکھی ہیں؟“ ایک آدمی کہتا ہے کہ مسیح ہی واحد نبی ہیں: اچھا، کیا اُس نے مسیح کو دیکھا ہے؟ ”کیا آپ کے باپ نے اُنہیں دیکھا ہے؟“ ”نہیں، جناب۔“ ”کیا آپ کے دادا نے اُنہیں دیکھا ہے؟“ ”نہیں، جناب۔“ ”کیا آپ نے اُنہیں دیکھا ہے؟“ ”نہیں، جناب۔“ ”تو آپ کس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟ پھل تو خندق میں جا گرے ہیں، اور آپ ٹوکری پر جھگڑ رہے ہیں!“ سمجھدار مردوں اور عورتوں کو اِس طرح جھگڑتے رہنے پر شرمندہ ہونا چاہیے!

یہ عظیم پیغام بر اور انبیا عظیم اور سچے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہر ایک کوئی عظیم خیال سکھانے آیا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان کے انبیا کو لیجیے۔ وہ بانیانِ مذہب میں سب سے قدیم ہیں۔ ہم سب سے پہلے کرشن کو لیتے ہیں۔ آپ جنہوں نے گیتا پڑھی ہے، پوری کتاب میں دیکھتے ہیں کہ واحد خیال بے تعلقی کا ہے۔ غیرمتعلق رہیے۔ دل کی محبت صرف ایک ہی کا حق ہے۔ کس کا؟ اُس کا جو کبھی نہیں بدلتا۔ وہ ایک کون ہے؟ وہ خدا ہے۔ یہ غلطی نہ کیجیے کہ اپنا دل کسی بدلتی چیز کو دے دیں، کیونکہ یہ مصیبت ہے۔ آپ اِسے کسی انسان کو دے سکتے ہیں؛ لیکن اگر وہ مر جائے، تو نتیجہ مصیبت ہے۔ آپ اِسے کسی دوست کو دے سکتے ہیں، لیکن وہ کل آپ کا دشمن بن سکتا ہے۔ اگر آپ اِسے اپنے شوہر کو دیں، تو وہ کسی روز آپ سے جھگڑ سکتا ہے۔ آپ اِسے اپنی بیوی کو دے سکتے ہیں، اور وہ پرسوں مر سکتی ہے۔ اب، دنیا اِسی طرح چل رہی ہے۔ پس کرشن گیتا میں کہتے ہیں: پروردگار ہی واحد ہے جو کبھی نہیں بدلتا۔ اُس کی محبت کبھی ناکام نہیں ہوتی۔ ہم جہاں کہیں بھی ہوں اور جو کچھ بھی کریں، وہ ہمیشہ ہمیشہ وہی رحیم، وہی محبت کرنے والا دل ہے۔ وہ کبھی نہیں بدلتا، وہ کبھی ناراض نہیں ہوتا، خواہ ہم کچھ بھی کریں۔ خدا ہم سے کیسے ناراض ہو سکتا ہے؟ آپ کا بچہ بہت سی شرارتیں کرتا ہے: کیا آپ اُس بچے سے ناراض ہوتے ہیں؟ کیا خدا نہیں جانتا کہ ہم کیا بننے والے ہیں؟ وہ جانتا ہے کہ ہم سب جلد یا بدیر کامل ہونے والے ہیں۔ اُس کے پاس صبر ہے، لامحدود صبر۔ ہمیں اُس سے محبت کرنی چاہیے، اور ہر اُس ہستی سے جو زندہ ہے — مگر صرف اُس کے اندر اور اُس کے ذریعے۔ یہی بنیادی سُر ہے۔ آپ کو بیوی سے محبت کرنی چاہیے، مگر بیوی کی خاطر نہیں۔ ”اے محبوب، شوہر سے کبھی شوہر کی خاطر محبت نہیں کی جاتی، بلکہ اِس لیے کہ پروردگار شوہر کے اندر ہے۔“ ویدانت کا فلسفہ کہتا ہے کہ شوہر اور بیوی کی محبت میں بھی، اگرچہ بیوی یہ سمجھتی ہے کہ وہ شوہر سے محبت کر رہی ہے، حقیقی کشش وہ پروردگار ہے جو وہاں موجود ہے۔ وہی واحد کشش ہے، کوئی اور نہیں؛ لیکن بیوی اکثر صورتوں میں یہ نہیں جانتی کہ ایسا ہے، مگر لاعلمی میں وہ درست کام کر رہی ہوتی ہے، یعنی پروردگار سے محبت۔ بس، جب کوئی اِسے لاعلمی میں کرے، تو یہ تکلیف لا سکتا ہے۔ اگر کوئی اِسے جانتے بوجھتے کرے، تو وہ نجات ہے۔ یہی ہمارے صحیفے کہتے ہیں۔ جہاں کہیں محبت ہے، جہاں کہیں مسرّت کی کوئی چنگاری ہے، اُسے اُس کی موجودگی کی چنگاری جانیے، کیونکہ وہ بذاتِ خود مسرّت، برکت اور محبت ہے۔ اِس کے بغیر کوئی محبت ہو ہی نہیں سکتی۔

یہی کرشن کی تعلیم کا رخ ہر وقت رہتا ہے۔ اُنہوں نے یہ بات اپنی نسل میں اِس طرح پیوست کر دی ہے کہ جب کوئی ہندو کوئی کام کرتا ہے، حتیٰ کہ اگر وہ پانی بھی پیتا ہے، تو کہتا ہے ”اگر اِس میں کوئی نیکی ہے، تو وہ پروردگار کو پہنچے۔“ بدھ مت کا پیروکار، اگر وہ کوئی نیک عمل کرتا ہے، کہتا ہے، ”اِس نیک عمل کا ثواب دنیا کو پہنچے؛ اگر میرے کیے میں کوئی نیکی ہے، تو وہ دنیا کو پہنچے، اور دنیا کی بُرائیاں مجھ پر آ جائیں۔“ ہندو کہتا ہے کہ وہ خدا پر گہرا یقین رکھتا ہے؛ ہندو کہتا ہے کہ خدا قادرِ مطلق ہے اور وہ ہر جگہ ہر روح کی روح ہے؛ ہندو کہتا ہے، ”اگر میں اپنی تمام نیکیاں اُسے دے دوں، تو یہ سب سے بڑی قربانی ہے، اور وہ پوری کائنات کو پہنچ جائیں گی۔“

اب، یہ ایک پہلو ہے؛ اور کرشن کا دوسرا پیغام کیا ہے؟ ”جو کوئی دنیا کے بیچوں بیچ رہتا ہے، اور کام کرتا ہے، اور اپنے عمل کا تمام پھل پروردگار کے سپرد کر دیتا ہے، اُسے دنیا کی بُرائیاں کبھی چھو نہیں سکتیں۔ بالکل اُس کنول کی طرح جو پانی کے نیچے پیدا ہوتا ہے، اوپر اُٹھتا ہے اور پانی کے اوپر کھل اُٹھتا ہے، ویسا ہی وہ انسان ہے جو دنیا کی سرگرمیوں میں مصروف ہے، اپنی سرگرمیوں کا تمام پھل پروردگار کے سپرد کرتا ہوا“ (گیتا، باب پنجم، شلوک ۱۰)۔

کرشن ایک شدید سرگرمی کے معلّم کے طور پر ایک اور سُر چھیڑتے ہیں۔ کام، کام، کام دن رات، گیتا کہتی ہے۔ آپ پوچھ سکتے ہیں، ”تو پھر سکون کہاں ہے؟ اگر مجھے ساری زندگی گاڑی کے گھوڑے کی طرح کام کرنا ہے اور جوتے میں جتے ہوئے ہی مر جانا ہے، تو میں یہاں کس لیے ہوں؟“ کرشن کہتے ہیں، ”ہاں، آپ کو سکون ملے گا۔ کام سے بھاگنا کبھی سکون پانے کا راستہ نہیں۔“ اگر آپ کر سکیں تو اپنے فرائض پھینک دیجیے، اور کسی پہاڑ کی چوٹی پر چلے جائیے؛ وہاں بھی ذہن چلتا رہتا ہے — گردش کرتا، گردش کرتا، گردش کرتا۔ کسی نے ایک درویش سے پوچھا، ”جناب، کیا آپ کو کوئی اچھی جگہ ملی؟ آپ کتنے برس سے ہمالیہ میں سفر کر رہے ہیں؟“ ”چالیس برس سے،“ درویش نے جواب دیا۔ ”چننے اور بسنے کے لیے تو بہت سے خوبصورت مقامات ہیں: آپ نے ایسا کیوں نہ کیا؟“ ”کیونکہ اِن چالیس برسوں میں میرے ذہن نے مجھے ایسا کرنے کی اجازت نہ دی۔“ ہم سب کہتے ہیں، ”آئیے سکون تلاش کریں“؛ لیکن ذہن ہمیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

آپ اُس آدمی کی کہانی جانتے ہیں جس نے ایک تاتاری کو پکڑ لیا۔ ایک سپاہی شہر سے باہر تھا، اور جب وہ بیرکوں کے قریب آیا تو چلّایا، ”میں نے ایک تاتاری پکڑ لیا ہے۔“ ایک آواز آئی، ”اُسے اندر لے آئیے۔“ ”وہ اندر نہیں آئے گا، جناب۔“ ”تو پھر آپ اندر آ جائیے۔“ ”وہ مجھے اندر آنے نہیں دے گا، جناب۔“ پس ہمارے اِس ذہن میں ہم نے ”ایک تاتاری پکڑ لیا“ ہے: نہ ہم اِسے نرم کر سکتے ہیں، نہ یہ ہمیں نرم پڑنے دے گا۔ ہم سب نے ”تاتاری پکڑ لیے“ ہیں۔ ہم سب کہتے ہیں، خاموش رہو، پُرسکون رہو، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ہر بچہ یہ کہہ سکتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ ایسا کر سکتا ہے۔ تاہم، یہ بہت مشکل ہے۔ میں نے کوشش کی ہے۔ میں نے اپنے تمام فرائض اُٹھا کر پھینک دیے اور پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف بھاگا؛ میں غاروں اور گہرے جنگلوں میں رہا — مگر تب بھی میں نے ”ایک تاتاری پکڑ لیا“ کیونکہ میری اپنی دنیا ہر وقت میرے ساتھ تھی۔ ”تاتاری“ وہ ہے جو میرے اپنے ذہن میں ہے، پس ہمیں باہر کے بے چارے لوگوں کو الزام نہیں دینا چاہیے۔ ”یہ حالات اچھے ہیں، اور یہ بُرے ہیں،“ ہم یوں کہتے ہیں، جبکہ ”تاتاری“ یہیں، اندر ہے؛ اگر ہم اِسے پُرسکون کر سکیں، تو ہم درست ہو جائیں گے۔

اِسی لیے کرشن ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہم اپنے فرائض سے جی نہ چرائیں، بلکہ اُنہیں مردانہ وار اُٹھائیں، اور نتیجے کے بارے میں نہ سوچیں۔ خادم کو سوال کرنے کا حق نہیں۔ سپاہی کو استدلال کرنے کا حق نہیں۔ آگے بڑھیے، اور جو کام آپ کو کرنا ہے اُس کی نوعیت پر زیادہ توجہ نہ دیجیے۔ اپنے ذہن سے پوچھیے کہ آیا آپ بے غرض ہیں۔ اگر آپ ہیں، تو کسی چیز کی پروا نہ کیجیے، کوئی چیز آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتی! کود پڑیے! جو فرض سامنے ہے، اُسے ادا کیجیے۔ اور جب آپ یہ کر چکیں گے، تو رفتہ رفتہ آپ اِس سچائی کا ادراک کریں گے: ”جو کوئی شدید سرگرمی کے بیچوں بیچ شدید سکون پاتا ہے، جو کوئی عظیم ترین سکون کے بیچوں بیچ عظیم ترین سرگرمی پاتا ہے، وہی یوگی ہے، وہی عظیم روح ہے، وہی کمال کو پہنچا ہے۔“

اب، آپ دیکھتے ہیں کہ اِس تعلیم کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام فرائض مقدّس قرار پاتے ہیں۔ اِس دنیا میں کوئی فرض ایسا نہیں جسے حقیر کہنے کا ہمیں کوئی حق ہو: اور ہر انسان کا کام بالکل اُتنا ہی اچھا ہے جتنا اپنے تخت پر بیٹھے شہنشاہ کا۔

بدھ کے پیغام کو سنیے — ایک زبردست پیغام۔ اِس کی ہمارے دل میں ایک جگہ ہے۔ بدھ کہتے ہیں، ”خود غرضی کو، اور ہر اُس چیز کو جو آپ کو خود غرض بناتی ہے، جڑ سے اُکھاڑ پھینکیے۔ نہ بیوی رکھیے، نہ اولاد، نہ خاندان۔ دنیا کے نہ ہو جائیے؛ مکمل طور پر بے غرض ہو جائیے۔“ ایک دنیا دار انسان سوچتا ہے کہ وہ بے غرض ہو گا، لیکن جب وہ اپنی بیوی کے چہرے کو دیکھتا ہے تو یہ اُسے خود غرض بنا دیتا ہے۔ ماں سوچتی ہے کہ وہ مکمل طور پر بے غرض ہو گی، لیکن وہ اپنے بچے کو دیکھتی ہے، اور فوراً خود غرضی آ جاتی ہے۔ اِس دنیا کی ہر چیز کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔ جوں ہی خود غرض خواہشات اُٹھتی ہیں، جوں ہی کسی خود غرض مقصد کی پیروی کی جاتی ہے، فوراً پورا انسان، حقیقی انسان جاتا رہتا ہے: وہ کسی درندے کی مانند ہو جاتا ہے، وہ ایک غلام ہے، وہ اپنے ہم نوع انسانوں کو بھول جاتا ہے۔ پھر وہ یہ نہیں کہتا، ”پہلے آپ اور بعد میں میں،“ بلکہ بات یہ ہوتی ہے، ”پہلے میں، اور باقی ہر کوئی اپنا خود خیال رکھے۔“

ہم دیکھتے ہیں کہ کرشن کے پیغام میں بھی ہمارے لیے ایک جگہ ہے۔ اُس پیغام کے بغیر ہم بالکل بھی حرکت نہیں کر سکتے۔ ہم کرشن کے پیغام کو سنے بغیر، اپنے ضمیر کے مطابق اور سکون، مسرّت اور خوشی کے ساتھ اپنی زندگی کا کوئی فرض نہیں اُٹھا سکتے: ”خوف زدہ نہ ہوں خواہ آپ کے کام میں بُرائی ہی ہو، کیونکہ کوئی کام ایسا نہیں جس میں بُرائی نہ ہو۔“ ”اِسے پروردگار کے سپرد کر دیجیے، اور نتائج کی تلاش میں نہ رہیے۔“

دوسری طرف، دل میں ایک گوشہ اُس دوسرے پیغام کے لیے بھی ہے: وقت پرواز کر رہا ہے؛ یہ دنیا متناہی ہے اور سراسر مصیبت ہے۔ اپنے عمدہ کھانے، نفیس لباس اور آرام دہ گھر کے ساتھ، اے سوئے ہوئے مرد و عورت، کیا آپ کبھی اُن لاکھوں کے بارے میں سوچتے ہیں جو بھوکے مر رہے ہیں؟ اِس عظیم حقیقت کے بارے میں سوچیے کہ یہ سب مصیبت، مصیبت، مصیبت ہے! بچے کے پہلے بول پر غور کیجیے: جب وہ دنیا میں قدم رکھتا ہے، تو روتا ہے۔ یہی حقیقت ہے — بچہ روتا ہے۔ یہ رونے کی جگہ ہے! اگر ہم اِس پیغام بر کو سنیں، تو ہمیں خود غرض نہیں ہونا چاہیے۔

ایک اور پیغام بر کو دیکھیے، ناصرہ کے وہ بزرگ۔ وہ سکھاتے ہیں، ”تیار رہو، کیونکہ آسمان کی بادشاہت قریب ہے۔“ میں نے کرشن کے پیغام پر غور و فکر کیا ہے، اور بے تعلقی کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، لیکن کبھی کبھی میں بھول جاتا ہوں۔ تب اچانک مجھے بدھ کا پیغام یاد آتا ہے: ”خبردار، کیونکہ دنیا کی ہر چیز فانی ہے، اور اِس زندگی میں ہمیشہ مصیبت ہے۔“ میں اُسے سنتا ہوں، اور غیریقینی میں پڑ جاتا ہوں کہ کس کو قبول کروں۔ پھر دوبارہ، بجلی کی کڑک کی طرح، یہ پیغام آتا ہے: ”تیار رہو، کیونکہ آسمان کی بادشاہت قریب ہے۔“ ایک لمحے کی تاخیر نہ کیجیے۔ کل کے لیے کچھ نہ چھوڑیے۔ اُس آخری واقعے کے لیے تیار ہو جائیے، جو آپ کو فوراً، حتیٰ کہ اِسی وقت آ لے سکتا ہے۔ اِس پیغام کی بھی ایک جگہ ہے، اور ہم اِسے تسلیم کرتے ہیں۔ ہم پیغام بر کو سلام پیش کرتے ہیں، ہم پروردگار کو سلام پیش کرتے ہیں۔

اور پھر محمد آتے ہیں، مساوات کے پیغام بر۔ آپ پوچھتے ہیں، ”اُن کے مذہب میں کیا بھلائی ہو سکتی ہے؟“ اگر کوئی بھلائی نہ ہوتی، تو یہ زندہ کیسے رہتا؟ بھلائی ہی زندہ رہتی ہے، وہی باقی رہتی ہے؛ کیونکہ بھلائی ہی قوی ہے، اِسی لیے وہ باقی رہتی ہے۔ ایک ناپاک انسان کی عمر، یہاں اِسی زندگی میں بھی، کتنی لمبی ہوتی ہے؟ کیا پاک انسان کی عمر اِس سے کہیں زیادہ لمبی نہیں؟ بے شک، کیونکہ پاکیزگی قوت ہے، نیکی قوت ہے۔ اگر اسلام کی تعلیم میں کوئی بھلائی نہ ہوتی، تو وہ زندہ کیسے رہتا؟ اِس میں بہت بھلائی ہے۔ محمد مساوات کے، بنی نوع انسان کے بھائی چارے کے، تمام مسلمانوں کے بھائی چارے کے پیغام بر تھے۔

پس ہم دیکھتے ہیں کہ ہر نبی، ہر پیغام بر کا ایک خاص پیغام ہے۔ جب آپ پہلے اُس پیغام کو سنتے ہیں، اور پھر اُس کی زندگی کو دیکھتے ہیں، تو آپ دیکھتے ہیں کہ اُس کی پوری زندگی واضح ہو جاتی ہے، تابندہ ہو جاتی ہے۔

اب، نادان احمق بیس ہزار نظریے ایجاد کرتے ہیں، اور اپنی ذہنی نشوونما کے مطابق، اپنے خیالات کے موافق تشریحات پیش کرتے ہیں، اور اُنہیں اِن عظیم معلّمین سے منسوب کر دیتے ہیں۔ وہ اُن کی تعلیمات لیتے ہیں اور اُن پر اپنی غلط تعبیریں چسپاں کر دیتے ہیں۔ ہر عظیم نبی کے ساتھ اُس کی زندگی ہی واحد تفسیر ہے۔ اُس کی زندگی کو دیکھیے: اُس نے جو کچھ کیا، وہ متون کی تصدیق کرے گا۔ گیتا کو پڑھیے، اور آپ پائیں گے کہ معلّم کی زندگی اِس کی بعینہٖ تصدیق کرتی ہے۔

محمد نے اپنی زندگی سے یہ دکھایا کہ مسلمانوں کے درمیان کامل مساوات اور بھائی چارہ ہونا چاہیے۔ نسل، ذات، عقیدے، رنگ یا جنس کا کوئی سوال نہ تھا۔ سلطانِ ترکی افریقہ کی منڈی سے ایک حبشی خرید کر اُسے زنجیروں میں جکڑ کر ترکی لا سکتا تھا؛ لیکن اگر وہ مسلمان ہو جاتا اور اُس میں کافی استحقاق و صلاحیتیں ہوتیں، تو وہ سلطان کی بیٹی سے بھی شادی کر سکتا تھا۔ اِس کا موازنہ اُس طریقے سے کیجیے جس طرح اِس ملک میں حبشیوں اور امریکی ہندیوں کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے! اور ہندو کیا کرتے ہیں؟ اگر آپ کے کسی مبلّغ کا ہاتھ اتفاقاً کسی راسخ العقیدہ شخص کے کھانے کو چھو جائے، تو وہ اُسے پھینک دے گا۔ اپنے عظیم الشان فلسفے کے باوجود، آپ عمل میں ہماری کمزوری کو نوٹ کرتے ہیں؛ مگر وہاں آپ دیگر نسلوں سے بالاتر مسلمان کی عظمت دیکھتے ہیں، جو مساوات میں، نسل یا رنگ سے قطعِ نظر کامل مساوات میں ظاہر ہوتی ہے۔

کیا دوسرے اور زیادہ عظیم انبیا آئیں گے؟ یقیناً وہ اِس دنیا میں آئیں گے۔ لیکن اِس کی راہ نہ تکیے۔ میں تو یہ زیادہ پسند کروں گا کہ آپ میں سے ہر ایک اِس حقیقی نئے عہد نامے کا نبی بن جائے، جو تمام پرانے عہد ناموں سے مل کر بنا ہے۔ تمام پرانے پیغام لیجیے، اُن میں اپنے ادراکات کا اضافہ کیجیے، اور دوسروں کے لیے نبی بن جائیے۔ اِن میں سے ہر معلّم عظیم رہا ہے؛ ہر ایک نے ہمارے لیے کچھ نہ کچھ چھوڑا ہے؛ وہ ہمارے خدا رہے ہیں۔ ہم اُنہیں سلام پیش کرتے ہیں، ہم اُن کے خادم ہیں؛ اور اِس کے باوجود، ہم اپنے آپ کو بھی سلام پیش کرتے ہیں؛ کیونکہ اگر وہ انبیا اور خدا کے فرزند رہے ہیں، تو ہم بھی وہی ہیں۔ وہ اپنے کمال کو پہنچ گئے، اور ہم اب اپنے کمال کو حاصل کرنے والے ہیں۔ عیسیٰ کے الفاظ یاد رکھیے: ”آسمان کی بادشاہت قریب ہے!“ اِسی لمحے ہم میں سے ہر ایک ایک پختہ عزم کر لے: ”میں ایک نبی بنوں گا، میں نور کا پیغام بر بنوں گا، میں خدا کا فرزند بنوں گا، نہیں، بلکہ میں ایک خدا بنوں گا!“

English

THE GREAT TEACHERS OF THE WORLD

(Delivered at the Shakespeare Club, Pasadena, California, February 3, 1900)

The universe, according to the theory of the Hindus, is moving in cycles of wave forms. It rises, reaches its zenith, then falls and remains in the hollow, as it were, for some time, once more to rise, and so on, in wave after wave and fall after fall. What is true of the universe is true of every part of it. The march of human affairs is like that. The history of nations is like that: they rise and they fall; after the rise comes a fall, again out of the fall comes a rise, with greater power. This motion is always going on. In the religious world the same movement exists. In every nation's spiritual life, there is a fall as well as a rise. The nation goes down, and everything seems to go to pieces. Then, again, it gains strength, rises; a huge wave comes, sometimes a tidal wave — and always on the topmost crest of the wave is a shining soul, the Messenger. Creator and created by turns, he is the impetus that makes the wave rise, the nation rise: at the same time, he is created by the same forces which make the wave, acting and interacting by turns. He puts forth his tremendous power upon society; and society makes him what he is. These are the great world-thinkers. These are the Prophets of the world, the Messengers of life, the Incarnations of God.

Man has an idea that there can be only one religion, that there can be only one Prophet, and that there can be only one Incarnation; but that idea is not true. By studying the lives of all these great Messengers, we find that each, as it were, was destined to play a part, and a part only; that the harmony consists in the sum total and not in one note. As in the life of races — no race is born to alone enjoy the world. None dare say no. Each race has a part to play in this divine harmony of nations. Each race has its mission to perform, its duty to fulfil. The sum total is the great harmony.

So, not any one of these Prophets is born to rule the world for ever. None has yet succeeded and none is going to be the ruler for ever. Each only contributes a part; and, as to that part, it is true that in the long run every Prophet will govern the world and its destinies.

Most of us are born believers in a personal religion. We talk of principles, we think of theories, and that is all right; but every thought and every movement, every one of our actions, shows that we can only understand the principle when it comes to us through a person. We can grasp an idea only when it comes to us through a materialised ideal person. We can understand the precept only through the example. Would to God that all of us were so developed that we would not require any example, would not require any person. But that we are not; and, naturally, the vast majority of mankind have put their souls at the feet of these extraordinary personalities, the Prophets, the Incarnations of God — Incarnations worshipped by the Christians, by the Buddhists, and by the Hindus. The Mohammedans from the beginning stood against any such worship. They would have nothing to do with worshipping the Prophets or the Messengers, or paying any homage to them; but, practically, instead of one Prophet, thousands upon thousands of saints are being worshipped. We cannot go against facts! We are bound to worship personalities, and it is good. Remember that word from your great Prophet to the query: "Lord, show us the Father", "He that hath seen me hath seen the Father." Which of us can imagine anything except that He is a man? We can only see Him in and through humanity. The vibration of light is everywhere in this room: why cannot lie see it everywhere? You have to see it only in that lamp. God is an Omnipresent Principle — everywhere: but we are so constituted at present that we can see Him, feel Him, only in and through a human God. And when these great Lights come, then man realises God. And they come in a different way from what we come. We come as beggars; they come as Emperors. We come here like orphans, as people who have lost their way and do not know it. What are we to do? We do not know what is the meaning of our lives. We cannot realise it. Today we are doing one thing, tomorrow another. We are like little bits of straw rocking to and fro in water, like feathers blown about in a hurricane.

But, in the history of mankind, you will find that there come these Messengers, and that from their very birth their mission is found and formed. The whole plan is there, laid down; and you see them swerving not one inch from that. Because they come with a mission, they come with a message, they do not want to reason. Did you ever hear or read of these great Teachers, or Prophets, reasoning out what they taught? No, not one of them did so. They speak direct. Why should they reason? They see the Truth. And not only do they see it but they show it! If you ask me, "Is there any God ?" and I say "Yes", you immediately ask my grounds for saying so, and poor me has to exercise all his powers to provide you with some reason. If you had come to Christ and said, "Is there any God? " he would have said, "Yes"; and if you had asked, "Is there any proof?" he would have replied, "Behold the Lord! " And thus, you see, it is a direct perception, and not at all the ratiocination of reason. There is no groping in the dark, but there is the strength of direct vision. I see this table; no amount of reason can take that faith from me. It is a direct perception. Such is their faith — faith in their ideals, faith in their mission, faith in themselves, above all else. The great shining Ones believe in themselves as nobody else ever does. The people say, "Do you believe in God? Do you believe in a future life? Do you believe in this doctrine or that dogma?" But here the base is wanting: this belief in oneself. Ay, the man who cannot believe in himself, how can they expect him to believe in anything else? I am not sure of my own existence. One moment I think that I am existing and nothing can destroy me; the next moment I am quaking in fear of death. One minute I think I am immortal; the next minute, a spook appears, and then I don't know what I am, nor where I am. I don't know whether I am living or dead. One moment I think that I am spiritual, that I am moral; and the next moment, a blow comes, and I am thrown flat on my back. And why? — I have lost faith in myself, my moral backbone is broken.

But in these great Teachers you will always find this sign: that they have intense faith in themselves. Such intense faith is unique, and we cannot understand it. That is why we try to explain away in various ways what these Teachers speak of themselves; and people invent twenty thousand theories to explain what they say about their realisation. We do not think of ourselves in the same way, and, naturally, we cannot understand them.

Then again, when they speak, the world is bound to listen. When they speak, each word is direct; it bursts like a bomb-shell. What is in the word, unless it has the Power behind? What matters it what language you speak, and how you arrange your language? What matters it whether you speak correct grammar or with fine rhetoric? What matters it whether your language is ornamental or not? The question is whether or not you have anything to give. It is a question of giving and taking, and not listening. Have you anything to give? — that is the first question. If you have, then give. Words but convey the gift: it is but one of the many modes. Sometimes we do not speak at all. There is an old Sanskrit verse which says, "I saw the Teacher sitting under a tree. He was a young man of sixteen, and the disciple was an old man of eighty. The preaching of the Teacher was silence, and the doubts of the disciple departed."

Sometimes they do not speak at all, but vet they convey the Truth from mind to mind. They come to give. They command, they are the Messengers; you have to receive the Command. Do you not remember in your own scriptures the authority with which Jesus speaks? "Go ye, therefore, and teach all nations . . . teaching them to observe all things whatsoever I have commanded you." It runs through all his utterances, that tremendous faith in his own message. That you find in the life of all these great giants whom the world worships as its Prophets.

These great Teachers are the living Gods on this earth. Whom else should we worship? I try to get an idea of God in my mind, and I find what a false little thing I conceive; it would be a sin to worship that God. I open my eyes and look at the actual life of these great ones of the earth. They are higher than any conception of God that I could ever form. For, what conception of mercy could a man like me form who would go after a man if he steals anything from me and send him to jail? And what can be my highest idea of forgiveness? Nothing beyond myself. Which of you can jump out of your own bodies? Which of you can jump out of your own minds? Not one of you. What idea of divine love can you form except what you actually live? What we have never experienced we can form no idea of. So, all my best attempts at forming an idea of God would fail in every case. And here are plain facts, and not idealism — actual facts of love, of mercy, of purity, of which I can have no conception even. What wonder that I should fall at the feet of these men and worship them as God? And what else can anyone do? I should like to see the man who can do anything else, however much he may talk. Talking is not actuality. Talking about God and the Impersonal, and this and that is all very good; but these man-Gods are the real Gods of all nations and all races. These divine men have been worshipped and will be worshipped so long as man is man. Therein is our faith, therein is our hope, of a reality. Of what avail is a mere mystical principle!

The purpose and intent of what I have to say to you is this, that I have found it possible in my life to worship all of them, and to be ready for all that are yet to come. A mother recognises her son in any dress in which he may appear before her; and if one does not do so, I am sure she is not the mother of that man. Now, as regards those of you that think that you understand Truth and Divinity and God in only one Prophet in the world, and not in any other, naturally, the conclusion which I draw is that you do not understand Divinity in anybody; you have simply swallowed words and identified yourself with one sect, just as you would in party politics, as a matter of opinion; but that is no religion at all. There are some fools in this world who use brackish water although there is excellent sweet water near by, because, they say, the brackish-water well was dug by their father. Now, in my little experience I have collected this knowledge — that for all the devilry that religion is, blamed with, religion is not at all in fault: no religion ever persecuted men, no religion ever burnt witches, no religion ever did any of these things. What then incited people to do these things? Politics, but never religion; and if such politics takes the name of religion whose fault is that?

So, when each man stands and says "My Prophet is the only true Prophet," he is not correct — he knows not the alpha of religion. Religion is neither talk, nor theory, nor intellectual consent. It is realisation in the heart of our hearts; it is touching God; it is feeling, realising that I am a spirit in relation with the Universal Spirit and all Its great manifestations. If you have really entered the house of the Father, how can you have seen His children and not known them? And if you do not recognise them, you have not entered the house of the Father. The mother recognises her child in any dress and knows him however disguised. Recognise all the great, spiritual men and women in every age and country, and see that they are not really at variance with one another. Wherever there has been actual religion — this touch of the Divine, the soul coming in direct sense-contact with the Divine — there has always been a broadening of the mind which enables it to see the light everywhere. Now, some Mohammedans are the crudest in this respect, and the most sectarian. Their watchword is: "There is one God, and Mohammed is His Prophet." Everything beyond that not only is bad, but must be destroyed forthwith; at a moment's notice, every man or woman who does not exactly believe in that must be killed; everything that does not belong to this worship must be immediately broken; every book that teaches any thing else must be burnt. From the Pacific to the Atlantic, for five hundred years blood ran all over the world. That is Mohammedanism! Nevertheless, among these Mohammedans, wherever there has a philosophic man, he was sure to protest against these cruelties. In that he showed the touch of the Divine and realised a fragment of the truth; he was not playing with his religion; for it was not his father's religion he was talking, but spoke the truth direct like a man.

Side by side with tie modern theory of evolution, there is another thing: atavism. There is a tendency in us to revert to old ideas in religion. Let us think something new, even if it be wrong. It is better to do that. Why should you not try to hit the mark? We become wiser through failures. Time is infinite. Look at the wall. Did the wall ever tell a lie? It is always the wall. Man tells a lie — and becomes a god too. It is better to do something; never mind even if it proves to be wrong it is better than doing nothing. The cow never tells a lie, but she remains a cow, all the time. Do something! Think some thought; it doesn't matter whether you are right or wrong. But think something! Because my forefathers did not think this way, shall I sit down quietly and gradually lose my sense of feeling and my own thinking faculties? I may as well be dead! And what is life worth if we have no living ideas, no convictions of our own about religion? There is some hope for the atheists, because though they differ from others, they think for themselves. The people who never think anything for themselves are not yet born into the world of religion; they have a mere jelly-fish existence. They will not think; they do not care for religion. But the disbeliever, the atheist, cares, and he is struggling. So think something! Struggle Godward! Never mind if you fail, never mind if you get hold of a queer theory. If you are afraid to be called queer, keep it in your own mind — you need not go and preach it to others. But do something! Struggle Godward! Light must come. If a man feeds me every day of my life, in the long run I shall lose the use of my hands. Spiritual death is the result of following each other like a flock of sheep. Death is the result of inaction. Be active; and wherever there is activity, there must be difference. Difference is the sauce of life; it is the beauty, it is the art of everything. Difference makes all beautiful here. It is variety that is the source of life, the sign of life. Why should we be afraid of it?

Now, we are coming into a position to understand about the Prophets. Now, we see that the historical evidence is — apart from the jelly-fish existence in religion — that where there has been any real thinking, any real love for God, the soul has grown Godwards and has got as it were, a glimpse now and then, has come into direct perception, even for a second, even once in its life. Immediately, "All doubts vanish for ever, and all the crookedness of the heart is made straight, and all bondages vanish, and the results of action and Karma fly when He is seen who is the nearest of the near and the farthest of the far." That is religion, that is all of religion; the rest is mere theory, dogma, so many ways of going to that state of direct perception. Now we are fighting over the basket and the fruits have fallen into the ditch.

If two men quarrel about religion, just ask them the question: "Have you seen God? Have you seen these things?" One man says that Christ is the only Prophet: well, has he seen Christ? "Has your father seen Him?" "No, Sir." "Has your grandfather seen Him?" "No, Sir." "Have you seen Him?" "No, Sir." "Then what are you quarrelling for? The fruits have fallen into the ditch, and you are quarrelling over the basket!" Sensible men and women should be ashamed to go on quarrelling in that way!

These great Messengers and Prophets are great and true. Why? Because, each one has come to preach a great idea. Take the Prophets of India, for instance. They are the oldest of the founders of religion. We takes first, Krishna. You who have read the Gitâ see all through the book that the one idea is non-attachment. Remain unattached. The heart's love is due to only One. To whom? To Him who never changeth. Who is that One? It is God. Do not make the mistake of giving the heart to anything that is changing, because that is misery. You may give it to a man; but if he dies, misery is the result. You may give it to a friend, but he may tomorrow become your enemy. If you give it to your husband, he may one day quarrel with you. You may give it to your wife, and she may die the day after tomorrow. Now, this is the way the world is going on. So says Krishna in the Gita: The Lord is the only One who never changes. His love never fails. Wherever we are and whatever we do, He is ever and ever the same merciful, the same loving heart. He never changes, He is never angry, whatever we do. How can God be angry with us? Your babe does many mischievous things: are you angry with that babe? Does not God know what we are going to be? He knows we are all going to be perfect, sooner or later. He has patience, infinite patience. We must love Him, and everyone that lives — only in and through Him. This is the keynote. You must love the wife, but not for the wife's sake. "Never, O Beloved, is the husband loved on account of the husband, but because the Lord is in the husband." The Vedanta philosophy says that even in the love of the husband and wife, although the wife is thinking that she is loving the husband, the real attraction is the Lord, who is present there. He is the only attraction, there is no other; but the wife in most cases does not know that it is so, but ignorantly she is doing the right thing, which is, loving the Lord. Only, when one does it ignorantly, it may bring pain. If one does it knowingly, that is salvation. This is what our scriptures say. Wherever there is love, wherever there is a spark of joy, know that to be a spark of His presence because He is joy, blessedness, and love itself. Without that there cannot be any love.

This is the trend of Krishna's instruction all the time. He has implanted that upon his race, so that when a Hindu does anything, even if he drinks water, he says "If there is virtue in it, let it go to the Lord." The Buddhist says, if he does any good deed, "Let the merit of the good deed belong to the world; if there is any virtue in what I do, let it go to the world, and let the evils of the world come to me." The Hindu says he is a great believer in God; the Hindu says that God is omnipotent and that He is the Soul of every soul everywhere; the Hindu says, If I give all my virtues unto Him, that is the greatest sacrifice, and they will go to the whole universe."

Now, this is one phase; and what is the other message of Krishna? "Whosoever lives in the midst of the world, and works, and gives up all the fruit of his action unto the Lord, he is never touched with the evils of the world. Just as the lotus, born under the water, rises up and blossoms above the water, even so is the man who is engaged in the activities of the world, giving up all the fruit of his activities unto the Lord" (Gita, V. 10).

Krishna strikes another note as a teacher of intense activity. Work, work, work day and night, says the Gita. You may ask, "Then, where is peace? If all through life I am to work like a cart-horse and die in harness, what am I here for?" Krishna says, "Yes, you will find peace. Flying from work is never the way to find peace." Throw off your duties if you can, and go to the top of a mountain; even there the mind is going — whirling, whirling, whirling. Someone asked a Sannyasin, "Sir, have you found a nice place? How many years have you been travelling in the Himalayas?" "For forty years," replied the Sannyasin. "There are many beautiful spots to select from, and to settle down in: why did you not do so?" "Because for these forty years my mind would not allow me to do so." We all say, "Let us find peace"; but the mind will not allow us to do so.

You know the story of the man who caught a Tartar. A soldier was outside the town, and he cried out when be came near the barracks, "I have caught a Tartar." A voice called out, "Bring him in." "He won't come in, sir." "Then you come in." "He won't let me come in, sir." So, in this mind of ours, we have "caught a Tartar": neither can we tone it down, nor will it let us be toned down. We have all "caught Tartars". We all say, be quiet, and peaceful, and so forth. But every baby can say that and thinks he can do it. However, that is very difficult. I have tried. I threw overboard all my duties and fled to the tops of mountains; I lived in caves and deep forests — but all the same, I "caught a Tartar" because I had my world with me all the time. The "Tartar" is what I have in my own mind, so we must not blame poor people outside. "These circumstances are good, and these are bad," so we say, while the "Tartar" is here, within; if we can quiet him down, we shall be all right.

Therefore Krishna teaches us not to shirk our duties, but to take them up manfully, and not think of the result. The servant has no right to question. The soldier has no right to reason. Go forward, and do not pay too much attention to the nature of the work you have to do. Ask your mind if you are unselfish. If you are, never mind anything, nothing can resist you! Plunge in! Do the duty at hand. And when you have done this, by degrees you will realise the Truth: "Whosoever in the midst of intense activity finds intense peace, whosoever in the midst of the greatest peace finds the greatest activity, he is a Yogi, he is a great soul, he has arrived at perfection."

Now, you see that the result of this teaching is that all the duties of the world are sanctified. There is no duty in this world which we have any right to call menial: and each man's work is quite as good as that of the emperor on his throne.

Listen to Buddha's message — a tremendous message. It has a place in our heart. Says Buddha, "Root out selfishness, and everything that makes you selfish. Have neither wife, child, nor family. Be not of the world; become perfectly unselfish." A worldly man thinks he will be unselfish, but when he looks at the face of his wife it makes him selfish. The mother thinks she will be perfectly unselfish, but she looks at her baby, and immediately selfishness comes. So with everything in this world. As soon as selfish desires arise, as soon as some selfish pursuit is followed, immediately the whole man, the real man, is gone: he is like a brute, he is a slave' he forgets his fellow men. No more does he say, "You first and I afterwards," but it is "I first and let everyone else look out for himself."

We find that Krishna's message has also a place for us. Without that message, we cannot move at all. We cannot conscientiously and with peace, joy, and happiness, take up any duty of our lives without listening to the message of Krishna: "Be not afraid even if there is evil in your work, for there is no work which has no evil." "Leave it unto the Lord, and do not look for the results."

On the other hand, there is a corner in the heart for the other message: Time flies; this world is finite and all misery. With your good food, nice clothes, and your comfortable home, O sleeping man and woman, do you ever think of the millions that are starving and dying? Think of the great fact that it is all misery, misery, misery! Note the first utterance of the child: when it enters into the world, it weeps. That is the fact — the child-weeps. This is a place for weeping! If we listen to the Messenger, we should not be selfish.

Behold another Messenger, He of Nazareth. He teaches, "Be ready, for the Kingdom of Heaven is at hand." I have pondered over the message of Krishna, and am trying to work without attachment, but sometimes I forget. Then, suddenly, comes to me the message of Buddha: "Take care, for everything in the world as evanescent, and there is always misery in this life." I listen to that, and I am uncertain which to accept. Then again comes, like a thunderbolt, the message: "Be ready, for the Kingdom of Heaven is at hand." Do not delay a moment. Leave nothing for tomorrow. Get ready for the final event, which may overtake you immediately, even now. That message, also, has a place, and we acknowledge it. We salute the Messenger, we salute the Lord.

And then comes Mohammed, the Messenger of equality. You ask, "What good can there be in his religion?" If there were no good, how could it live? The good alone lives, that alone survives; because the good alone is strong, therefore it survives. How long is the life of an impure man, even in this life? Is not the life of the pure man much longer? Without doubt, for purity is strength, goodness is strength. How could Mohammedanism have lived, had there been nothing good in its teaching? There is much good. Mohammed was the Prophet of equality, of the brotherhood of man, the brotherhood of all Mussulmans

So we see that each Prophet, each Messenger, has a particular message. When you first listen to that message, and then look at his life, you see his whole life stands explained, radiant.

Now, ignorant fools start twenty thousand theories, and put forward, according to their own mental development, explanations to suit their own ideas, and ascribe them to these great Teachers. They take their teachings and put their misconstruction upon them. With every great Prophet his life is the only commentary. Look at his life: what he did will bear out the texts. Read the Gita, and you will find that it is exactly borne out by the life of the Teacher.

Mohammed by his life showed that amongst Mohammedans there should be perfect equality and brotherhood. There was no question of race, caste, creed, colour, or sex. The Sultan of Turkey may buy a Negro from the mart of Africa, and bring him in chains to Turkey; but should he become a Mohammedan and have sufficient merit and abilities, he might even marry the daughter of the Sultan. Compare this with the way in which the Negroes and the American Indians are treated in this country! And what do Hindus do? If one of your missionaries chance to touch the food of an orthodox person, he would throw it away. Notwithstanding our grand philosophy, you note our weakness in practice; but there You see the greatness of the Mohammedan beyond other races, showing itself in equality, perfect equality regardless of race or colour.

Will other and greater Prophets come? Certainly they will come in this world. But do not look forward to that. I should better like that each one of you became a Prophet of this real New Testament, which is made up of all the Old Testaments. Take all the old messages, supplement them with your own realisations, and become a Prophet unto others. Each one of these Teachers has been great; each has left something for us; they have been our Gods. We salute them, we are their servants; and, all the same, we salute ourselves; for if they have been Prophets and children of God, we also are the same. They reached their perfection, and we are going to attain ours now. Remember the words of Jesus: "The Kingdom of Heaven is at hand!" This very moment let everyone of us make a staunch resolution: "I will become a Prophet, I will become a messenger of Light, I will become a child of God, nay, I will become a God!"


متن ویکی سورس عوامی ملکیت سے۔ اصل کو ادویت آشرم نے شائع کیا۔