منزلِ مقصود
یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ براہ کرم اصل انگریزی متن سے رجوع کریں۔
AI-translated. May contain errors. For accurate text, refer to the original English.
اردو
منزل
(سان فرانسسکو میں دیا گیا خطاب، ۲۷ مارچ ۱۹۰۰ء)
ہم دیکھتے ہیں کہ انسان گویا ہمہ وقت کسی ایسی ہستی کے گرد و پیش گھرا ہوا ہے جو اُس سے کہیں عظیم تر ہے، اور وہ اِس کے مفہوم کو سمجھنے کی سعی میں مصروف ہے۔ انسان ہمیشہ بلند ترین مثال [کی جستجو] کرتا رہے گا۔ وہ جانتا ہے کہ وہ موجود ہے اور یہ کہ مذہب اُسی بلند ترین مثال کی تلاش کا نام ہے۔ ابتدا میں اُس کی تمام تلاش خارجی سطح پر ہوتی تھی — کبھی آسمان میں، کبھی مختلف مقامات پر — بالکل اُسی قدر جس قدر [اُس کی فہم] انسانی فطرت کے کلی جوہر کا احاطہ کر سکتی تھی۔
[بعد ازاں،] انسان نے خود کو ذرا قریب سے دیکھنا شروع کیا اور اُسے معلوم ہوا کہ اصل "میں" وہ "میں" نہیں جس کا وہ عام طور پر دعویدار ہوتا ہے۔ جیسا کہ وہ حواس کو دکھائی دیتا ہے، ویسا وہ حقیقت میں ہرگز نہیں۔ اُس نے اپنے باطن کے اندر [جستجو] کرنا شروع کی اور یہ پایا کہ ۔۔۔ جس مثالِ اعلیٰ کو اُس نے اپنے باہر [رکھ چھوڑا تھا]، وہی ہر دم اُس کے اندر موجود ہے؛ جس کی پرستش وہ باہر کر رہا تھا وہ درحقیقت اُس کا اپنا باطنی جوہر تھا۔ ثنویت اور توحید (وحدت) کے درمیان فرق یہی ہے کہ جب مثال کو [اپنے] باہر رکھا جائے، تو یہ ثنویت ہے۔ جب خدا کو باطن میں [تلاش] کیا جائے، تو یہ توحید ہے۔
پہلے، وہی پرانا سوال کہ کیوں اور کس لیے ۔۔۔ ایسا کیسے ہوا کہ انسان محدود ہو گیا؟ لامحدود کیسے محدود بن گیا، پاک کیسے ناپاک ہوا؟ پہلی بات یہ ہے کہ آپ کو ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اِس سوال کا جواب کسی بھی ثنوی مفروضے [کے ذریعے] ممکن نہیں۔
خدا نے یہ ناپاک کائنات کیوں خلق کی؟ انسان اتنا بدبخت کیوں ہے، حالانکہ وہ ایک کامل، لامحدود، رحیم باپ کی تخلیق ہے؟ یہ زمین و آسمان کیوں ہیں، جنہیں دیکھ کر ہمیں قانون کا تصور حاصل ہوتا ہے؟ کوئی شخص بھی ایسی شے کا تصور نہیں کر سکتا جو اُس نے دیکھی نہ ہو۔
اِس زندگی میں جو تمام عذاب ہم محسوس کرتے ہیں، اُنہیں ہم کسی دوسرے مقام میں رکھ دیتے ہیں اور وہی ہماری دوزخ ہے۔۔۔۔
لامحدود خدا نے یہ دنیا کیوں بنائی؟ [ثنویت کا قائل کہتا ہے:] جس طرح کوزہ گر کوزے بناتا ہے۔ خدا کوزہ گر؛ ہم کوزے۔ ۔۔۔ زیادہ فلسفیانہ زبان میں سوال یوں ہے: یہ کیوں مان لیا گیا کہ انسان کی اصل فطرت پاک، کامل اور لامحدود ہے؟ یہی ایک دقت ہے جو توحید کے ہر نظام میں پائی جاتی ہے۔ باقی سب کچھ صاف اور شفاف ہے۔ اِس سوال کا جواب ممکن نہیں۔ موحدین کہتے ہیں کہ سوال خود اپنے اندر تضاد رکھتا ہے۔
ثنویت کے نظام کو لیجیے — سوال کیا جاتا ہے کہ خدا نے دنیا کیوں خلق کی۔ یہ متناقض ہے۔ کیوں؟ اِس لیے کہ — خدا کا تصور کیا ہے؟ وہ ایسی ہستی ہے جس پر کوئی بیرونی شے اثر انداز نہیں ہو سکتی۔
آپ اور میں آزاد نہیں ہیں۔ مجھے پیاس لگی ہے۔ ایک شے ہے جسے پیاس کہتے ہیں، جس پر مجھے کوئی اختیار نہیں، [جو] مجھے پانی پینے پر مجبور کرتی ہے۔ میرے بدن کا ہر عمل اور حتیٰ کہ میرے ذہن کی ہر فکر بھی مجھ سے بزور کھینچی جاتی ہے۔ مجھے یہ کرنا ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں پابند ہوں۔۔۔۔ مجھے یہ کرنے پر، یہ پانے پر مجبور کیا جاتا ہے، اور یوں ہی سلسلہ چلتا ہے ۔۔۔۔ اور کیوں اور کس لیے سے کیا مراد ہے؟ [بیرونی قوتوں کے تابع ہونا۔] آپ پانی کیوں پیتے ہیں؟ کیونکہ پیاس آپ کو مجبور کرتی ہے۔ آپ ایک غلام ہیں۔ آپ اپنی مرضی سے کبھی کچھ نہیں کرتے کیونکہ آپ ہر کام پر مجبور ہیں۔ آپ کے فعل کا واحد محرک کوئی نہ کوئی قوت ہی ہوتی ہے۔ ۔۔۔
زمین، بذاتِ خود، کبھی نہ ہلتی اگر کوئی شے اسے حرکت دینے پر مجبور نہ کرتی۔ روشنی کیوں جلتی ہے؟ وہ اُس وقت تک نہیں جلتی جب تک کوئی آ کر تیلی نہ سلگائے۔ ساری فطرت میں، ہر شے پابند ہے۔ غلامی، غلامی! فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا [غلامی] ہے۔ فطرت کا غلام بن کر اور سونے کے پنجرے میں رہ کر آخر کیا حاصل؟ سب سے بڑا قانون اور سب سے بڑا ضبط اِسی [علم میں ہے کہ انسان جوہر کے لحاظ سے آزاد اور الٰہی ہے۔] اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیوں اور کس لیے کا سوال صرف [جہالت میں] ہی کیا جا سکتا ہے۔ مجھے کسی کام پر صرف کسی دوسری شے ہی کے ذریعے مجبور کیا جا سکتا ہے۔
[آپ کہتے ہیں] خدا آزاد ہے۔ پھر آپ سوال کرتے ہیں کہ خدا دنیا کیوں خلق کرتا ہے۔ آپ خود سے متناقض ہو جاتے ہیں۔ خدا کا مفہوم خالصتاً آزاد ارادہ ہے۔ منطقی زبان میں سوال یوں ہوگا: اُس کو، جسے کوئی بھی مجبور نہیں کر سکتا، کس نے دنیا تخلیق کرنے پر مجبور کیا؟ آپ نے اپنے ہی سوال میں کہا، کس نے اُسے مجبور کیا؟ یہ سوال لغو ہے۔ وہ اپنی اصل فطرت ہی سے لامحدود ہے؛ وہ آزاد ہے۔ ہم سوالوں کا جواب اُسی وقت دیں گے جب آپ اُنہیں منطقی زبان میں پوچھ سکیں گے۔ عقل آپ کو بتائے گی کہ صرف ایک ہی حقیقت ہے، اِس کے سوا کچھ نہیں۔ جہاں کہیں ثنویت نے سر اٹھایا، توحید نے اُبھر کر اسے باہر نکال دیا۔
اِسے سمجھنے میں صرف ایک دقت ہے۔ مذہب ایک عام فہم، روزمرہ کی شے ہے۔ راہ چلتا انسان بھی اِسے جان لیتا ہے اگر اِسے اُس کی اپنی زبان میں رکھا جائے، نہ کہ [اگر اِسے] فلسفی کی زبان میں [رکھا جائے]۔ یہ انسانی فطرت میں عام بات ہے کہ وہ [اپنا پرتو اپنے سے باہر ڈالے]۔ بچے کے ساتھ اپنے جذبے پر غور کیجیے۔ [آپ خود کو اُس کے ساتھ ایک کر لیتے ہیں۔ پھر] آپ کے دو بدن ہو جاتے ہیں۔ [اِسی طرح] آپ اپنے شوہر کے ذہن کے ذریعے بھی محسوس کر سکتی ہیں۔ آپ کہاں رکیں گے؟ آپ لامحدود بدنوں میں محسوس کر سکتے ہیں۔
فطرت کو انسان روز فتح کرتا ہے۔ ایک نوع کی حیثیت سے، انسان اپنی قوت کا اظہار کر رہا ہے۔ تخیل میں اِس قوت کی کوئی حد طے کرنے کی کوشش کیجیے۔ آپ تسلیم کرتے ہیں کہ انسان بحیثیتِ نوع لامحدود قوت رکھتا ہے، [ایک] لامحدود بدن رکھتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ آپ کون ہیں۔ کیا آپ پوری نوع ہیں یا ایک [فرد]؟ جس لمحے آپ نے خود کو الگ تھلگ کیا، ہر چیز آپ کو دکھ دینے لگتی ہے۔ جس لمحے آپ پھیلتے ہیں اور دوسروں کے لیے محسوس کرتے ہیں، آپ کو مدد ملتی ہے۔ خود غرض انسان دنیا میں سب سے زیادہ بدبخت ہے۔ سب سے زیادہ خوش بخت وہ ہے جس میں ذرا بھی خود غرضی نہیں۔ وہ پوری تخلیق، پوری نوع بن چکا ہے اور خدا اُس کے اندر [موجود] ہے۔۔۔۔ یوں ثنویت میں — عیسائی، ہندو، اور تمام ادیان میں — اخلاق کا ضابطہ یہی ہے ۔۔۔۔ کہ: خود غرض مت بنو ۔۔۔۔ دوسروں کے لیے کام کرو! وسعت اختیار کرو! ۔۔۔۔
جاہل کو [یہ بات] نہایت آسانی سے سمجھائی جا سکتی ہے، اور عالم کو اِس سے بھی زیادہ آسانی سے۔ مگر وہ شخص جس کے پاس صرف علم کا ایک ذرہ ہو، اُسے خود خدا بھی نہیں سمجھا سکتا۔ [حقیقت یہ ہے کہ] آپ [اِس کائنات سے] جدا نہیں ہیں؛ جس طرح آپ کی [روح] آپ کے باقی وجود سے [جدا نہیں] ہے۔ اگر ایسا [نہ] ہوتا، تو آپ کچھ دیکھ نہ سکتے، کچھ محسوس نہ کر سکتے۔ ہمارے بدن مادے کے سمندر میں محض چھوٹے بھنور ہیں۔ زندگی ایک موڑ مڑتی ہے اور دوسری صورت میں آگے گزر جاتی ہے ۔۔۔۔ سورج، چاند، ستارے، آپ اور میں محض بھنور ہیں۔ میں نے [ایک خاص ذہن کو اپنا کیوں چن لیا؟ یہ تو] ذہن کے سمندر میں محض ایک ذہنی بھنور ہے۔
اور بھلا کیسے ممکن ہے کہ میرا ارتعاش اِسی لمحے آپ تک پہنچ جائے؟ اگر آپ جھیل میں پتھر پھینکیں، تو یہ ایک ارتعاش پیدا کرتا ہے اور [وہ] پانی کو ارتعاش میں ڈال دیتا ہے۔ میں اپنے ذہن کو سرور کی کیفیت میں ڈالتا ہوں اور رجحان یہی ہے کہ آپ کے ذہن میں بھی وہی سرور برپا کر دے۔ کتنی ہی بار اپنے ذہن یا قلب میں [آپ نے کوئی شے سوچی ہے] اور [زبانی] ابلاغ کے بغیر، [دوسروں کو آپ کی فکر مل گئی ہے]؟ ہر جگہ ہم ایک ہیں۔ ۔۔۔ یہی وہ بات ہے جو ہم کبھی نہیں سمجھتے۔ پوری [کائنات] زمان، مکان اور علتِ بالائی سے مرکب ہے۔ اور خدا [اِسی کائنات کی صورت میں ظہور پذیر ہے]۔ ۔۔۔ فطرت کب شروع ہوئی؟ جب آپ نے [اپنی اصل فطرت کو فراموش کیا اور] زمان، مکان اور علت [کے پابند بن گئے۔]
یہ آپ کے بدنوں کا [گردش کرتا] دائرہ ہے اور پھر بھی وہ آپ کی لامحدود فطرت ہے۔ ۔۔۔ وہ یقیناً فطرت ہے — زمان، مکان اور علت۔ فطرت سے بس یہی مراد ہے۔ زمان اُس وقت شروع ہوا جب آپ نے سوچنا شروع کیا۔ مکان اُس وقت شروع ہوا جب آپ کو بدن ملا؛ ورنہ کوئی مکان نہیں ہو سکتا۔ علت اُس وقت شروع ہوئی جب آپ محدود بن گئے۔ ہمیں کسی نوع کا جواب درکار ہے۔ یہی وہ جواب ہے۔ [ہماری محدودیت] ایک لیلا ہے۔ محض اپنی تفریح کے لیے۔ کوئی شے آپ کو پابند نہیں کرتی؛ کوئی شے آپ کو [مجبور نہیں کرتی۔ آپ] کبھی پابند نہیں تھے۔ ہم سب اپنے ہی ایجاد کردہ اِس [کھیل] میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
مگر آئیے انفرادیت کے بارے میں ایک اور سوال اٹھائیں۔ بعض لوگ اپنی انفرادیت کھونے سے بے حد خوف زدہ ہیں۔ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ سور اپنی سور-انفرادیت کھو دے اگر وہ خدا بن سکتا ہو؟ ہاں۔ مگر بے چارا سور اُس وقت ایسا نہیں سوچتا۔ کون سی کیفیت میری انفرادیت ہے؟ جب میں ایک شیر خوار تھا، فرش پر گھٹنوں چلتا ہوا اپنے انگوٹھے کو نگلنے کی کوشش کرتا تھا؟ کیا وہی انفرادیت تھی جس کے کھونے کا مجھے افسوس کرنا چاہیے؟ پچاس برس بعد میں اِس موجودہ حال کو دیکھ کر ہنسوں گا، بالکل اُسی طرح جیسے میں [اب] اُس شیر خوارگی کی حالت پر ہنستا ہوں۔ اِن میں سے کون سی انفرادیت کو میں سنبھال کر رکھوں؟ ۔۔۔
ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ اِس انفرادیت سے مراد کیا ہے۔ ۔۔۔ [دو متضاد رجحانات ہیں:] ایک انفرادیت کی حفاظت ہے، دوسرا انفرادیت کو قربان کرنے کی شدید خواہش۔ ۔۔۔ ماں اپنے محتاج شیر خوار کے لیے اپنی ساری مرضی قربان کر دیتی ہے۔ ۔۔۔ جب وہ بچے کو اپنی بانہوں میں اٹھاتی ہے، تو انفرادیت کی، اپنے تحفظ کی پکار اُسے سنائی ہی نہیں دیتی۔ وہ خود سب سے بدترین کھانا کھائے گی، مگر اُس کے بچوں کو بہترین ملے گا۔ اِسی طرح اُن سب لوگوں کے لیے جنہیں ہم چاہتے ہیں، ہم جان دینے کو تیار ہیں۔
[ایک طرف] ہم بڑی جدوجہد سے اِس انفرادیت کو قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں؛ دوسری طرف، اِسے فنا کرنے کی۔ نتیجہ کیا؟ ٹام براؤن بڑی جدوجہد کر سکتا ہے۔ وہ اپنی انفرادیت کے لیے [لڑ رہا] ہے۔ ٹام مر جاتا ہے اور زمین کی سطح پر کہیں ایک لہر بھی نہیں اٹھتی۔ انیس سو برس قبل ایک یہودی پیدا ہوا تھا، اور اُس نے اپنی انفرادیت کو بچانے کے لیے انگلی تک نہ ہلائی۔ ۔۔۔ ذرا سوچیے! اُس یہودی نے اپنی انفرادیت کو بچانے کے لیے کبھی جدوجہد نہ کی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کا سب سے عظیم ترین فرد بن گیا۔ یہی وہ بات ہے جو دنیا نہیں جانتی۔
بالآخر ہمیں افراد بننا ہے۔ مگر کس معنیٰ میں؟ انسان کی انفرادیت کیا ہے؟ ٹام براؤن نہیں، بلکہ انسان میں خدا۔ یہی [اصلی] انفرادیت ہے۔ انسان جتنا اُس کے قریب آیا ہے، اُتنا ہی اُس نے اپنی جھوٹی انفرادیت کو ترک کیا ہے۔ وہ جتنا ہر شے کو [اپنے لیے] سمیٹنے اور حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اُتنا ہی کم وہ ایک فرد ہے۔ اُس نے [خود] کے بارے میں جتنا کم سوچا ہے، اپنی زندگی میں جتنی زیادہ ساری انفرادیت قربان کی ہے، ۔۔۔ اُتنا ہی زیادہ وہ ایک فرد ہے۔ یہ ایک راز ہے جسے دنیا نہیں سمجھتی۔
ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ انفرادیت سے کیا مراد ہے۔ یہ مثالِ اعلیٰ کو حاصل کر لینا ہے۔ آپ اب مرد ہیں، [یا] آپ عورت ہیں۔ آپ ہر آن بدلتے رہیں گے۔ کیا آپ رک سکتے ہیں؟ کیا آپ اپنے ذہنوں کو ویسا ہی رکھنا چاہتے ہیں جیسے وہ اب ہیں — وہی غصے، نفرتیں، حسد، جھگڑے، ذہن کی ساری ہزار اور ایک باتیں؟ کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ اُنہیں قائم رکھیں گے؟ ۔۔۔ آپ کہیں رک نہیں سکتے ۔۔۔ جب تک کہ کامل فتح حاصل نہ ہو جائے، جب تک کہ آپ پاک اور کامل نہ بن جائیں۔
آپ کے اندر اب کوئی غصہ نہیں جب آپ سراپا عشق، سرور، لامحدود وجود بن جاتے ہیں۔ ۔۔۔ آپ اپنا کون سا بدن سنبھال کر رکھیں گے؟ آپ کہیں رک نہیں سکتے جب تک کہ آپ اُس زندگی تک نہ پہنچ جائیں جس کا کبھی خاتمہ نہیں۔ لامحدود زندگی! وہاں آپ رکتے ہیں۔ ابھی آپ کے پاس تھوڑا سا علم ہے اور آپ ہمیشہ مزید حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ آپ کہاں رکیں گے؟ کہیں نہیں، جب تک کہ آپ خود زندگی ہی کے ساتھ ایک نہ ہو جائیں۔ ۔۔۔
بہت سے لوگ لذت کو [اپنا] ہدف بنا لیتے ہیں۔ اُس لذت کے لیے وہ صرف حواس ہی کو ڈھونڈتے ہیں۔ بلند تر سطحوں پر بہت زیادہ لذت پانے کو ملتی ہے۔ پھر روحانی سطحوں پر۔ پھر خود اپنے اندر — اپنے اندر خدا میں۔ وہ شخص جس کی لذت اپنے [نفس] سے باہر ہو، وہ اُس وقت بدبخت ہو جاتا ہے جب وہ بیرونی شے جاتی رہے۔ اِس لذت کے لیے آپ اِس کائنات کی کسی شے پر انحصار نہیں کر سکتے۔ اگر میری ساری لذتیں خود میرے اندر ہوں، تو مجھے وہاں ہر دم لذت ملنی چاہیے کیونکہ میں اپنا "خود" کبھی کھو نہیں سکتا۔ ۔۔۔ ماں، باپ، اولاد، بیوی، بدن، دولت — ہر شے میں کھو سکتا ہوں سوائے اپنے "خود" کے ۔۔۔ "خود" میں سرور۔ ہر آرزو "خود" میں سمائی ہوئی ہے۔ ۔۔۔ یہی وہ انفرادیت ہے جو کبھی نہیں بدلتی، اور یہی کامل ہے۔
۔۔۔ اور اِسے کیسے حاصل کیا جائے؟ وہ پاتے ہیں جو دنیا کی عظیم ارواح — تمام عظیم مرد و عورت — نے [مسلسل تمیز و تشخیص کے ذریعے] پایا۔ ۔۔۔ بیس دیوتاؤں، تیس دیوتاؤں کے اِن ثنوی نظریات کی کیا اہمیت؟ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سب کے پاس وہی ایک سچائی تھی، کہ یہ جھوٹی انفرادیت جانی چاہیے۔ ۔۔۔ پس یہ نفس — اِس میں جتنا کم ہو، میں اُتنا ہی اُس کے قریب ہوں جو میں واقعتاً ہوں: یعنی آفاقی بدن۔ اپنے انفرادی ذہن کے بارے میں میں جتنا کم سوچتا ہوں، اُتنا ہی میں اُس آفاقی ذہن کے قریب ہوں۔ اپنی روح کے بارے میں میں جتنا کم سوچتا ہوں، اُتنا ہی میں آفاقی روح کے قریب ہوں۔
ہم ایک بدن میں رہتے ہیں۔ ہمیں کچھ درد ہے، کچھ لذت۔ بس اِسی تھوڑی سی لذت کے لیے جو ہمیں اِس بدن میں رہ کر ملتی ہے، ہم خود کو بچانے کی خاطر کائنات کی ہر شے کو ہلاک کر دینے کو تیار رہتے ہیں۔ اگر ہمارے دو بدن ہوں، تو کیا یہ کہیں بہتر نہ ہوگا؟ یوں آگے اور آگے سرور تک۔ میں ہر کسی میں ہوں۔ تمام ہاتھوں کے ذریعے میں کام کرتا ہوں؛ تمام پاؤں سے میں چلتا ہوں۔ میں ہر منہ سے بولتا ہوں؛ میں ہر بدن میں رہتا ہوں۔ لامحدود میرے بدن، لامحدود میرے ذہن۔ میں عیسیٰ ابنِ مریم میں رہا، بدھ میں، محمدؐ میں — ماضی اور حال کے ہر عظیم اور صالح فرد میں۔ میں اُن سب میں رہنے والا ہوں جو بعد میں [آ سکیں گے]۔ کیا یہ کوئی نظریہ ہے؟ [نہیں، یہ سچائی ہے۔]
اگر آپ اِسے محسوس کر سکیں، تو یہ کس قدر لامحدود حد تک زیادہ لذیذ ہوگا۔ کیسا وجد و سرور! کون سا ایک بدن اِتنا عظیم ہے کہ ہمیں یہاں بدن کی کوئی [شے] درکار ہو۔ ۔۔۔ دوسروں کے تمام بدنوں میں رہنے کے بعد، اِس دنیا میں جتنے بدن ہیں اُن سب میں، ہم کیا بن جاتے ہیں؟ [ہم لامحدود کے ساتھ ایک ہو جاتے ہیں۔ اور] یہی منزل ہے۔ یہی واحد راہ ہے۔ ایک [شخص] کہتا ہے: "اگر میں سچ جان لوں، تو میں مکھن کی طرح پگھل جاؤں گا۔" کاش لوگ ایسا ہوں، مگر وہ اِتنی جلدی پگھلنے کے لیے بہت سخت ہیں!
آزاد ہونے کے لیے ہمیں کیا کرنا ہے؟ آپ تو پہلے ہی آزاد ہیں۔ ۔۔۔ آزاد کبھی پابند کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ جھوٹ ہے۔ [آپ] کبھی پابند نہیں تھے۔ غیر محدود کسی شے سے کبھی محدود کیسے ہو سکتا ہے؟ لامحدود تقسیم بہ لامحدود، جمع بہ لامحدود، ضرب بہ لامحدود [بھی] لامحدود [ہی رہتا ہے]۔ آپ لامحدود ہیں؛ خدا لامحدود ہے۔ آپ سب لامحدود ہیں۔ دو وجود ہو ہی نہیں سکتے، صرف ایک۔ لامحدود کبھی محدود نہیں بنایا جا سکتا۔ آپ کبھی پابند نہیں ہیں۔ بس یہی سب کچھ ہے۔ ۔۔۔ آپ پہلے ہی آزاد ہیں۔ آپ منزل پر پہنچ چکے ہیں — جس قدر پہنچا جا سکتا ہے۔ ذہن کو ہرگز یہ نہ سوچنے دیں کہ آپ منزل تک نہیں پہنچے۔ ۔۔۔
جو کچھ ہم [سوچتے] ہیں وہی ہم بن جاتے ہیں۔ اگر آپ سوچیں کہ آپ بے چارے گناہگار ہیں تو آپ خود کو سحرزدہ کر لیتے ہیں: "میں ایک بدبخت، رینگتا ہوا کیڑا ہوں۔" جو دوزخ پر یقین رکھتے ہیں وہ مرنے پر دوزخ ہی میں ہوتے ہیں؛ جو کہتے ہیں کہ وہ جنت کو جائیں گے [وہ جنت کو جاتے ہیں]۔
سب کچھ ایک لیلا ہے۔ ۔۔۔ [آپ کہیں،] "ہمیں کچھ کرنا ہے؛ آئیے نیکی کریں۔" [مگر] خیر و شر کی پروا کسے ہے؟ کھیل! خدا قادرِ مطلق کھیلتا ہے۔ بس اتنی سی بات ہے۔ ۔۔۔ آپ خود وہی خدائے قادرِ مطلق ہیں جو کھیل رہا ہے۔ اگر آپ کنارے پر کھیلنا اور ایک بھکاری کا کردار ادا کرنا چاہیں، تو آپ [یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ انتخاب کسی اور نے کیا]۔ آپ بھکاری بننے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ آپ اپنی اصل فطرت [کو الٰہی] جانتے ہیں۔ آپ بادشاہ ہیں اور بھکاری کا روپ کھیل رہے ہیں۔ ۔۔۔ سب کچھ کھیل ہے۔ اِسے جانیے اور کھیلیے۔ بس اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔ پھر اِس کا عمل کیجیے۔ ساری کائنات ایک عظیم لیلا ہے۔ سب کچھ بھلا ہے کیونکہ سب کچھ کھیل ہے۔ یہ ستارہ آتا ہے اور ہماری زمین سے ٹکراتا ہے، اور ہم سب مر جاتے ہیں۔ [یہ بھی کھیل ہے۔] آپ صرف وہی چھوٹی چھوٹی چیزیں کھیل سمجھتے ہیں جو آپ کے حواس کو خوش کرتی ہیں! ۔۔۔
[ہمیں بتایا گیا ہے کہ] یہاں ایک نیک خدا ہے، اور وہاں ایک برا خدا ہمیشہ تاک میں رہتا ہے کہ جس لمحے میں غلطی کروں مجھے دبوچ لے۔ ۔۔۔ جب میں بچہ تھا تو کسی نے مجھے بتایا کہ خدا ہر چیز دیکھتا ہے۔ میں بستر پر گیا اور اوپر دیکھنے لگا اور توقع کرنے لگا کہ کمرے کی چھت کھل جائے گی۔ [کچھ نہ ہوا۔] خود ہمارے سوا کوئی ہمیں نہیں دیکھ رہا۔ ہمارے [اپنے "خود"] کے سوا کوئی رب نہیں؛ ہماری اپنی محسوسات کے سوا کوئی فطرت نہیں۔ عادت دوسری فطرت ہے؛ یہ پہلی فطرت بھی ہے۔ فطرت میں بس یہی سب کچھ ہے۔ میں [کسی شے] کو دو یا تین بار دہراتا ہوں؛ وہ میری فطرت بن جاتی ہے۔ بدبخت مت بنیے! نادم مت ہوں! جو ہوا سو ہوا۔ اگر آپ نے خود کو جلایا، [تو نتائج بھگتیے]۔
۔۔۔ سمجھدار بنیے۔ ہم سے غلطیاں ہوتی ہیں؛ تو کیا ہوا؟ یہ سب کھیل میں ہے۔ وہ اپنے گزشتہ گناہوں پر اِس قدر دیوانے ہو جاتے ہیں، آہ و زاری اور رونا دھونا اور وہ سب کچھ۔ نادم مت ہوں! کام کر چکنے کے بعد، اُس کے بارے میں نہ سوچیں۔ آگے بڑھتے جائیے! رکیے نہیں! پیچھے مت دیکھیے! پیچھے دیکھ کر آپ کیا پائیں گے؟ آپ نہ کچھ کھوتے ہیں، نہ کچھ پاتے ہیں۔ آپ مکھن کی طرح پگھلنے والے نہیں ہیں۔ جنتیں اور دوزخیں اور اواتار — سب لغو!
کون پیدا ہوتا ہے اور کون مرتا ہے؟ آپ مزہ لے رہے ہیں، جہانوں اور ہر شے سے کھیل رہے ہیں۔ آپ اِس بدن کو جب تک چاہیں رکھیے۔ اگر آپ کو پسند نہ ہو، تو نہ رکھیے۔ لامحدود اصل ہے؛ محدود کھیل ہے۔ آپ ایک ہی وقت میں لامحدود بدن اور محدود بدن ہیں۔ اِسے جانیے! مگر علم کوئی فرق نہیں ڈالے گا؛ کھیل جاری رہے گا۔ ۔۔۔ دو لفظ — روح اور بدن — جوڑ دیے گئے ہیں۔ [نامکمل] علم ہی اِس کا سبب ہے۔ جان لیجیے کہ آپ ہمیشہ آزاد ہیں۔ علم کی آگ تمام [نجاستوں اور حدبندیوں] کو جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔ میں وہی لامحدود ہوں۔ ۔۔۔
آپ ویسے ہی آزاد ہیں جیسے ابتدا میں تھے، جیسے اب ہیں، اور جیسے ہمیشہ رہیں گے۔ جو جانتا ہے کہ وہ آزاد ہے وہ آزاد ہے؛ جو جانتا ہے کہ وہ پابند ہے وہ پابند ہے۔
پھر خدا اور پرستش اور اُن سب باتوں کا کیا بنے گا؟ اُن کی بھی اپنی جگہ ہے۔ میں نے خود کو خدا اور "میں" میں تقسیم کر رکھا ہے؛ میں ہی معبود بن جاتا ہوں اور میں ہی اپنے "خود" کی پرستش کرتا ہوں۔ کیوں نہیں؟ خدا میں ہوں۔ اپنے "خود" کی پرستش کیوں نہ کروں؟ آفاقی خدا — وہ بھی میرا اپنا "خود" ہے۔ سب کچھ کھیل ہے۔ اور کوئی مقصد نہیں۔
زندگی کا انجام اور مقصد کیا ہے؟ کوئی نہیں، کیونکہ میں [جانتا ہوں کہ میں لامحدود ہوں]۔ اگر آپ بھکاری ہیں، تو آپ کے مقاصد ہو سکتے ہیں۔ میرا کوئی مقصد نہیں، کوئی خواہش نہیں، کوئی غرض نہیں۔ میں آپ کے ملک آتا ہوں، اور خطبہ دیتا ہوں — محض کھیل کے طور پر۔ اور کوئی مفہوم نہیں۔ کیا مفہوم ہو سکتا ہے؟ صرف غلام ہی کسی اور کے لیے اعمال کرتے ہیں۔ آپ کسی اور کے لیے اعمال نہیں کرتے۔ جب آپ کا جی چاہے، آپ پرستش کرتے ہیں۔ آپ عیسائیوں میں شامل ہو سکتے ہیں، مسلمانوں میں، چینیوں میں، جاپانیوں میں۔ آپ اُن تمام دیوتاؤں کی پرستش کر سکتے ہیں جو کبھی تھے اور جو ہمیشہ ہوں گے۔ ۔۔۔
میں سورج میں ہوں، چاند میں، اور ستاروں میں۔ میں خدا کے ساتھ ہوں اور میں تمام دیوتاؤں میں ہوں۔ میں اپنے "خود" کی پرستش کرتا ہوں۔
اِس کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ میں نے اِسے محفوظ رکھا تھا۔ میں وہی شخص ہوں جسے پھانسی دی جانے والی ہے۔ میں تمام بدکار ہوں۔ مجھے دوزخوں میں سزا دی جا رہی ہے۔ یہ [بھی] کھیل ہے۔ یہی فلسفے کی منزل ہے [کہ یہ جانا جائے کہ میں ہی لامحدود ہوں]۔ مقاصد، محرکات، اغراض اور فرائض پسِ منظر میں رہتے ہیں۔ ۔۔۔
اِس سچائی کو پہلے سننا ہے، پھر اِس پر غور کرنا ہے۔ عقل سے، ہر طرح کے ذرائع سے اِس پر بحث کیجیے۔ منور ضمیر اِس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے۔ یقین کے ساتھ جان لیجیے کہ آپ ہر شے میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو کسی کو دکھ نہیں پہنچانا چاہیے، کیونکہ اُنہیں دکھ پہنچا کر آپ خود کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ ۔۔۔ [آخر میں،] اِس پر مراقبہ کرنا ہے۔ اِس پر سوچیے۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک وقت آئے گا جب ہر شے خاک میں ریزہ ریزہ ہو جائے گی اور آپ تنہا کھڑے ہوں گے؟ سرور و وجد کا وہ لمحہ آپ کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔ آپ حقیقتاً پائیں گے کہ آپ بے بدن ہیں۔ آپ کے کبھی بدن تھے ہی نہیں۔
میں ایک ہوں، تنہا، تمام ابدیت میں۔ مجھے کس کا خوف؟ سب کچھ میرا اپنا "خود" ہے۔ اِس پر مسلسل مراقبہ کرنا ہے۔ اِسی کے ذریعے ادراک آتا ہے۔ ادراک ہی کے ذریعے آپ دوسروں کے لیے [نعمت] بن جاتے ہیں۔ ۔۔۔
"تیرا چہرہ اُس شخص کی طرح چمکتا ہے جس نے خدا کو جانا ہو۔" یہی منزل ہے۔ اِسے یوں منبر سے بیان نہیں کیا جانا چاہیے جیسے میں کر رہا ہوں۔ "ایک درخت کے نیچے میں نے ایک معلم دیکھا، سولہ برس کا ایک لڑکا؛ اور شاگرد اسّی برس کا بوڑھا تھا۔ معلم خاموشی سے تعلیم دے رہا تھا، اور شاگرد کے شکوک رفع ہو گئے۔" اور کون بولتا ہے؟ سورج کو دیکھنے کے لیے شمع کون جلائے؟ جب سچائی [طلوع ہو جائے]، تو کسی گواہ کی ضرورت نہیں۔ آپ اِسے جان لیتے ہیں۔ ۔۔۔۔ یہی وہ ہے جو آپ کرنے والے ہیں: ۔۔۔ اِسے محسوس کرنا۔ [پہلے اِس پر سوچیے۔ اِس پر استدلال کیجیے۔ اپنے تجسس کو سیر کر لیجیے۔ پھر اِس کے سوا کسی اور شے [پر سوچ] نہ کیجیے۔ کاش ہم کبھی کچھ نہ پڑھتے۔ خدا ہم سب پر مدد کرے! ذرا دیکھیے کہ ایک [عالم] شخص کیا بن جاتا ہے۔
"یہ کہا گیا، اور وہ کہا گیا۔ ۔۔۔"
"تم کیا کہتے ہو، میرے دوست؟"
"میں کچھ نہیں کہتا۔" [وہ] ہر کسی اور کی فکر [کا حوالہ دیتا ہے]؛ مگر وہ خود کچھ نہیں سوچتا۔ اگر یہی تعلیم ہے، تو پھر جنون کیا ہے؟ اُن تمام لوگوں کو دیکھیے جنہوں نے لکھا! ۔۔۔ یہ جدید مصنفین، اُن کے اپنے دو جملے بھی نہیں! سب اقتباسات۔ ۔۔۔
کتابوں میں زیادہ قیمت نہیں، اور [دوسروں سے مستعار] مذہب میں کوئی قیمت ہی نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کھانا۔ آپ کا مذہب میری تسلی نہ کرے گا۔ عیسیٰ نے خدا کو دیکھا اور بدھ نے خدا کو دیکھا۔ اگر آپ نے خدا کو نہیں دیکھا، تو آپ کسی ملحد سے بہتر نہیں۔ بس وہ خاموش ہے، اور آپ بہت بولتے ہیں اور اپنی باتوں سے دنیا کو خلل میں ڈالتے ہیں۔ کتابیں اور اناجیل اور صحائف کسی کام کے نہیں۔ جب میں لڑکا تھا تو میں ایک بوڑھے سے ملا؛ [اُس نے کوئی صحیفہ نہ پڑھا تھا، مگر اُس نے ایک لمس سے خدا کی سچائی منتقل کر دی]۔
خاموش رہو اے دنیا کے معلمو۔ خاموش رہو اے کتابو۔ اے رب، تُو ہی بول، اور تیرا بندہ سنتا ہے۔ ۔۔۔ اگر سچائی موجود نہیں، تو اِس زندگی کا کیا فائدہ؟ ہم سب سوچتے ہیں کہ ہم اسے پکڑ لیں گے، مگر ہم نہیں پکڑتے۔ ہم میں سے اکثر صرف غبار پکڑتے ہیں۔ خدا وہاں نہیں ہے۔ اگر کوئی خدا نہیں، تو زندگی کا کیا فائدہ؟ کیا کائنات میں کوئی آرام گاہ ہے؟ [یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اِسے پائیں]؛ مگر ہم [اسے شدت سے تلاش نہیں کرتے۔ ہم] دھارے میں بہتے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کی مانند ہیں۔
اگر یہ سچائی موجود ہے، اگر خدا ہے، تو وہ ہمارے اندر ہی ہونا چاہیے۔ ۔۔۔ [مجھے کہنے کے قابل ہونا چاہیے کہ،] "میں نے اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے،" ورنہ میرا کوئی مذہب نہیں۔ عقائد، تعلیمات، خطبے مذہب نہیں بناتے۔ خدا کا ادراک، خدا کا مشاہدہ [ہی صرف مذہب ہے]۔ اُن تمام مردوں کی شان کیا ہے جنہیں دنیا پوجتی ہے؟ خدا اُن کے لیے محض ایک عقیدہ نہ تھا۔ [کیا وہ یقین رکھتے تھے] کیونکہ اُن کے دادا یقین رکھتے تھے؟ نہیں۔ یہ تو لامحدود کا ادراک تھا، جو اُن کے اپنے بدنوں، ذہنوں اور ہر چیز سے بلند تر تھا۔ یہ دنیا اِس حد تک حقیقی ہے کہ اِس میں اُس خدا کی عکاسی کی ایک ذرہ سی جھلک موجود ہے۔ ہم نیک انسان سے محبت کرتے ہیں کیونکہ اُس کے چہرے میں وہ عکس کچھ زیادہ چمکتا ہے۔ ہمیں خود اِسے پکڑنا ہے۔ کوئی اور راہ نہیں۔
یہی منزل ہے۔ اِس کے لیے جدوجہد کیجیے! اپنی ذاتی انجیل رکھیے۔ اپنا ذاتی مسیح رکھیے۔ ورنہ آپ مذہبی نہیں ہیں۔ مذہب کی صرف باتیں مت کیجیے۔ لوگ باتیں اور باتیں کرتے ہیں۔ "اُن میں سے کچھ، اندھیرے میں ڈوبے ہوئے، اپنے دلوں کے غرور میں سمجھتے ہیں کہ اُنہیں روشنی مل گئی ہے۔ اور صرف [یہی نہیں]، بلکہ وہ دوسروں کو اپنے کندھوں پر اٹھانے کی پیشکش کرتے ہیں اور دونوں گڑھے میں گر جاتے ہیں۔" ۔۔۔
کسی کلیسا نے کبھی خود بہ خود کسی کو نہیں بچایا۔ مندر میں پیدا ہونا اچھی بات ہے، مگر افسوس اُس شخص پر جو مندر یا کلیسا میں مر جائے۔ اُس سے باہر نکلیے! ۔۔۔ یہ ایک اچھی ابتدا تھی، مگر اِسے چھوڑ دیجیے! یہ بچپن کا مقام تھا ۔۔۔ مگر اِسے یوں ہی رہنے دیجیے! ۔۔۔ سیدھے خدا کے پاس جائیے۔ کوئی نظریات نہیں، کوئی عقائد نہیں۔ تب ہی تمام شکوک رفع ہوں گے۔ تب ہی ہر ٹیڑھ سیدھی ہو گی۔ ۔۔۔
کثرت کے بیچ، جو اُس واحد کو دیکھتا ہے؛ اِس لامحدود موت کے بیچ، جو اُس واحد زندگی کو دیکھتا ہے؛ کثرت کے بیچ، جو اپنی ہی روح میں اُس شے کو دیکھتا ہے جو کبھی نہیں بدلتی — اُسی کے لیے ابدی سکون ہے۔
English
THE GOAL
(Delivered in San Francisco, March 27, 1900)
We find that man, as it were, is always surrounded by something greater than himself, and he is trying to grasp the meaning of this. Man will ever [seek] the highest ideal. He knows that it exists and that religion is the search after the highest ideal. At first all his searches were in the external plane — placed in heaven, in different places — just according to [his grasp] of the total nature of man.
[Later,] man began to look at himself a little closer and began to find out that the real "me" was not the "me" that he stands for ordinarily. As he appears to the senses is not the same as he really is. He began to [search] inside of himself, and found out that . . . the same ideal he [had placed] outside of himself is all the time within; what he was worshipping outside was his own real inner nature. The difference between dualism and monism is that when the ideal is put outside [of oneself], it is dualism. When God is [sought] within, it is monism.
First, the old question of why and wherefore . . . How is it that man became limited? How did the Infinite become finite, the pure become impure? In the first place, you must never forget that this question can never be answered [by] any dualistic hypothesis.
Why did God create the impure universe? Why is man so miserable, made by a perfect, infinite, merciful Father? Why this heaven and earth, looking at which we get our conception of law? Nobody can imagine anything that he has not seen.
All the tortures we feel in this life, we put in another place and that is our hell . . . .
Why did the infinite God make this world? [The dualist says:] Just as the potter makes pots. God the potter; we the pots. . . . In more philosophical language the question is: How is it taken for granted that the real nature of man is pure, perfect, and infinite? This is the one difficulty found in any system of monism. Everything else is clean and clear. This question cannot be answered. The monists say the question itself is a contradiction.
Take the system of dualism — the question is asked why God created the world. This is contradictory. Why? Because — what is the idea of God? He is a being who cannot be acted upon by anything outside.
You and I are not free. I am thirsty. There is something called thirst, over which I have no control, [which] forces me to drink water. Every action of my body and even every thought of my mind is forced out of me. I have got to do it. That is why I am bound . . . . I am forced to do this, to have this, and so on . . . . And what is meant by why and wherefore? [Being subject to external forces.] Why do you drink water? Because thirst forces you. You are a slave. You never do anything of your own will because you are forced to do everything. Your only motive for action is some force. . . .
The earth, by itself, would never move unless something forced it. Why does the light burn? It does not burn unless somebody comes and strikes a match. Throughout nature, everything is bound. Slavery, slavery! To be in harmony with nature is [slavery]. What is there in being the slave of nature and living in a golden cage? The greatest law and order is in the [knowledge that man is essentially free and divine] Now we see that the question why and wherefore can only be asked [in ignorance]. I can only be forced to do something through something else.
[You say] God is free. Again you ask the question why God creates the world. You contradict yourself. The meaning of God is entirely free will. The question put in logical language is this: What forced Him, who can never be forced by anybody, to create the world? You say in the same question, What forced Him? The question is nonsense. He is infinite by His very nature; He is free. We shall answer questions when you can ask them in logical language. Reason will tell you that there is only one Reality, nothing else. Wherever dualism has risen, monism came to a head and drove it out.
There is only one difficulty in understanding this. Religion is a common-sense, everyday thing. The man in the street knows it if you put it in his language and not [if it is put] in a philosopher's language. It is a common thing in human nature to [project itself]. Think of your feeling with the child. [You identify yourself with it. Then] you have two bodies. [Similarly] you can feel through your husband's mind Where can you stop? You can feel in infinite bodies.
Nature is conquered by man every day. As a race, man is manifesting his power. Try in imagination to put a limit to this power in man. You admit that man as a race has infinite power, has [an] infinite body. The only question is what you are. Are you the race or one [individual]? The moment you isolate yourself, everything hurts you. The moment you expand and feel for others, you gain help. The selfish man is the most miserable in the world. The happiest is the man who is not at all selfish. He has become the whole creation, the whole race and God [is] within him. . . . So in dualism — Christian, Hindu, and all religions — the code of ethics . . . . is: Do not be selfish . . . . things for others! Expand! . . . .
The ignorant can be made to understand [this] very easily, and the learned can be made to understand still more easily. But the man who has just got a speck of learning, him God himself cannot make understand. [The truth is,] you are not separate [from this universe]; Just as your Spirit] is [not] separate from the rest of you. If [not] so, you could not see anything, could not feel anything. Our bodies are simply little whirlpools in the ocean of matter. Life is taking a turn and passing on, in another form . . . . The sun, the moon, the stars, you and I are mere whirlpools. Why did I select [a particular mind as mine? It is] simply a mental whirlpool in the ocean of mind.
How else is it possible that my vibration reaches you just now? If you throw a stone in the lake, it raises a vibration and [that stirs] the water into vibration. I throw my mind into the state of bliss and the tendency is to raise the same bliss in your mind. How often in your mind or heart [you have thought something] and without [verbal] communication, [others have got your thought]? Everywhere we are one. . . . That is what we never understand. The whole [universe] is composed of time, space, and causation. And God [appears as this universe]. . . . When did nature begin? When you [forgot your true nature and] became [bound by time, space, and causation].
This is the [rotating] circle of your bodies and yet that is your infinite nature. . . . That is certainly nature — time, space, and causation. That is all that is meant by nature. Time began when you began to think. Space began when you got the body; otherwise there cannot be any space. Causation began when you became limited. We have to have some sort of answer. There is the answer. [Our limitation] is play. Just for the fun of it. Nothing binds you; nothing forces [you. You were] never bound. We are all acting our parts in this [play] of our own invention.
But let us bring another question about individuality. Some people are so afraid of losing their individuality. Wouldn't it be better for the pig to lose his pig-individuality if he can become God? Yes. But the poor pig does not think so at the time. Which state is my individuality? When I was a baby sprawling on the floor trying to swallow my thumb? Was that the individuality I should be sorry to lose? Fifty years hence I shall look upon this present state and laugh, just as I [now] look upon the baby state. Which of these individualities shall I keep ? . . .
We are to understand what is meant by this individuality. . . . [There are two opposite tendencies:] one is the protection of the individuality, the other is the intense desire to sacrifice the individuality. . . . The mother sacrifices all her own will for the needy baby. . . . When she carries the baby in her arms, the call of individuality, of self-preservation is no more heard. She will eat the worst food, but her children will have the best. So for all the people we love we are ready to die.
[On the one hand] we are struggling hard to keep up this individuality; on the other hand, trying to kill it. With what result? Tom Brown may struggle hard. He is [fighting] for his individuality. Tom dies and there is not a ripple anywhere upon the surface of the earth. There was a Jew born nineteen hundred years ago, and he never moved a finger to keep his individuality. . . . Think of that! That Jew never struggled to protect his individuality. That is why he became the greatest in the world. This is what the world does not know.
In time we are to be individuals. But in what sense? What is the individuality of man? Not Tom Brown, but God in man. That is the [true] individuality. The more man has approached that, the more he has given up his false individuality. The more he tries to collect and gain everything [for himself], the less he is an individual. The less he has thought of [himself], the more he has sacrificed all individuality during his lifetime, . . . the more he is an individual. This is one secret the world does not understand.
We must first understand what is meant by individuality. It is attaining the ideal. You are man now, [or] you are woman. You will change all the time. Can you stop? Do you want to keep your minds as they are now — the angels, hatreds, jealousies, quarrels, all the thousand and one things in the mind? Do you mean to say that you will keep them? . . . You cannot stop anywhere . . . until perfect conquest has been achieved, until you are pure and you are perfect.
You have no more anger when you are all love, bliss, infinite existence. . . . Which of your bodies will you keep? You cannot stop anywhere until you come to life that never ends. Infinite life! You stop there. You have a little knowledge now and are always trying to get more. Where will you stop? Nowhere, until you become one with life itself. . . .
Many want pleasure [as] the goal. For that pleasure they seek only the senses. On the higher planes much pleasure is to be sought. Then on spiritual planes. Then in himself — God within him. The man whose pleasure is outside of [himself] becomes unhappy when that outside thing goes. You cannot depend for this pleasure upon anything in this universe. If all my pleasures are in myself, I must have pleasure there all the time because I can never lose my Self. . . . Mother, father, child, wife, body, wealth — everything I can lose except my self . . . bliss in the Self All desire is contained in the Self. . . . This is individuality which never changes, and this is perfect.
. . . And how to get it? They find what the great souls of this world — all great men and women — found [through sustained discrimination]. . . . What of these dualistic theories of twenty gods, thirty gods? It does not matter. They all had the one truth, that this false individuality must go. . . . So this ego — the less there is of it, the nearer I am to that which I really am: the universal body. The less I think of my own individual mind, the nearer I am to that universal mind. The less I think of my own soul, the nearer I am to the universal soul.
We live in one body. We have some pain, some pleasure. Just for this little pleasure we have by living in this body, we are ready to kill everything in the universe to preserve ourselves. If we had two bodies, would not that be much better? So on and on to bliss. I am in everybody. Through all hands I work; through all feet I walk. I speak through every mouth; I live in every body. Infinite my bodies, infinite my minds. I lived in Jesus of Nazareth, in Buddha, in Mohammed — in all the great and good of the past, of the present. I am going to live in all that [may] come afterwards. Is that theory [No, it is the truth.]
If you can realise this, how infinitely more pleasurable that will be. What an ecstasy of joy! Which one body is so great that we need here anything [of] the body. . . After living in all the bodies of others, all the bodies there are in this world, what becomes of us? [We become one with the Infinite. And] that is the goal. That is the only way. One [man] says, "If I know the truth, I shall be melted away like butter." I wish people would be, but they are too tough to be melted so quickly!
What are we to do to be free? Free you are already. . . . How could the free ever be bound? It is a lie. [You were] never bound. How could the unlimited ever be limited by anything? Infinite divided by infinite, added to infinite, multiplied by infinite [remains] infinite. You are infinite; God is infinite. You are all infinite. There cannot be two existences, only one. The Infinite can never be made finite. You are never bound. That is all. . . . You are free already. You have reached the goal — all there is to reach. Never allow the mind to think that you have not reached the goal. . . .
Whatever we [think] that we become. If you think you are poor sinners you hypnotise yourselves: "I am a miserable, crawling worm." Those who believe in hell are in hell when they die; those who say that they will go to heaven [go to heaven].
It is all play. . . . [You may say,] "We have to do something; let us do good." [But] who cares for good and evil? Play! God Almighty plays. That is all. . . .You are the almighty God playing. If you want to play on the side and take the part of a beggar, you are not [to blame someone else for making that choice]. You enjoy being the beggar. You know your real nature [to be divine]. You are the king and play you are a beggar. . . . It is all fun. Know it and play. That is all there is to it. Then practice it. The whole universe is a vast play. All is good because all is fun. This star comes and crashes with our earth, and we are all dead. [That too is fun.] You only think fun the little things that delight your senses! . . .
[We are told that there is] one good god here, and one bad god there always on the watch to grab me the moment I make a mistake. . . . When I was a child I was told by someone that God watches everything. I went to bed and looked up and expected the ceiling of the room to open. [Nothing happened.] Nobody is watching us except ourselves. No Lord except our [own Self]; no nature but what we feel. Habit is second nature; it is first nature also. It is all there is of nature. I repeat [something] two or three times; it becomes my nature. Do not be miserable! Do not repent! What is done is done. If you burn yourself, [take the consequences].
. . . Be sensible. We make mistakes; what of that? That is all in fun. They go so crazy over their past sins, moaning and weeping and all that. Do not repent! After having done work, do not think of it. Go on! Stop not! Don't look back! What will you gain by looking back? You lose nothing, gain nothing. You are not going to be melted like butter. Heavens and hells and incarnations — all nonsense!
Who is born and who dies? You are having fun, playing with worlds and all that. You keep this body as long as you like. If you do not like it, do not have it. The Infinite is the real; the finite is the play. You are the infinite body and the finite body in one. Know it! But knowledge will not make any difference; the play will go on. . . . Two words — soul and body — have been joined. [Partial] knowledge is the cause. Know that you are always free. The fire of knowledge burns down all the [impurities and limitations]. I am that Infinite. . . .
You are as free as you were in the beginning, are now, and always will be. He who knows that he is free is free; he who knows that he is bound is bound.
What becomes of God and worship and all that? They have their place. I have divided myself into God and me; I become the worshipped and I worship myself. Why not? God is I. Why not worship my Self? The universal God — He is also my Self. It is all fun. There is no other purpose.
What is the end and aim of life? None, because I [know that I am the Infinite]. If you are beggars, you can have aims. I have no aims, no want, no purpose. I come to your country, and lecture — just for fun. No other meaning. What meaning can be there? Only slaves do actions for somebody else. You do actions for nobody else. When it suits you, you worship. You can join the Christians, the Mohammedans, the Chinese, the Japanese. You can worship all the gods that ever were and are ever going to be. . . .
I am in the sun, the moon, and the stars. I am with God and I am in all the gods. I worship my Self.
There is another side to it. I have kept it in reserve. I am the man that is going to be hanged. I am all the wicked. I am getting punished in hells. That [also] is fun. This is the goal of philosophy [to know that I am the Infinite]. Aims, motives, purposes, and duties live in the background. . . .
This truth is first to be listened to then to be thought about. Reason, argue it out by all manner of means. The enlightened know no more than that. Know it for certain that you are in everything. That is why you should not hurt anybody, because in hurting them you hurt yourself. . . . [Lastly,] this is to be meditated upon. Think upon it. Can you realise there will come a time when everything will crumble in the dust and you will stand alone? That moment of ecstatic joy will never leave you. You will actually find that you are without bodies. You never had bodies.
I am One, alone, through all eternity. Whom shall I fear? It is all my Self. This is continuously to be meditated upon. Through that comes realisation. It is through realisation that you become a [blessing] to others. . . .
"Thy face shines like [that of] one who has known God." That is the goal. This is not to be preached as I am doing. "Under a tree I saw a teacher, a boy of sixteen; the disciple was an old man of eighty. The teacher was teaching in silence, and the doubts of the disciple vanished." And who speaks? Who lights a candle to see the sun? When the truth [dawns], no witness is necessary. You know it . . . . That is what you are going to do: . . . realise it. [first think of it. Reason it out. Satisfy your curiosity. Then [think] of nothing else. I wish we never read anything. Lord help us all! Just see what [a learned] man becomes.
"This is said, and that is said. . . ."
"What do you say, my friend?"
"I say nothing." [He quotes] everybody else's thought; but he thinks nothing. If this is education, what is lunacy? Look at all the men who wrote! . . . These modern writers, not two sentences their own! All quotations. . . .
There is not much value in books, and in [secondhand] religion there is no value whatsoever. It is like eating. Your religion would not satisfy me Jesus saw God and Buddha saw God. If you have not seen God, you are no better than the atheist. Only he is quiet, and you talk much and disturb the world with your talk. Books and bibles and scriptures are of no use. I met an old man when I was a boy; [he did not study any scripture, but he transmitted the truth of God by a touch].
Silence ye teachers of the world. Silence ye books. Lord, Thou alone speak and Thy servant listeneth. . . . If truth is not there, what is the use of this life? We all think we will catch it, but we do not. Most of us catch only dust. God is not there. If no God, what is the use of life? Is there any resting-place in the universe? [It is up to us to find it]; only we do not [search for it intensely. We are] like a little piece of maw carried on in the current.
If there is this truth, if there is God, it must be within us. . . . [I must be able to say,] "I have seen Him with my eyes," Otherwise I have no religion. Beliefs, doctrines, sermons do not make religion. It is realisation, perception of God [which alone is religion]. What is the glory of all these men whom the world worships? God was no more a doctrine [for them. Did they believe] because their grandfather believed it? No. It was the realisation of the Infinite, higher than their own bodies, minds, and everything. This world is real inasmuch as it contains a little bit [of] the reflection of that God. We love the good man because in his face shines the reflection a little more. We must catch it ourselves. There is no other way.
That is the goal. Struggle for it! Have your own Bible. Have your own Christ. Otherwise you are not religious. Do not talk religion. Men talk and talk. "Some of them, steeped in darkness, in the pride of their hearts think that they have the light. And not only [that], they offer to take others upon their shoulders and both fall into the pit." . . .
No church ever saved by itself. It is good to be born in a temple, but woe unto the person who dies in a temple or church. Out of it! . . . It was a good beginning, but leave it! It was the childhood place . . . but let it be! . . . Go to God directly. No theories, no doctrines. Then alone will all doubts vanish. Then alone will all crookedness be made straight. . . .
In the midst of the manifold, he who sees that One; in the midst of this infinite death, he who sees that one life; in the midst of the manifold, he who sees that which never changes in his own soul — unto him belongs eternal peace.
متن ویکی سورس عوامی ملکیت سے۔ اصل کو ادویت آشرم نے شائع کیا۔