ویویکانند آرکائیو

مشرق کی عورتیں

جلد8 lecture
184 الفاظ · 1 منٹ کا مطالعہ · Notes of Class Talks and Lectures

یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ براہ کرم اصل انگریزی متن سے رجوع کریں۔

AI-translated. May contain errors. For accurate text, refer to the original English.

اردو

سوامی وویکانند نے ایک خصوصی اجلاس میں مشرق کی خواتین کے حال اور مستقبل پر بات کی۔ انہوں نے فرمایا، "کسی قوم کی ترقی کا بہترین پیمانہ اس کا اپنی خواتین کے ساتھ سلوک ہے۔ قدیم یونان میں مرد اور عورت کی حالت میں بالکل کوئی فرق نہیں تھا۔ کامل مساوات کا تصور موجود تھا۔ کوئی ہندو کاہن نہیں بن سکتا جب تک وہ شادی شدہ نہ ہو، اس خیال سے کہ غیر شادی شدہ مرد صرف آدھا انسان ہے اور نامکمل۔ کمالِ نسائیت کا تصور کامل آزادی ہے۔ ایک جدید ہندو خاتون کی زندگی کا مرکزی خیال اس کی عفت ہے۔ بیوی ایک دائرے کا مرکز ہے، جس کی ثابت قدمی اس کی عفت پر موقوف ہے۔ یہی خیال انتہا کو پہنچ کر ہندو بیواؤں کو زندہ جلانے کا سبب بنا۔ ہندو خواتین انتہائی روحانی اور دیندار ہیں، شاید دنیا کی کسی بھی دوسری خواتین سے زیادہ۔ اگر ہم ان خوبصورت خصوصیات کو محفوظ رکھ سکیں اور ساتھ ہی اپنی خواتین کی فکری صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھا سکیں، تو مستقبل کی ہندو خاتون دنیا کی مثالی خاتون ہوگی۔"

## حوالہ جات

English

Swami Vivekananda, at a special meeting, discussed the present and future of the women of the East. He said, "The best thermometer to the progress of a nation is its treatment of its women. In ancient Greece there was absolutely no difference in the state of man and woman. The idea of perfect equality existed. No Hindu can be a priest until he is married, the idea being that a single man is only half a man, and imperfect. The idea of perfect womanhood is perfect independence. The central idea of the life of a modern Hindu lady is her chastity. The wife is the centre of a circle, the fixity of which depends upon her chastity. It was the extreme of this idea which caused Hindu widows to be burnt. The Hindu women are very spiritual and very religious, perhaps more so than any other women in the world. If we can preserve these beautiful characteristics and at the same time develop the intellects of our women, the Hindu woman of the future will be the ideal woman of the world."

## References


متن ویکی سورس عوامی ملکیت سے۔ اصل کو ادویت آشرم نے شائع کیا۔