بیدار ہندوستان کے نام
یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ براہ کرم اصل انگریزی متن سے رجوع کریں۔
AI-translated. May contain errors. For accurate text, refer to the original English.
اردو
ایک بار پھر بیدار ہو جائیے!
کیونکہ یہ نیند تھی، موت نہیں، جو آپ کو نئے سرے سے زندگی عطا کرنے آئی،
اور آپ کی نیلوفری آنکھوں کو اُن جسور رویتوں کے لیے آرام بخشنے،
جو ابھی باقی ہیں۔ اے حق! دنیا اپنی حاجت میں منتظر ہے۔
آپ کے لیے کوئی موت نہیں!
اپنا سفر دوبارہ شروع کیجیے،
اُن نرم قدموں کے ساتھ جو راہ کے اُس خاک کے
پُرسکون آرام کو بھی نہ توڑیں
جو اِس قدر پست پڑی ہے۔ پھر بھی مضبوط و ثابت قدم،
سرشار، نڈر اور آزاد۔ اے بیدار کرنے والے، ہمیشہ
آگے بڑھتے رہیے! اپنے ولولہ انگیز کلمات ارشاد فرمائیے۔
آپ کا گھر اُجڑ گیا،
جہاں محبت بھرے دلوں نے آپ کو پالا تھا اور
مسرت سے آپ کی نشو و نما دیکھی تھی۔ مگر تقدیر زبردست ہے—
یہی قانون ہے—ہر شے اپنے اُس سرچشمے کی طرف لوٹتی ہے
جہاں سے وہ پھوٹی تھی، تاکہ اپنی قوت کو از سرِ نو پائے۔
پھر نئے سرے سے آغاز کیجیے
اپنی جنم بھومی سے، جہاں عظیم بادلوں سے گھری ہوئی
برفیں آپ پر برکت برساتی ہیں اور اپنی قوت آپ میں بھرتی ہیں،
نئے عجائب کرنے کے لیے۔ وہ آسمانی
ندی آپ کی آواز کو اپنے لازوال نغمے سے ہم آہنگ کرے؛
دیودار کے سائے آپ کو ابدی سکون بخشیں۔
اور اِن سب سے بالاتر،
ہمالہ کی بیٹی اُما، نرم خو، پاکیزہ،
وہ ماں جو سب میں قوت اور
زندگی بن کر بستی ہے، جو تمام کام انجام دیتی ہے اور
ایک سے ہی دنیا بناتی ہے، جس کی رحمت
حق کا دروازہ کھولتی ہے اور
سب میں اُس ایک کو دکھاتی ہے، وہ آپ کو ناتھکنے والی
قوت عطا کرے، جو لامحدود محبت ہے۔
وہ سب آپ کو دعا دیتے ہیں،
وہ عظیم عارف، جنہیں نہ کوئی زمانہ اور نہ کوئی اقلیم
اپنا کہہ سکتی، نوعِ انسانی کے وہ آباء،
جنہوں نے حق کے دل کو یکساں محسوس کیا،
اور جنہوں نے دلیری سے انسان کو سکھایا، خواہ بدزبانی سے ہو یا
خوش بیانی سے۔ اے اُن کے خدمت گزار، آپ کو
وہ راز مل گیا ہے—وہ بس ایک ہی ہے۔
پھر بولیے، اے محبت!
آپ کی نرم و پُرسکون آواز کے سامنے، دیکھیے کیسے
رویتیں پگھل جاتی ہیں اور خوابوں کی تہہ در تہہ
نیستی میں رخصت ہو جاتی ہیں، یہاں تک کہ حق، اور صرف حق
اپنی تمام تر شان میں جگمگا اٹھتا ہے—
اور دنیا سے کہہ دیجیے—
بیدار ہو جاؤ، اٹھ کھڑے ہو، اور اب کوئی خواب نہ دیکھو!
یہ خوابوں کی سرزمین ہے، جہاں کرما
ہمارے خیالات سے بن دھاگے کے ہار بُنتا ہے
میٹھے یا زہریلے پھولوں کے، اور کسی کی
نہ جڑ ہے نہ تنا، کیونکہ وہ عدم سے جنم لیتے ہیں، جنہیں
حق کی نرم ترین پھونک واپس
ازلی نیستی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ نڈر ہوں، اور
حق کا سامنا کیجیے! اُس کے ساتھ ایک ہو جائیے! رویتوں کو ختم ہونے دیجیے،
یا، اگر آپ نہیں کر سکتے، تو بس سچے تر خواب دیکھیے،
جو ابدی محبت اور آزاد خدمت ہیں۔
حواشی
English
Once more awake!
For sleep it was, not death, to bring thee life
Anew, and rest to lotus-eyes for visions
Daring yet. The world in need awaits, O Truth!
No death for thee!
Resume thy march,
With gentle feet that would not break the
Peaceful rest even of the roadside dust
That lies so low. Yet strong and steady,
Blissful, bold, and free. Awakener, ever
Forward! Speak thy stirring words.
Thy home is gone,
Where loving hearts had brought thee up and
Watched with joy thy growth. But Fate is strong—
This is the law—all things come back to the source
They sprung, their strength to renew.
Then start afresh
From the land of thy birth, where vast cloud-belted
Snows do bless and put their strength in thee,
For working wonders new. The heavenly
River tune thy voice to her own immortal song ;
Deodar shades give thee eternal peace.
And all above,
Himala's daughter Umâ, gentle, pure,
The Mother that resides in all as Power
And Life, who works all works and
Makes of One the world, whose mercy
Opens the gate to Truth and shows
The One in All, give thee untiring
Strength, which is Infinite Love.
They bless thee all,
The seers great, whom age nor clime
Can claim their own, the fathers of the
Race, who felt the heart of Truth the same,
And bravely taught to man ill-voiced or
Well. Their servant, thou hast got
The secret—'tis but One.
Then speak, O Love!
Before thy gentle voice serene, behold how
Visions melt and fold on fold of dreams
Departs to void, till Truth and Truth alone
In all its glory shines—
And tell the world—
Awake, arise, and dream no more!
This is the land of dreams, where Karma
Weaves unthreaded garlands with our thoughts
Of flowers sweet or noxious, and none
Has root or stem, being born in naught, which
The softest breath of Truth drives back to
Primal nothingness. Be bold, and face
The Truth! Be one with it! Let visions cease,
Or, if you cannot, dream but truer dreams,
Which are Eternal Love and Service Free.
Notes
متن ویکی سورس عوامی ملکیت سے۔ اصل کو ادویت آشرم نے شائع کیا۔