ابتدائی مدارج
یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ براہ کرم اصل انگریزی متن سے رجوع کریں۔
AI-translated. May contain errors. For accurate text, refer to the original English.
اردو
ابتدائی قدم
اُن فلسفیوں نے جنہوں نے عشق (بھکتی) پر قلم اٹھایا، اِسے خدا کے لیے انتہائی محبت سے تعبیر کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسان کو خدا سے محبت کیوں کرنی چاہیے؛ اور جب تک ہم اِس بات کو نہ سمجھ لیں، اِس موضوع کی تہہ تک ہم ہرگز نہیں پہنچ سکتے۔ زندگی کے دو بالکل مختلف نصب العین ہیں۔ کسی بھی ملک کا کوئی بھی انسان جو کسی مذہب کا حامل ہے، یہ جانتا ہے کہ وہ ایک جسم بھی ہے اور ایک روح بھی۔ مگر انسانی زندگی کے مقصد کے بارے میں بہت بڑا اختلاف پایا جاتا ہے۔
مغربی ممالک میں عام طور پر لوگ انسان کے جسمانی پہلو پر زیادہ زور دیتے ہیں؛ جب کہ ہندوستان میں جن فلسفیوں نے عشق پر لکھا، اُنہوں نے انسان کے روحانی پہلو پر زور دیا؛ اور یہ فرق گویا مشرقی اور مغربی اقوام کی نمائندہ خصوصیت معلوم ہوتا ہے۔ یہ فرق روزمرہ کی زبان میں بھی نمایاں ہے۔ انگلستان میں موت کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے اپنی روح حوالے کر دی؛ ہندوستان میں کہا جاتا ہے کہ فلاں نے اپنا جسم چھوڑ دیا۔ ایک تصور یہ ہے کہ انسان جسم ہے اور ایک روح رکھتا ہے؛ دوسرا یہ کہ انسان روح ہے اور ایک جسم رکھتا ہے۔ اِسی سے زیادہ پیچیدہ مسائل جنم لیتے ہیں۔ فطری طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو نصب العین یہ مانتا ہے کہ انسان جسم ہے اور روح رکھتا ہے، وہ سارا زور جسم پر صرف کرتا ہے۔ اگر آپ پوچھیں کہ انسان کس لیے جیتا ہے، تو آپ کو بتایا جائے گا کہ حواس سے لطف اندوز ہونے کے لیے، املاک اور دولت سے لطف اٹھانے کے لیے۔ وہ اِس سے آگے کسی چیز کا تصور بھی نہیں کر سکتا، خواہ اُسے اِس کے بارے میں بتایا بھی جائے؛ آئندہ زندگی کا اُس کا تصور اِسی لطف اندوزی کے تسلسل سے زیادہ کچھ نہیں۔ اُسے بے حد افسوس ہے کہ یہ سب یہاں ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتا، اور اُسے رخصت ہونا ہی پڑتا ہے؛ اور وہ سوچتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ کسی ایسی جگہ جائے گا جہاں یہی سب کچھ از سرِ نو میسر ہوگا۔ اُسے وہی لطف، وہی حواس حاصل ہوں گے، مگر کہیں زیادہ بڑھے ہوئے اور توانا۔ وہ خدا کی عبادت کرنا چاہتا ہے، کیونکہ خدا اِسی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اُس کی زندگی کا مقصد حسی اشیا سے لطف اندوزی ہے، اور اُسے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ایسی ہستی موجود ہے جو اُسے اِن لذتوں کا بہت طویل پٹہ عطا کر سکتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہے۔
دوسری جانب ہندوستانی تصور یہ ہے کہ خدا ہی زندگی کا مقصد ہے؛ خدا سے ماورا کچھ نہیں، اور حسی لذتیں محض وہ چیزیں ہیں جن میں سے ہم اِس وقت بہتر چیزوں کی اُمید پر گزر رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں؛ یہ تو ہولناک اور تباہ کن ہوتا اگر انسان کے پاس حسی لذتوں کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ اپنی روزمرہ کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ جتنی حسی لذتیں کم ہوں، انسان کی زندگی اُتنی ہی بلند ہوتی ہے۔ کتے کو دیکھیے جب وہ کھاتا ہے۔ کسی انسان نے کبھی اُتنے اطمینان سے نہیں کھایا۔ سؤر کو دیکھیے جو کھاتے ہوئے اطمینان کی غُرغُراہٹ نکالتا ہے؛ یہی اُس کی جنت ہے، اور اگر سب سے عظیم فرشتہ بھی آ کر اُسے دیکھے، تو سؤر اُس کی طرف نگاہ تک نہ ڈالے گا۔ اُس کا سارا وجود اُس کے کھانے میں ہے۔ کوئی انسان کبھی پیدا نہیں ہوا جو اِس طرح کھا سکتا۔ ادنیٰ جانوروں میں سننے کی طاقت، دیکھنے کی طاقت پر غور کیجیے؛ اُن کے سارے حواس نہایت ترقی یافتہ ہوتے ہیں۔ حواس سے اُن کی لطف اندوزی انتہا کو پہنچی ہوتی ہے؛ وہ مسرت اور لذت سے بالکل دیوانے ہو جاتے ہیں۔ اور انسان بھی جتنا ادنیٰ ہو، اُتنا ہی زیادہ لطف وہ حواس میں پاتا ہے۔ جوں جوں وہ بلند تر ہوتا ہے، اُس کی منزل عقل اور محبت بنتی جاتی ہے۔ جس تناسب سے یہ قوتیں نشو و نما پاتی ہیں، اُسی تناسب سے وہ حواس سے لطف اندوز ہونے کی طاقت کھوتا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر، اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ انسان کو ایک خاص مقدار میں طاقت عطا کی گئی ہے، اور یہ کہ اِسے یا تو جسم پر، یا ذہن پر، یا روح پر صرف کیا جا سکتا ہے، تو اِن میں سے کسی ایک پر صرف کی گئی ساری طاقت دوسروں پر صرف کرنے کے لیے بالکل اُسی قدر کم باقی چھوڑتی ہے۔ جاہل یا وحشی نسلوں کے حسی قویٰ متمدن نسلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں، اور درحقیقت یہ تاریخ سے ہمیں ملنے والے اسباق میں سے ایک ہے کہ جوں جوں کوئی قوم متمدن ہوتی جاتی ہے، اعصابی نظام نفیس تر ہوتا جاتا ہے، اور وہ جسمانی طور پر کمزور تر ہو جاتے ہیں۔ کسی وحشی نسل کو متمدن کر دیجیے، اور آپ کو وہی بات نظر آئے گی؛ کوئی دوسری وحشی نسل اٹھتی ہے اور اُسے فتح کر لیتی ہے۔ تقریباً ہمیشہ وہی وحشی نسل ہوتی ہے جو فتح کرتی ہے۔ پس ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ہم محض ہمیشہ حسی لذتیں ہی حاصل کرنا چاہیں، تو ہم خود کو حیوانی درجے تک گرا لیتے ہیں۔ انسان نہیں جانتا کہ وہ کیا مانگ رہا ہے جب وہ کہتا ہے کہ وہ کسی ایسی جگہ جانا چاہتا ہے جہاں اُس کی حسی لذتیں شدید تر ہوں؛ یہ تو وہ صرف حیوانوں کی سطح تک اتر کر ہی پا سکتا ہے۔
ایسا ہی حال اُن لوگوں کا ہے جو حسی لذتوں سے بھری ہوئی جنت کے خواہاں ہیں۔ وہ اُن خنزیروں کی مانند ہیں جو حواس کی کیچڑ میں لوٹ پوٹ ہوتے رہتے ہیں، اور اِس سے آگے کچھ دیکھنے سے قاصر ہیں۔ یہی حسی لذت اُن کی مطلوب ہے، اور اِس کا کھو جانا اُن کے نزدیک جنت کا کھو جانا ہے۔ یہ لوگ اِس لفظ کے بلند ترین معنوں میں کبھی عاشقِ خدا (بھکت) نہیں بن سکتے؛ یہ کبھی خدا کے سچے محبّان نہیں ہو سکتے۔ تاہم، اگرچہ یہ ادنیٰ نصب العین کچھ مدت اختیار کیا جائے، مگر وقت کے ساتھ یہ بھی بدل جائے گا، ہر انسان کو معلوم ہوگا کہ کوئی بلند تر چیز موجود ہے جس سے وہ ناآشنا تھا، اور یوں زندگی اور حسی اشیا سے یہ چمٹے رہنا رفتہ رفتہ مٹ جائے گا۔ جب میں اسکول میں ایک چھوٹا بچہ تھا، میری کسی دوسرے ہم جماعت سے کچھ مٹھائیوں پر لڑائی ہوئی، اور وہ زیادہ طاقتور لڑکا تھا، اُس نے وہ میرے ہاتھ سے چھین لیں۔ مجھے وہ احساس آج بھی یاد ہے؛ میں نے سوچا کہ وہ لڑکا دنیا کا بدترین لڑکا ہے جو کبھی پیدا ہوا، اور جوں ہی میں خاصا طاقتور ہو جاؤں گا، میں اُسے سزا دوں گا؛ اُس کی بدی کے لیے کوئی سزا کافی نہ تھی۔ اب ہم دونوں بڑے ہو چکے ہیں، اور ہم پکے دوست ہیں۔ یہ دنیا اُن شیرخوار بچوں سے بھری پڑی ہے جن کے نزدیک کھانا پینا اور یہ سب چھوٹے چھوٹے کیک ہی سب کچھ ہیں۔ وہ اِنہی کیکوں کے خواب دیکھیں گے، اور آئندہ زندگی کا اُن کا تصور وہ جگہ ہے جہاں یہ کیک کثرت سے ہوں گے۔ اُس امریکی انڈین کے بارے میں سوچیے جو یہ مانتا ہے کہ اُس کی آئندہ زندگی کسی ایسی جگہ ہوگی جو شکار کے لیے نہایت عمدہ میدان ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کے پاس جنت کا اپنا ایک تصور ہے، بالکل ویسا جیسا ہم اُسے چاہتے ہیں؛ مگر وقت کے ساتھ، جوں جوں ہم بڑے ہوتے ہیں اور بلند تر چیزیں دیکھتے ہیں، ہم اُس سے آگے کی بلند تر جھلکیاں پاتے ہیں۔ مگر ہم آئندہ زندگی کے اپنے تصورات کو جدید زمانے کے عام طریقے پر یوں رخصت نہ کریں کہ کسی چیز پر یقین ہی نہ کریں — یہ تو تباہی ہے۔ وہ منکر (ایگناسٹک) جو اِس طرح ہر چیز کو نیست کر دیتا ہے، غلطی پر ہے، عاشقِ خدا اِس سے بلند تر دیکھتا ہے۔ منکر جنت میں جانا نہیں چاہتا، کیونکہ اُس کے پاس کوئی جنت ہے ہی نہیں؛ جب کہ عاشقِ خدا جنت میں جانا نہیں چاہتا، کیونکہ وہ اِسے بچوں کا کھیل سمجھتا ہے۔ جس چیز کا وہ خواہاں ہے، وہ خدا ہے۔
خدا سے بلند تر منزل کیا ہو سکتی ہے؟ خود خدا ہی انسان کی بلند ترین منزل ہے؛ اُسے دیکھیے، اُس سے لطف اندوز ہوں۔ ہم کبھی اِس سے بلند تر کسی چیز کا تصور نہیں کر سکتے، کیونکہ خدا کمال ہے۔ ہم محبت کی لذت سے بلند تر کسی لذت کا تصور نہیں کر سکتے، مگر اِس لفظ محبت کے مختلف معنی ہیں۔ اِس سے دنیا کی وہ عام خود غرض محبت مراد نہیں؛ اُسے محبت کہنا کفر ہے۔ ہماری اپنی اولاد اور بیویوں سے محبت محض حیوانی محبت ہے؛ وہ محبت جو کامل طور پر بے غرض ہو، وہی واحد سچی محبت ہے، اور وہ خدا کی محبت ہے۔ اِس تک پہنچنا نہایت دشوار کام ہے۔ ہم اِن سب مختلف محبتوں سے گزر رہے ہیں — اولاد، باپ، ماں وغیرہ کی محبت سے۔ ہم آہستہ آہستہ قوتِ محبت کی مشق کرتے ہیں؛ مگر اکثر صورتوں میں ہم اِس سے کچھ نہیں سیکھتے، ہم ایک ہی منزل سے، ایک ہی شخص سے بندھ کر رہ جاتے ہیں۔ بعض صورتوں میں انسان اِس بندھن سے نکل آتے ہیں۔ اِس دنیا میں انسان ہمیشہ بیویوں، دولت اور شہرت کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں؛ کبھی کبھی اُن کے سر پر سخت چوٹ لگتی ہے، اور تب اُن پر کھلتا ہے کہ یہ دنیا حقیقت میں کیا ہے۔ اِس دنیا میں کوئی بھی خدا کے سوا کسی چیز سے حقیقی محبت نہیں کر سکتا۔ انسان پر منکشف ہوتا ہے کہ انسانی محبت سراسر کھوکھلی ہے۔ انسان محبت نہیں کر سکتے، اگرچہ وہ اِس کی باتیں کرتے ہیں۔ بیوی کہتی ہے کہ وہ اپنے شوہر سے محبت کرتی ہے اور اُسے چومتی ہے؛ مگر جوں ہی وہ مرتا ہے، پہلی چیز جو اُسے سوجھتی ہے وہ بینک کا کھاتہ ہے، اور یہ کہ اگلے دن وہ کیا کرے گی۔ شوہر بیوی سے محبت کرتا ہے؛ مگر جب وہ بیمار پڑتی ہے اور اپنی خوبصورتی کھو بیٹھتی ہے، یا اُجڑی سی ہو جاتی ہے، یا کوئی خطا کر بیٹھتی ہے، تو وہ اُس کی پروا کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ دنیا کی ساری محبت ریاکاری اور کھوکھلاپن ہے۔
کوئی محدود ذات محبت نہیں کر سکتی، نہ ہی کوئی محدود شے محبوب بن سکتی ہے۔ جب انسان کی محبت کا مقصود ہر لمحہ مر رہا ہو، اور اُس کا اپنا ذہن بھی، جوں جوں وہ بڑھتا ہے، مسلسل بدلتا رہتا ہو، تو آپ دنیا میں کون سی ابدی محبت پانے کی توقع رکھ سکتے ہیں؟ خدا کے سوا کوئی حقیقی محبت ہو ہی نہیں سکتی: تو پھر یہ ساری محبتیں کیوں؟ یہ محض منزلیں ہیں۔ پسِ پردہ ایک طاقت ہے جو ہمیں آگے دھکیلتی ہے، ہم نہیں جانتے کہ اصل مقصود کو کہاں تلاش کریں، مگر یہی محبت ہمیں اُس کی تلاش میں آگے بھیجتی رہتی ہے۔ بار بار ہم پر اپنی غلطی کھلتی ہے۔ ہم کسی چیز کو تھامتے ہیں، اور پاتے ہیں کہ وہ ہماری انگلیوں سے پھسل جاتی ہے، پھر ہم کسی اور چیز کو تھامتے ہیں۔ یوں ہم چلتے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ بالآخر روشنی نمودار ہوتی ہے؛ ہم خدا تک پہنچتے ہیں، وہ واحد ہستی جو محبت کرتی ہے۔ اُس کی محبت کسی تبدیلی سے آشنا نہیں اور ہمیشہ ہمیں اپنے دامن میں لینے کو تیار رہتی ہے۔ آپ میں سے کوئی مجھے کب تک برداشت کرے گا اگر میں اُسے دکھ پہنچاؤں؟ وہ کون ہے سوائے خدا کے، جس کے دل میں نہ کوئی غصہ ہے، نہ نفرت، نہ حسد، جو کبھی اپنا توازن نہیں کھوتا، نہ مرتا ہے، نہ پیدا ہوتا ہے؟ مگر خدا تک کا راستہ طویل اور دشوار ہے، اور بہت کم لوگ اُس تک پہنچتے ہیں۔ ہم سب جدوجہد کرتے شیرخوار بچے ہیں۔ کروڑوں لوگ مذہب کا کاروبار بنا لیتے ہیں۔ صدی میں چند انسان خدا کی اُس محبت تک پہنچتے ہیں، اور سارا ملک مبارک اور مقدس ہو جاتا ہے۔ جب خدا کا کوئی فرزند ظہور کرتا ہے، تو سارا ملک مبارک ہو جاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ساری دنیا میں کسی ایک صدی میں ایسے لوگ بہت کم پیدا ہوتے ہیں، مگر سب کو خدا کی اُس محبت تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کون جانے، شاید اگلی باری آپ کی ہو یا میری؟ پس آئیے، ہم جدوجہد کریں۔
ہم کہتے ہیں کہ بیوی اپنے شوہر سے محبت کرتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ اُس کی پوری روح اُسی میں محو ہے: ایک بچہ آتا ہے اور اُس کا نصف، یا اِس سے بھی زیادہ، بچے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ وہ خود محسوس کرے گی کہ شوہر کی وہی محبت اب باقی نہیں رہی۔ یہی حال باپ کا ہے۔ ہم ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ جب محبت کے زیادہ شدید مقصود ہمارے سامنے آتے ہیں، تو پچھلی محبت آہستہ آہستہ معدوم ہو جاتی ہے۔ اسکول میں بچے سمجھتے ہیں کہ اُن کے بعض ہم جماعت اُن کی زندگی کی سب سے عزیز ہستیاں ہیں، یا اُن کے باپ یا مائیں ایسی ہیں؛ پھر شوہر یا بیوی آتے ہیں، اور فوراً پرانا احساس ناپید ہو جاتا ہے، اور نئی محبت سب پر غالب ہو جاتی ہے۔ ایک ستارہ طلوع ہوتا ہے، اُس سے بڑا کوئی اور آتا ہے، پھر اُس سے بھی بڑا، اور آخرکار سورج نکل آتا ہے، اور سارے چھوٹے چراغ ماند پڑ جاتے ہیں۔ وہ سورج خدا ہے۔ وہ ستارے چھوٹی محبتیں ہیں۔ جب وہ سورج اُس پر یکایک پھوٹ پڑتا ہے، تو انسان دیوانہ ہو جاتا ہے — وہی جسے ایمرسن "خدا کے نشے میں مست انسان" کہتا ہے۔ انسان متشکل ہو کر خدا میں ڈھل جاتا ہے، ہر چیز محبت کے اُس واحد سمندر میں ضم ہو جاتی ہے۔ عام محبت محض حیوانی کشش ہے۔ ورنہ صنفوں کے درمیان یہ امتیاز کیوں ہے؟ اگر کوئی کسی مورتی کے آگے گھٹنے ٹیکے، تو یہ ہولناک بت پرستی ہے؛ مگر اگر کوئی اپنے شوہر یا بیوی کے آگے گھٹنے ٹیکے، تو یہ بالکل روا ہے!
دنیا ہمارے سامنے محبت کی گوناگوں منزلیں پیش کرتی ہے۔ ہمیں پہلے زمین صاف کرنی ہے۔ محبت کا سارا نظریہ ہماری زندگی کے بارے میں ہمارے نقطۂ نظر پر قائم ہوگا۔ یہ سمجھنا کہ یہی دنیا زندگی کا مقصد اور انجام ہے، حیوانی اور زوال آمیز سوچ ہے۔ جو بھی انسان زندگی کا آغاز اِس تصور کے ساتھ کرتا ہے، وہ خود کو پست کر لیتا ہے؛ وہ کبھی بلند تر نہ ہوگا، وہ کبھی پسِ پردہ سے یہ جھلک نہ پائے گا، وہ ہمیشہ حواس کا غلام رہے گا۔ وہ اُس ڈالر کے لیے جدوجہد کرے گا جو اُسے کھانے کے چند کیک دلا دے گا۔ ایسی زندگی جینے سے بہتر ہے کہ مر جائیں۔ اے دنیا کے غلامو، حواس کے غلامو، آئیے ہم خود کو بیدار کریں؛ اِس حسی زندگی سے کوئی بلند تر چیز موجود ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انسان، یعنی وہ لامحدود روح، اِس لیے پیدا ہوا تھا کہ اپنی آنکھوں، اپنی ناک اور اپنے کانوں کا غلام بنے؟ پسِ پردہ ایک لامحدود، علیمِ کُل روح موجود ہے جو ہر کام کر سکتی ہے، ہر بندھن توڑ سکتی ہے؛ اور وہی روح ہم ہیں، اور وہ طاقت ہمیں محبت کے ذریعے ملتی ہے۔ یہی وہ نصب العین ہے جسے ہمیں یاد رکھنا ہوگا۔ بے شک ہم اِسے ایک دن میں حاصل نہیں کر سکتے۔ ہم یہ خیال کر سکتے ہیں کہ ہم نے اِسے پا لیا ہے، مگر بالآخر یہ محض ایک خیال ہے؛ یہ تو بہت، بہت دور کی منزل ہے۔ ہمیں انسان کو وہیں سے لینا ہوگا جہاں وہ کھڑا ہے، اور اُسے اوپر کی طرف مدد دینی ہوگی۔ انسان مادیت میں کھڑا ہے؛ آپ اور میں مادہ پرست ہیں۔ خدا اور روح کے بارے میں ہماری گفتگو اچھی بات ہے؛ مگر یہ تو محض ہمارے معاشرے کا چلن ہے کہ اِس طرح باتیں کریں: ہم نے یہ طوطے کی طرح رٹ لیا ہے اور دہراتے رہتے ہیں۔ پس ہمیں خود کو وہیں سے لینا ہوگا جہاں ہم ہیں، یعنی مادہ پرستوں کے طور پر، اور مادے کی مدد لینی ہوگی اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنا ہوگا یہاں تک کہ ہم حقیقی روحانیت پسند بن جائیں، اور خود کو روح محسوس کریں، روح کو سمجھیں، اور جان لیں کہ یہ دنیا جسے ہم لامحدود کہتے ہیں، اُس دنیا کی محض ایک کثیف بیرونی صورت ہے جو پسِ پردہ ہے۔
مگر اِس کے علاوہ کسی اور چیز کی بھی ضرورت ہے۔ آپ نے کوہِ نجات کے خطبے (سرمن آن دی ماؤنٹ) میں پڑھا ہے: "مانگو، اور تمہیں دیا جائے گا؛ ڈھونڈو، اور تم پاؤ گے؛ کھٹکھٹاؤ، اور تمہارے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا۔" مشکل یہ ہے کہ ڈھونڈتا کون ہے، چاہتا کون ہے؟ ہم سب کہتے ہیں کہ ہم خدا کو جانتے ہیں۔ ایک شخص خدا کی نفی ثابت کرنے کے لیے کتاب لکھتا ہے، دوسرا اُس کے اثبات کے لیے۔ ایک شخص ساری عمر اُسے ثابت کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے؛ دوسرا اُسے غلط ثابت کرنا، اور وہ گھوم گھوم کر لوگوں کو یہ سکھاتا پھرتا ہے کہ کوئی خدا نہیں۔ خدا کو ثابت کرنے یا غلط ثابت کرنے کے لیے کتاب لکھنے کا کیا فائدہ؟ اکثر لوگوں کے لیے اِس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کوئی خدا ہے یا نہیں؟ انسانوں کی اکثریت بالکل کسی مشین کی طرح کام کرتی ہے، خدا کا کوئی خیال نہیں اور نہ ہی اُس کی کوئی حاجت محسوس کرتی ہے۔ پھر ایک دن موت آتی ہے اور کہتی ہے: "چلو۔" انسان کہتا ہے: "ذرا ٹھہرو، مجھے تھوڑا اور وقت چاہیے۔ میں اپنے بیٹے کو ذرا اور بڑا ہوتے دیکھنا چاہتا ہوں۔" مگر موت کہتی ہے: "ابھی چلو۔" یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ یوں بیچارا جان (جون) چلا جاتا ہے۔ ہم بیچارے جان کے بارے میں کیا کہیں؟ اُسے کبھی کوئی ایسی چیز نہ ملی جس میں خدا سب سے بلند ہو؛ شاید وہ ماضی میں کوئی سؤر تھا، اور بطورِ انسان وہ کہیں بہتر ہے۔ مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں تھوڑی سی بیداری نصیب ہوتی ہے۔ کوئی مصیبت آتی ہے، کوئی ایسا شخص جسے ہم سب سے زیادہ چاہتے ہیں، مر جاتا ہے، وہ چیز جس پر ہم نے اپنی پوری روح جھکا دی تھی، جس کی خاطر ہم نے ساری دنیا کو، اور شاید اپنے ہی بھائی کو دھوکا دیا تھا، وہ ناپید ہو جاتی ہے، اور ہم پر ایک ضرب پڑتی ہے۔ شاید ہماری روح میں ایک آواز اٹھتی ہے اور پوچھتی ہے: "اِس کے بعد کیا؟" کبھی کبھی موت بغیر کسی ضرب کے آتی ہے، مگر ایسی صورتیں کم ہیں۔ ہم میں سے اکثر، جب کوئی چیز ہماری انگلیوں سے پھسلتی ہے، کہتے ہیں: "اب کیا؟" ہم حواس سے کس قدر چمٹے ہوئے ہیں! آپ نے ڈوبتے ہوئے انسان کے بارے میں سنا ہوگا جو تنکے کو پکڑ لیتا ہے؛ انسان پہلے تنکے کو پکڑے گا، اور جب وہ کام نہیں آتا، تو وہ کہے گا کہ کسی کو اُس کی مدد کرنی چاہیے۔ پھر بھی لوگوں کو، جیسا کہ انگریزی محاورہ ہے، "اپنی جنگلی جئی بونی" پڑتی ہے، اِس سے پہلے کہ وہ بلند تر چیزوں کی طرف اٹھ سکیں۔
عشق (بھکتی) ایک مذہب ہے۔ مذہب بہت سوں کے لیے نہیں، یہ ناممکن ہے۔ ایک طرح کی گھٹنوں کی مشق، کھڑے ہونا اور بیٹھنا، شاید بہت سوں کے لیے موزوں ہو؛ مگر مذہب چند لوگوں کے لیے ہے۔ ہر ملک میں محض چند سو افراد ہوتے ہیں جو مذہبی ہو سکتے ہیں اور ہوں گے۔ باقی لوگ مذہبی نہیں ہو سکتے، کیونکہ وہ بیدار نہ ہوں گے، اور نہ ہی وہ بیدار ہونا چاہتے ہیں۔ سب سے اہم بات خدا کو چاہنا ہے۔ ہم خدا کے سوا ہر چیز چاہتے ہیں، کیونکہ ہماری عام حاجتیں بیرونی دنیا سے پوری ہو جاتی ہیں؛ صرف اُسی وقت جب ہماری ضرورتیں بیرونی دنیا سے آگے نکل جائیں، ہم اندرونی دنیا سے، یعنی خدا سے، فراہمی چاہتے ہیں۔ جب تک ہماری ضرورتیں اِس مادی کائنات کی تنگ حدود میں محدود ہیں، ہمیں خدا کی کوئی حاجت نہیں ہو سکتی؛ صرف اُسی وقت جب ہم یہاں کی ہر چیز سے سیر ہو جائیں، ہم فراہمی کے لیے اِس سے ماورا نگاہ دوڑاتے ہیں۔ صرف اُسی وقت جب حاجت موجود ہو، طلب پیدا ہوگی۔ دنیا کے اِس بچوں کے کھیل کو جتنی جلد ممکن ہو ختم کر دیجیے، تب آپ دنیا سے ماورا کسی چیز کی ضرورت محسوس کریں گے، اور مذہب کا پہلا قدم آ پہنچے گا۔
مذہب کی ایک ایسی صورت بھی ہے جو محض ایک فیشن ہے۔ میری ایک دوست کے بیٹھک خانے میں بہت سا فرنیچر ہے؛ جاپانی گلدان رکھنا فیشن ہے، چنانچہ اُسے بھی ایک رکھنا ہی ہے، خواہ اُس کی قیمت ہزار ڈالر کیوں نہ ہو۔ اِسی طرح وہ تھوڑا سا مذہب بھی رکھے گی اور کسی کلیسا میں شامل ہو جائے گی۔ عشق (بھکتی) ایسوں کے لیے نہیں۔ یہ حاجت نہیں۔ حاجت وہ ہے جس کے بغیر ہم جی نہیں سکتے۔ ہمیں سانس کی حاجت ہے، ہمیں خوراک کی حاجت ہے، ہمیں لباس کی حاجت ہے؛ اِن کے بغیر ہم جی نہیں سکتے۔ جب کوئی انسان اِس دنیا میں کسی عورت سے محبت کرتا ہے، تو کبھی کبھی اُسے محسوس ہوتا ہے کہ اُس کے بغیر وہ جی نہیں سکتا، حالانکہ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ جب شوہر مرتا ہے، بیوی سمجھتی ہے کہ وہ اُس کے بغیر جی نہیں سکتی؛ مگر وہ بہرحال جیتی رہتی ہے۔ یہی حاجت کا راز ہے: وہ ایسی چیز ہے جس کے بغیر ہم جی نہیں سکتے؛ یا تو وہ ہمیں ملنی ہی چاہیے یا ہم مر جائیں۔ جب وہ وقت آتا ہے کہ ہم خدا کے بارے میں بھی یہی محسوس کریں، یا دوسرے لفظوں میں، ہم اِس دنیا سے ماورا کوئی چیز چاہیں، تمام مادی قوتوں سے بالاتر کوئی چیز چاہیں، تب ہم عاشقِ خدا (بھکت) بن سکتے ہیں۔ ہماری یہ چھوٹی سی زندگیاں کیا ہیں جب ایک لمحے کے لیے بادل ہٹ جاتا ہے، اور ہمیں اُس پار سے ایک جھلک ملتی ہے، اور اُس لمحے یہ ساری ادنیٰ خواہشیں سمندر میں ایک قطرے کی مانند معلوم ہوتی ہیں؟ تب روح نشو و نما پاتی ہے، اور خدا کی حاجت محسوس کرتی ہے، اور اُسے پانا ہی پڑتا ہے۔
پہلا قدم یہ ہے: ہم کیا چاہتے ہیں؟ آئیے ہم ہر روز خود سے یہ سوال پوچھیں، کیا ہم خدا کو چاہتے ہیں؟ آپ کائنات کی ساری کتابیں پڑھ ڈالیں، مگر یہ محبت نہ کلام کی طاقت سے ملنے والی ہے، نہ بلند ترین عقل سے، نہ مختلف علوم کے مطالعے سے۔ جو خدا کا خواہاں ہوتا ہے، اُسے محبت ملتی ہے، اُسے خدا اپنی ذات عطا کر دیتا ہے۔ محبت ہمیشہ باہمی، انعکاسی ہوتی ہے۔ آپ مجھ سے نفرت کر سکتے ہیں، اور اگر میں آپ سے محبت کرنا چاہوں، تو آپ مجھے دھتکار دیتے ہیں۔ مگر اگر میں اِس پر قائم رہوں، تو ایک ماہ یا ایک سال میں آپ کو مجھ سے محبت کرنی ہی پڑے گی۔ یہ ایک معروف نفسیاتی مظہر ہے۔ جس طرح محبت کرنے والی بیوی اپنے بچھڑے ہوئے شوہر کا خیال کرتی ہے، اُسی محبت کے ساتھ ہمیں مالک کا خواہاں ہونا چاہیے، تب ہمیں خدا ملے گا، اور تمام کتابیں اور مختلف علوم ہمیں کچھ بھی سکھانے سے قاصر ہوں گے۔ کتابیں پڑھ پڑھ کر ہم طوطے بن جاتے ہیں؛ کتابیں پڑھنے سے کوئی عالم نہیں بنتا۔ اگر کوئی انسان محبت کا محض ایک لفظ بھی پڑھ لے، تو وہ سچ مچ عالم بن جاتا ہے۔ پس ہم پہلے وہ خواہش حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
آئیے ہم ہر روز خود سے پوچھیں: "کیا ہم خدا کو چاہتے ہیں؟" جب ہم مذہب کی بات شروع کرتے ہیں، اور خاص طور پر جب ہم کوئی بلند مرتبہ اختیار کر کے دوسروں کو سکھانے لگتے ہیں، تو ہمیں خود سے یہی سوال پوچھنا چاہیے۔ میں بارہا پاتا ہوں کہ میں خدا کو نہیں چاہتا، میں روٹی زیادہ چاہتا ہوں۔ شاید میں دیوانہ ہو جاؤں اگر مجھے روٹی کا ایک ٹکڑا نہ ملے؛ بہت سی خواتین دیوانی ہو جائیں گی اگر اُنہیں ہیرے کی سوئی نہ ملے، مگر اُنہیں خدا کی وہی خواہش نہیں ہوتی؛ وہ اُس واحد حقیقت کو نہیں جانتیں جو کائنات میں ہے۔ ہماری زبان میں ایک کہاوت ہے — اگر مجھے شکاری بننا ہے، تو میں گینڈے کا شکار کروں گا؛ اگر مجھے ڈاکو بننا ہے، تو میں بادشاہ کا خزانہ لوٹوں گا۔ بھکاریوں کو لوٹنے یا چیونٹیوں کا شکار کرنے کا کیا فائدہ؟ پس اگر آپ محبت کرنا چاہتے ہیں، تو خدا سے محبت کیجیے۔ دنیا کی اِن چیزوں کی کسے پروا ہے؟ یہ دنیا سراسر جھوٹی ہے؛ دنیا کے تمام عظیم اساتذہ نے یہ جان لیا؛ اِس سے نکلنے کا خدا کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ وہی ہماری زندگی کی منزل ہے؛ یہ تمام تصورات کہ دنیا ہی زندگی کا مقصد ہے، تباہ کن ہیں۔ اِس دنیا اور اِس جسم کی اپنی قدر و قیمت ہے، ایک ثانوی قدر، بطورِ ذریعہ برائے مقصد؛ مگر دنیا کو خود مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے، اکثر اوقات ہم دنیا کو مقصد اور خدا کو ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ ہم لوگوں کو کلیسا جاتے اور یہ کہتے دیکھتے ہیں: "اے خدا، مجھے فلاں فلاں چیز دے دے؛ اے خدا، میری بیماری شفا کر دے۔" وہ عمدہ صحت مند جسم چاہتے ہیں؛ اور چونکہ وہ سنتے ہیں کہ کوئی اُن کے لیے یہ کام کر دے گا، اِس لیے وہ جا کر اُس سے دعا مانگتے ہیں۔ ایسا مذہبی تصور رکھنے سے بہتر ہے کہ انسان دہریہ ہو۔ جیسا کہ میں آپ سے کہہ چکا ہوں، یہ عشق (بھکتی) بلند ترین نصب العین ہے؛ میں نہیں جانتا کہ آنے والے کروڑوں برسوں میں ہم اِس تک پہنچیں گے یا نہیں، مگر ہمیں اِسے اپنا بلند ترین نصب العین بنانا چاہیے، اپنے حواس کو بلند ترین کا نشانہ بنانا چاہیے۔ اگر ہم منزل تک نہ پہنچ سکیں، تو کم از کم اُس کے قریب تر ہو جائیں گے۔ ہمیں آہستہ آہستہ دنیا اور حواس میں سے گزر کر خدا تک پہنچنا ہے۔
English
THE FIRST STEPS
The philosophers who wrote on Bhakti defined it as extreme love for God. Why a man should love God is the question to be solved; and until we understand that, we shall not be able to grasp the subject at all. There are two entirely different ideals of life. A man of any country who has any religion knows that he is a body and a spirit also. But there is a great deal of difference as to the goal of human life.
In Western countries, as a rule, people lay more stress on the body aspect of man; those philosophers who wrote on Bhakti in India laid stress on the spiritual side of man; and this difference seems to be typical of the Oriental and Occidental nations. It is so even in common language. In England, when speaking of death it is said, a man gave up his ghost; in India, a man gave up his body. The one idea is that man is a body and has a soul; the other that man is a soul and has a body. More intricate problems arise out of this. It naturally follows that the ideal which holds that man is a body and has a soul lays all the stress on the body. If you ask why man lives, you will be told it is to enjoy the senses, to enjoy possessions and wealth. He cannot dream of anything beyond even if he is told of it; his idea of a future life would be a continuation of this enjoyment. He is very sorry that it cannot continue all the time here, but he has to depart; and he thinks that somehow or other he will go to some place where the same thing will be renewed. He will have the same enjoyments, the same senses, only heightened and strengthened. He wants to worship God, because God is the means to attain this end. The goal of his life is enjoyment of sense-objects, and he comes to know there is a Being who can give him a very long lease of these enjoyments, and that is why he worships God.
On the other hand the Indian idea is that God is the goal of life; there is nothing beyond God, and the sense-enjoyments are simply something through which we are passing now in the hope of getting better things. Not only so; it would be disastrous and terrible if man had nothing but sense-enjoyments. In our everyday life we find that the less the sense-enjoyments, the higher the life of the man. Look at the dog when he eats. No man ever ate with the same satisfaction. Observe the pig giving grunts of satisfaction as he eats; it is his heaven, and if the greatest archangel came and looked on, the pig would not even notice him. His whole existence is in his eating. No man was ever born who could eat that way. Think of the power of hearing in the lower animals, the power of seeing; all their senses are highly developed. Their enjoyment of the senses is extreme; they become simply mad with delight and pleasure. And the lower the man also, the more delight he finds in the senses. As he gets higher, the goal becomes reason and love. In proportion as these faculties develop, he loses the power of enjoying the senses.
For illustration's sake, if we take for granted that a certain amount of power is given to man, and that that can be spent either on the body, or the mind, or the spirit, then all the powers spent on any one of these leaves just so much less to be expended on the others. The ignorant or savage races have much stronger sensual faculties than the civilised races, and this is, in fact, one of the lessons we learn from history that as a nation becomes civilised the nerve organisation becomes finer, and they become physically weaker. Civilise a savage race, and you will find the same thing; another barbarian race comes up and conquers it. It is nearly always the barbarian race that conquers. We see then that if we desire only to have sense-enjoyments all the time, we degrade ourselves to the brute state. A man does not know what he is asking for when he says, he wants to go to a place where his sense-enjoyments will be intensified; that he can only have by going down to the brutes.
So with men desiring a heaven full of sense-pleasures. They are like swine wallowing in the mire of the senses, unable to see anything beyond. This sense-enjoyment is what they want, and the loss of it is the loss of heaven to them. These can never be Bhaktas in the highest sense of the word; they can never be true lovers of God. At the same time, though this lower ideal be followed for a time, it will also in course of time change, each man will find that there is something higher, of which he did not know, and so this clinging to life and to things of the senses will gradually die away. When I was a little boy at school, I had a fight with another schoolfellow about some sweetmeats, and he being the stronger boy snatched them from my hand. I remember the feeling I had; I thought that boy was the most wicked boy ever born, and that as soon as I grew strong enough I would punish him; there was no punishment sufficient for his wickedness. We have both grown up now, and we are fast friends. This world is full of babies to whom eating and drinking, and all these little cakes are everything. They will dream of these cakes, and their idea of future life is where these cakes will be plentiful. Think of the American Indian who believes that his future life will be in a place which is a very good hunting ground. Each one of us has an idea of a heaven just as we want it to be; but in course of time, as we grow older and see higher things, we catch higher glimpses beyond. But let us not dispense with our ideas of future life in the ordinary way of modern times, by not believing in anything — that is destruction. The agnostic who thus destroys everything is mistaken, the Bhakta sees higher. The agnostic does not want to go to heaven, because he has none; while the Bhakta does not want to go to heaven, because he thinks it is child's play. What he wants is God.
What can be a higher end than God? God Himself is the highest goal of man; see Him, enjoy Him. We can never conceive anything higher, because God is perfection. We cannot conceive of any higher enjoyment than that of love, but this word love has different meanings. It does not mean the ordinary selfish love of the world; it is blasphemy to call that love. The love for our children and our wives is mere animal love; that love which is perfectly unselfish is the only love, and that is of God. It is a very difficult thing to attain to. We are passing through all these different loves — love of children, father, mother, and so forth. We slowly exercise the faculty of love; but in the majority of cases we never learn anything from it, we become bound to one step, to one person. In some cases men come out of this bondage. Men are ever running after wives and wealth and fame in this world; sometimes they are hit very hard on the head, and they find out what this world really is. No one in this world can really love anything but God. Man finds out that human love is all hollow. Men cannot love though they talk of it. The wife says she loves her husband and kisses him; but as soon as he dies, the first thing she thinks about is the bank account, and what she shall do the next day. The husband loves the wife; but when she becomes sick and loses her beauty, or becomes haggard, or makes a mistake, he ceases to care for her. All the love of the world is hypocrisy and hollowness.
A finite subject cannot love, nor a finite object be loved. When the object of the love of a man is dying every moment, and his mind also is constantly changing as he grows, what eternal love can you expect to find in the world? There cannot be any real love but in God: why then all these loves? These are mere stages. There is a power behind impelling us forward, we do not know where to seek for the real object, but this love is sending us forward in search of it. Again and again we find out our mistake. We grasp something, and find it slips through our fingers, and then we grasp something else. Thus on and on we go, till at last comes light; we come to God, the only One who loves. His love knows no change and is ever ready to take us in. How long would any of you bear with me if I injured you? He in whose mind is no anger, hatred, or envy, who never loses his balance, dies, or is born, who is he but God? But the path to God is long and difficult, and very few people attain Him. We are all babies struggling. Millions of people make a trade of religion. A few men in a century attain to that love of God, and the whole country becomes blessed and hallowed. When a son of God appears, a whole country becomes blessed. It is true that few such are born in any one century in the whole world, but all should strive to attain that love of God. Who knows but you or I may be the next to attain? Let us struggle therefore.
We say that a wife loves her husband. She thinks that her whole soul is absorbed in him: a baby comes and half of it goes out to the baby, or more. She herself will feel that the same love of husband does not exist now. So with the father. We always find that when more intense objects of love come to us, the previous love slowly vanishes. Children at school think that some of their schoolfellows are the dearest beings that they have in life, or their fathers or mothers are so; then comes the husband or wife, and immediately the old feeling disappears, and the new love becomes uppermost. One star arises, another bigger one comes, and then a still bigger one, and at last the sun comes, and all the lesser lights vanish. That sun is God. The stars are the smaller loves. When that Sun bursts upon him, a man becomes mad what Emerson calls "a God-intoxicated man". Man becomes transfigured into God, everything is merged in that one ocean of love. Ordinary love is mere animal attraction. Otherwise why is the distinction between the sexes? If one kneels before an image, it is dreadful idolatry; but if one kneels before husband or wife, it is quite permissible!
The world presents to us manifold stages of love. We have first to clear the ground. Upon our view of life the whole theory of love will rest. To think that this world is the aim and end of life is brutal and degenerating. Any man who starts in life with that idea degenerates himself He will never rise higher, he will never catch this glimpse from behind, he will always be a slave to the senses. He will struggle for the dollar that will get him a few cakes to eat. Better die than live that life. Slaves of this world, slaves of the senses, let us rouse ourselves; there is something higher than this sense-life. Do you think that man, the Infinite Spirit was born to be a slave to his eyes, his nose, and his ears? There is an Infinite, Omniscient Spirit behind that can do everything, break every bond; and that Spirit we are, and we get that power through love. This is the ideal we must remember. We cannot, of course, get it in a day. We may fancy that we have it, but it is a fancy after all; it is a long, long way off. We must take man where he stands, and help him upwards. Man stands in materialism; you and I are materialists. Our talking about God and Spirit is good; but it is simply the vogue in our society to talk thus: we have learnt it parrot-like and repeat it. So we have to take ourselves where we are as materialists, and must take the help of matter and go on slowly until we become real spiritualists, and feel ourselves spirits, understand the spirit, and find that this world which we call the infinite is but a gross external form of that world which is behind.
But something besides that is necessary. You read in the Sermon on the Mount, "Ask, and it shall be given (to) you; seek, and ye shall find; knock, and it shall be opened unto you." The difficulty is, who seeks, who wants? We all say we know God. One man writes a book to disprove God, another to prove Him. One man thinks it his duty to prove Him all his life; another, to disprove Him, and he goes about to teach man there is no God. What is the use of writing a book either to prove or disprove God? What does it matter to most people whether there is a God or not ? The majority of men work just like a machine with no thought of God and feeling no need of Him. Then one day comes Death and says, "Come." The man says, "Wait a little, I want a little more time. I want to see my son grow a little bigger." But Death says, "Come at once." So it goes on. So goes poor John. What shall we say to poor John? He never found anything in which God was the highest; perhaps he was a pig in the past, and he is much better as a man. But there are some who get a little awakening. Some misery comes, someone whom we love most dies, that upon which we had bent our whole soul, that for which we had cheated the whole world and perhaps our own brother, that vanishes, and a blow comes to us. Perhaps a voice comes in our soul and asks, "What after this?" Sometimes death comes without a blow, but such cases are few. Most of us, when anything slips through our fingers, say, "What next?" How we cling to the senses! You have heard of a drowning man clutching at a straw; a man will clutch at a straw first, and when it fails, he will say someone must help him. Still people must, as the English phrase goes, "sow their wild oats", before they can rise to higher things.
Bhakti is a religion. Religion is not for the many, that is impossible. A sort of knee-drill, standing up and sitting down, may be suited for the many; but religion is for the few. There are in every country only a few hundreds who can be, and will be religious. The others cannot be religious, because they will not be awakened, and they do not want to be. The chief thing is to want God. We want everything except God, because our ordinary wants are supplied by the external world; it is only when our necessities have gone beyond the external world that we want a supply from the internal, from God. So long as our needs are confined within the narrow limits of this physical universe, we cannot have any need for God; it is only when we have become satiated with everything here that we look beyond for a supply. It is only when the need is there that the demand will come. Have done with this child's play of the world as soon as you can, and then you will feel the necessity of something beyond the world, and the first step in religion will come.
There is a form of religion which is fashionable. My friend has much furniture in her parlour; it is the fashion to have a Japanese vase, so she must have one even if it costs a thousand dollars. In the same way she will have a little religion and join a church. Bhakti is not for such. That is not want. Want is that without which we cannot live. We want breath, we want food, we want clothes; without them we cannot live. When a man loves a woman in this world, there are times when he feels that without her he cannot live, although that is a mistake. When a husband dies, the wife thinks she cannot live without him; but she lives all the same. This is the secret of necessity: it is that without which we cannot live; either it must come to us or we die. When the time comes that we feel the same about God, or in other words, we want something beyond this world, something above all material forces, then we may become Bhaktas. What are our little lives when for a moment the cloud passes away, and we get one glimpse from beyond, and for that moment all these lower desires seem like a drop in the ocean? Then the soul grows, and feels the want of God, and must have Him.
The first step is: What do we want? Let us ask ourselves this question every day, do we want God? You may read all the books in the universe, but this love is not to be had by the power of speech, not by the highest intellect, not by the study of various sciences. He who desires God will get Love, unto him God gives Himself. Love is always mutual, reflective. You may hate me, and if I want to love you, you repulse me. But if I persist, in a month or a year you are bound to love me. It is a wellknown psychological phenomenon. As the loving wife thinks of her departed husband, with the same love we must desire the Lord, and then we will find God, and all books and the various sciences would not be able to teach us anything. By reading books we become parrots; no one becomes learned by reading books. If a man reads but one word of love, he indeed becomes learned. So we want first to get that desire.
Let us ask ourselves each day, "Do we want Gods" When we begin to talk religion, and especially when we take a high position and begin to teach others, we must ask ourselves the same question. I find many times that I don't want God, I want bread more. I may go mad if I don't get a piece of bread; many ladies will go mad if they don't get a diamond pin, but they do not have the same desire for God; they do not know the only Reality that is in the universe. There is a proverb in our language — If I want to be a hunter, I'll hunt the rhinoceros; if I want to be a robber, I'll rob the king's treasury. What is the use of robbing beggars or hunting ants? So if you want to love, love God. Who cares for these things of the world? This world is utterly false; all the great teachers of the world found that out; there is no way out of it but through God. He is the goal of our life; all ideas that the world is the goal of life are pernicious. This world and this body have their own value, a secondary value, as a means to an end; but the world should not be the end. Unfortunately, too often we make the world the end and God the means. We find people going to church and saying, "God, give me such and such; God, heal my disease." They want nice healthy bodies; and because they hear that someone will do this work for them, they go and pray to Him. It is better to be an atheist than to have such an idea of religion. As I have told you, this Bhakti is the highest ideal; I don't know whether we shall reach it or not in millions of years to come, but we must make it our highest ideal, make our senses aim at the highest. If we cannot get to the end, we shall at least come nearer to it. We have slowly to work through the world and the senses to reach God.
متن ویکی سورس عوامی ملکیت سے۔ اصل کو ادویت آشرم نے شائع کیا۔