ویویکانند آرکائیو

شری رام کرشن کی الوہیت کی ستائش میں ایک گیت

جلد4 poem
1,017 الفاظ · 4 منٹ کا مطالعہ · Translations: Poems

یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ براہ کرم اصل انگریزی متن سے رجوع کریں۔

AI-translated. May contain errors. For accurate text, refer to the original English.

اردو

شری رام کرشن کی الوہیت کے نام ایک حمدیہ نغمہ

اصل نظم/نغمہ بنگالی میں لکھا گیا تھا (جو ذیل میں دائیں کالم میں دیا گیا ہے)۔ انگریزی نغمہ بنگالی بولوں سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ مزید معلومات ویکیپیڈیا پر دستیاب ہیں۔

اصل نظم/نغمہ بنگالی میں لکھا گیا تھا (جو ذیل میں دائیں کالم میں دیا گیا ہے)۔ انگریزی نغمہ بنگالی بولوں سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ مزید معلومات ویکیپیڈیا پر دستیاب ہیں۔

انگریزی

ہم تجھے سلام کرتے ہیں!

اے آقا! جہان کے معبود،

سنسار کے بندھن کو توڑنے والے، تُو بے داغ ہے،

مبارک صفات کا مجسّم،

تُو تمام گُنوں سے ماورا ہے؛ انسانی صورت

یوں دھارتا ہے۔

ہم تجھے سلام اور تیری پرستش کرتے ہیں!

ذہن و گفتار کی پناہ گاہ، تُو دونوں کی

رسائی سے پرے ہے۔ نور ہے تُو

ہر اُس نور میں جو موجود ہے۔ دل کا غار

تیری زیارت سے درخشاں بنایا جاتا ہے۔

بے شک تُو وہی ہے جو دور کر دیتا ہے

انسان میں تمس کی گہری ترین تاریکی کو۔

دیکھو! نغمے کی رنگارنگی میں

نہایت شیریں عمدہ ہم آہنگی میں پھوٹتے ہوئے،

تیرے بھگتوں کے حمدیہ گیت، ہمراہ

مردنگ کے، جو موسیقی کے لطف سے بجتی ہے،

فضا کو بھر دیتے ہیں، تیری شام کی پرستش میں۔

تیری الٰہی آنکھوں پر ایک سرسری نظر

جو معرفت کے سُرمے سے صاف کی گئی ہیں

فریب کو شکست دے دیتی ہے۔ اے تُو جو مٹا دینے والا ہے

گناہ کے تمام داغوں کا، خالص، بے آمیز

عقل ہے تیری صورت۔ جہان کا

تُو سنوارنے والا ہے۔ خود اپنی روشنی سے منوّر

ہے تُو۔ اے بلند ترین جذبے کے سمندر،

اور الٰہی عشق کے، اے خدا کے نشے میں سرشار ہستی،

بھگت تیرے مبارک قدموں کو پا لیتے ہیں اور

سنسار کے اُمڈتے سمندر کو بحفاظت پار کر جاتے ہیں۔

اے جہان کے آقا، تُو اپنی یوگ قوّت سے

اِس ہمارے دور کے واضح اوتار کے طور پر

درخشاں ہے۔ اے تُو جو سخت ضبط والا ہے،

صرف تیرے بے دریغ فضل کے ذریعے ہی ہم دیکھتے ہیں

ذہن کو جذب میں کامل طور پر مدغم؛

اے رحمت کے مجسّم! تیرے اعمال نہایت ریاضت بھرے ہیں۔

تُو مصیبت کی بدی کو

تباہی بخشتا ہے۔ کلی کی جکڑنے والی رسّیاں

تیرے ہاتھوں کاٹ کر جدا کر دی جاتی ہیں۔ اپنی ہی جان

تُو نے بے دریغ نچھاور کر دی، اے شیریں قربانی،

اے انسانوں میں سب سے بہتر! اے جہان کے نجات دہندہ!

تُو جنس کے تصوّر سے خالی تھا،

ملکیت کا خیال تجھے نہ لُبھا سکا۔ تیرے لیے

ہر لذّت ناگوار تھی۔ ہمیں عطا کر،

اے تیاگیوں میں سب سے عظیم، تیرے مقدّس قدموں کے لیے

شدید عشق؛ عطا کر، ہم التجا کرتے ہیں!

تُو بے خوف ہے، اور شک کی ہر تاریکی سے پرے؛

تیرا ذہن اپنے ہی پختہ عزم میں محو ہے؛

تیرے عاشق، جن کی عقیدت اوپر چڑھ جاتی ہے

عقل کی قلمرو سے بھی، جو ترک کر دیتے ہیں غرور

ذات اور نسب کا، نام اور شہرت کا—

اُن کی محفوظ پناہ گاہ تُو ہی اکیلا ہے، اے آقا!

میرا واحد سچّا خزانہ تیرے مبارک قدم ہیں،

جنہیں پا کر ساری کائنات خود ہی

ایسی نظر آتی ہے جیسے گزرتی ہوئی گائے کے کھُر سے

بنے گڑھے میں ایک چھوٹا سا جوہڑ۔

اے قربانی

عشق کے نام پر! اے سب میں مساوات کے

درشن کرنے والے! اے بے شک، تجھ میں اِس فانی

جہان کا درد اور بدی فرار ہو جاتی ہے،

اور غائب ہو جاتی ہے، اے عزیز ترین ہستی۔

انگریزی

ہم تجھے سلام کرتے ہیں!

اے آقا! جہان کے معبود،

سنسار کے بندھن کو توڑنے والے، تُو بے داغ ہے،

مبارک صفات کا مجسّم،

تُو تمام گُنوں سے ماورا ہے؛ انسانی صورت

یوں دھارتا ہے۔

ہم تجھے سلام اور تیری پرستش کرتے ہیں!

ذہن و گفتار کی پناہ گاہ، تُو دونوں کی

رسائی سے پرے ہے۔ نور ہے تُو

ہر اُس نور میں جو موجود ہے۔ دل کا غار

تیری زیارت سے درخشاں بنایا جاتا ہے۔

بے شک تُو وہی ہے جو دور کر دیتا ہے

انسان میں تمس کی گہری ترین تاریکی کو۔

دیکھو! نغمے کی رنگارنگی میں

نہایت شیریں عمدہ ہم آہنگی میں پھوٹتے ہوئے،

تیرے بھگتوں کے حمدیہ گیت، ہمراہ

مردنگ کے، جو موسیقی کے لطف سے بجتی ہے،

فضا کو بھر دیتے ہیں، تیری شام کی پرستش میں۔

تیری الٰہی آنکھوں پر ایک سرسری نظر

جو معرفت کے سُرمے سے صاف کی گئی ہیں

فریب کو شکست دے دیتی ہے۔ اے تُو جو مٹا دینے والا ہے

گناہ کے تمام داغوں کا، خالص، بے آمیز

عقل ہے تیری صورت۔ جہان کا

تُو سنوارنے والا ہے۔ خود اپنی روشنی سے منوّر

ہے تُو۔ اے بلند ترین جذبے کے سمندر،

اور الٰہی عشق کے، اے خدا کے نشے میں سرشار ہستی،

بھگت تیرے مبارک قدموں کو پا لیتے ہیں اور

سنسار کے اُمڈتے سمندر کو بحفاظت پار کر جاتے ہیں۔

اے جہان کے آقا، تُو اپنی یوگ قوّت سے

اِس ہمارے دور کے واضح اوتار کے طور پر

درخشاں ہے۔ اے تُو جو سخت ضبط والا ہے،

صرف تیرے بے دریغ فضل کے ذریعے ہی ہم دیکھتے ہیں

ذہن کو جذب میں کامل طور پر مدغم؛

اے رحمت کے مجسّم! تیرے اعمال نہایت ریاضت بھرے ہیں۔

تُو مصیبت کی بدی کو

تباہی بخشتا ہے۔ کلی کی جکڑنے والی رسّیاں

تیرے ہاتھوں کاٹ کر جدا کر دی جاتی ہیں۔ اپنی ہی جان

تُو نے بے دریغ نچھاور کر دی، اے شیریں قربانی،

اے انسانوں میں سب سے بہتر! اے جہان کے نجات دہندہ!

تُو جنس کے تصوّر سے خالی تھا،

ملکیت کا خیال تجھے نہ لُبھا سکا۔ تیرے لیے

ہر لذّت ناگوار تھی۔ ہمیں عطا کر،

اے تیاگیوں میں سب سے عظیم، تیرے مقدّس قدموں کے لیے

شدید عشق؛ عطا کر، ہم التجا کرتے ہیں!

تُو بے خوف ہے، اور شک کی ہر تاریکی سے پرے؛

تیرا ذہن اپنے ہی پختہ عزم میں محو ہے؛

تیرے عاشق، جن کی عقیدت اوپر چڑھ جاتی ہے

عقل کی قلمرو سے بھی، جو ترک کر دیتے ہیں غرور

ذات اور نسب کا، نام اور شہرت کا—

اُن کی محفوظ پناہ گاہ تُو ہی اکیلا ہے، اے آقا!

میرا واحد سچّا خزانہ تیرے مبارک قدم ہیں،

جنہیں پا کر ساری کائنات خود ہی

ایسی نظر آتی ہے جیسے گزرتی ہوئی گائے کے کھُر سے

بنے گڑھے میں ایک چھوٹا سا جوہڑ۔

اے قربانی

عشق کے نام پر! اے سب میں مساوات کے

درشن کرنے والے! اے بے شک، تجھ میں اِس فانی

جہان کا درد اور بدی فرار ہو جاتی ہے،

اور غائب ہو جاتی ہے، اے عزیز ترین ہستی۔

بنگالی

খন্ডন-ভব-বন্ধন, জগ-বন্দন বন্দি তোমায় ।

নিরঞ্জন, নররূপধর, নির্গুণ গুণময় ।।

মোচন-অঘদূষণ জগভূষণ চিদ্‌ঘনকায় ।

জ্ঞানাঞ্জন-বিমল-নয়ন বীক্ষণে মোহ যায় ।।

ভাস্বর ভাব সাগর চির উন্মদ প্রেম-পাথার।

ভক্তার্জন-যুগলচরণ, তারণ ভব পার ।।

জৃম্ভিত-যুগ-ঈশ্বর জগদীশ্বর যোগ সহায় ।

নিরোধন, সমাহিত মন, নিরখি তব কৃপায় ।।

ভঞ্জন- দুঃখগঞ্জন, করুনাঘন কর্ম কঠোর ।

প্রাণার্পণ-জগৎ-তারণ, কৃন্তন -কলিডোর ।।

বঞ্চন- কাম কাঞ্চন, অতিনিন্দিত ইন্দ্রিয় রাগ

ত্যাগীশ্বর, হে নরবর, দেহ পদে অনুরাগ ।।

নির্ভয়, গতসংশয়, দৃঢ়নিশ্চয়মানসবান।

নিস্কারণ ভকত শরণ, ত্যাজি জাতি কুলমান।।

সম্পদ তব শ্রীপদ, ভব গোষ্পদ বারি যথায় ।

প্রেমার্পণ, সমদরশন, জগজন দুঃখ যায়।।

بنگالی

খন্ডন-ভব-বন্ধন, জগ-বন্দন বন্দি তোমায় ।

নিরঞ্জন, নররূপধর, নির্গুণ গুণময় ।।

মোচন-অঘদূষণ জগভূষণ চিদ্‌ঘনকায় ।

জ্ঞানাঞ্জন-বিমল-নয়ন বীক্ষণে মোহ যায় ।।

ভাস্বর ভাব সাগর চির উন্মদ প্রেম-পাথার।

ভক্তার্জন-যুগলচরণ, তারণ ভব পার ।।

জৃম্ভিত-যুগ-ঈশ্বর জগদীশ্বর যোগ সহায় ।

নিরোধন, সমাহিত মন, নিরখি তব কৃপায় ।।

ভঞ্জন- দুঃখগঞ্জন, করুনাঘন কর্ম কঠোর ।

প্রাণার্পণ-জগৎ-তারণ, কৃন্তন -কলিডোর ।।

বঞ্চন- কাম কাঞ্চন, অতিনিন্দিত ইন্দ্রিয় রাগ

ত্যাগীশ্বর, হে নরবর, দেহ পদে অনুরাগ ।।

নির্ভয়, গতসংশয়, দৃঢ়নিশ্চয়মানসবান।

নিস্কারণ ভকত শরণ, ত্যাজি জাতি কুলমান।।

সম্পদ তব শ্রীপদ, ভব গোষ্পদ বারি যথায় ।

প্রেমার্পণ, সমদরশন, জগজন দুঃখ যায়।।

نوٹس

English

A HYMN TO THE DIVINITY OF SHRI RAMAKRISHNA

The main poem/song was written in Bengali (which is given in the right column below). The English lyric is rendered from the Bengali lyrics. More information available at Wikipedia

The main poem/song was written in Bengali (which is given in the right column below). The English lyric is rendered from the Bengali lyrics. More information available at Wikipedia

Énglish

We salute Thee!

Lord! Adored of the world,

Samsâra's bondage breaker, taintless Thou,

Embodiment of blessed qualities,

Thou transcendest all Gunas; human form

Thus bearest.

Thee we salute and adore!

Refuge of mind and speech, Thou art beyond

The reach of either. Radiance art Thou

In all radiance that is. The heart's cave

Is by Thy visitance resplendent made.

Verily Thou art that which dispelleth

The densest darkness of Tamas in man.

Lo! In variety of melody

Forth-breaking in fine harmony most sweet,

Hymns of Thy devotees, accompanied

By Mridanga playing with music's grace,

Fill the air, in evening worship to Thee.

One glancing vision at Thine eyes divine

Cleared by the collyrium of Jnâna

Defies delusion. O thou blotter-out

Of all the taints of sin, Intelligence

Pure, unmingled is Thy form. Of the world

Thou art embellisher. Self-luminous

Art Thou. O Ocean of feeling sublime,

And of Love Divine, O God-maddened One,

Devotees win Thy blessed feet and cross

Safely the swelling sea of Samsara.

O Lord of the world, though Thy Yoga power

Thou shinest as the Incarnation clear

Of this our time. O thou of strict restraint,

Only through Thine unstinted grace we see

The mind in Samâdhi completely merged ;

Mercy Incarnate! austere are Thy deeds.

Thou dealest to the evil of Misery

Destruction. Kali's binding cords

Are cut by Thee asunder. Thine own life

Thou gavest freely, O sweet Sacrifice,

O best of men! O Saviour of the world!

Devoid wert Thou of the idea of sex,

Thought of possession charmed Thee not. To Thee

Obnoxious was all pleasure. Give to us,

O greatest among Tyâgis, love intense

Unto Thy sacred feet ; give, we implore!

Fearless art Thou, and past all gloom of doubt ;

Thy mind is wrapt in its own firm resolve ;

Thy lovers, whose devotion mounts above

The realm of reason, who renounce the pride

Of caste and parentage, of name and fame—

Their safe refuge art Thou alone, O Lord!

My one true treasure is Thy blessed feet,

Reaching which the whole universe itself

Seems like a puddle in the hollow made

By hoof of passing cow.

O offering

To Love! O Seer of equality

In all! O verily, in Thee the pain

And evil of this mortal world escapes,

And vanishes, O cherished One.

Énglish

We salute Thee!

Lord! Adored of the world,

Samsâra's bondage breaker, taintless Thou,

Embodiment of blessed qualities,

Thou transcendest all Gunas; human form

Thus bearest.

Thee we salute and adore!

Refuge of mind and speech, Thou art beyond

The reach of either. Radiance art Thou

In all radiance that is. The heart's cave

Is by Thy visitance resplendent made.

Verily Thou art that which dispelleth

The densest darkness of Tamas in man.

Lo! In variety of melody

Forth-breaking in fine harmony most sweet,

Hymns of Thy devotees, accompanied

By Mridanga playing with music's grace,

Fill the air, in evening worship to Thee.

One glancing vision at Thine eyes divine

Cleared by the collyrium of Jnâna

Defies delusion. O thou blotter-out

Of all the taints of sin, Intelligence

Pure, unmingled is Thy form. Of the world

Thou art embellisher. Self-luminous

Art Thou. O Ocean of feeling sublime,

And of Love Divine, O God-maddened One,

Devotees win Thy blessed feet and cross

Safely the swelling sea of Samsara.

O Lord of the world, though Thy Yoga power

Thou shinest as the Incarnation clear

Of this our time. O thou of strict restraint,

Only through Thine unstinted grace we see

The mind in Samâdhi completely merged ;

Mercy Incarnate! austere are Thy deeds.

Thou dealest to the evil of Misery

Destruction. Kali's binding cords

Are cut by Thee asunder. Thine own life

Thou gavest freely, O sweet Sacrifice,

O best of men! O Saviour of the world!

Devoid wert Thou of the idea of sex,

Thought of possession charmed Thee not. To Thee

Obnoxious was all pleasure. Give to us,

O greatest among Tyâgis, love intense

Unto Thy sacred feet ; give, we implore!

Fearless art Thou, and past all gloom of doubt ;

Thy mind is wrapt in its own firm resolve ;

Thy lovers, whose devotion mounts above

The realm of reason, who renounce the pride

Of caste and parentage, of name and fame—

Their safe refuge art Thou alone, O Lord!

My one true treasure is Thy blessed feet,

Reaching which the whole universe itself

Seems like a puddle in the hollow made

By hoof of passing cow.

O offering

To Love! O Seer of equality

In all! O verily, in Thee the pain

And evil of this mortal world escapes,

And vanishes, O cherished One.

Bengali

খন্ডন-ভব-বন্ধন, জগ-বন্দন বন্দি তোমায় ।

নিরঞ্জন, নররূপধর, নির্গুণ গুণময় ।।

মোচন-অঘদূষণ জগভূষণ চিদ্‌ঘনকায় ।

জ্ঞানাঞ্জন-বিমল-নয়ন বীক্ষণে মোহ যায় ।।

ভাস্বর ভাব সাগর চির উন্মদ প্রেম-পাথার।

ভক্তার্জন-যুগলচরণ, তারণ ভব পার ।।

জৃম্ভিত-যুগ-ঈশ্বর জগদীশ্বর যোগ সহায় ।

নিরোধন, সমাহিত মন, নিরখি তব কৃপায় ।।

ভঞ্জন- দুঃখগঞ্জন, করুনাঘন কর্ম কঠোর ।

প্রাণার্পণ-জগৎ-তারণ, কৃন্তন -কলিডোর ।।

বঞ্চন- কাম কাঞ্চন, অতিনিন্দিত ইন্দ্রিয় রাগ

ত্যাগীশ্বর, হে নরবর, দেহ পদে অনুরাগ ।।

নির্ভয়, গতসংশয়, দৃঢ়নিশ্চয়মানসবান।

নিস্কারণ ভকত শরণ, ত্যাজি জাতি কুলমান।।

সম্পদ তব শ্রীপদ, ভব গোষ্পদ বারি যথায় ।

প্রেমার্পণ, সমদরশন, জগজন দুঃখ যায়।।

Bengali

খন্ডন-ভব-বন্ধন, জগ-বন্দন বন্দি তোমায় ।

নিরঞ্জন, নররূপধর, নির্গুণ গুণময় ।।

মোচন-অঘদূষণ জগভূষণ চিদ্‌ঘনকায় ।

জ্ঞানাঞ্জন-বিমল-নয়ন বীক্ষণে মোহ যায় ।।

ভাস্বর ভাব সাগর চির উন্মদ প্রেম-পাথার।

ভক্তার্জন-যুগলচরণ, তারণ ভব পার ।।

জৃম্ভিত-যুগ-ঈশ্বর জগদীশ্বর যোগ সহায় ।

নিরোধন, সমাহিত মন, নিরখি তব কৃপায় ।।

ভঞ্জন- দুঃখগঞ্জন, করুনাঘন কর্ম কঠোর ।

প্রাণার্পণ-জগৎ-তারণ, কৃন্তন -কলিডোর ।।

বঞ্চন- কাম কাঞ্চন, অতিনিন্দিত ইন্দ্রিয় রাগ

ত্যাগীশ্বর, হে নরবর, দেহ পদে অনুরাগ ।।

নির্ভয়, গতসংশয়, দৃঢ়নিশ্চয়মানসবান।

নিস্কারণ ভকত শরণ, ত্যাজি জাতি কুলমান।।

সম্পদ তব শ্রীপদ, ভব গোষ্পদ বারি যথায় ।

প্রেমার্পণ, সমদরশন, জগজন দুঃখ যায়।।

Notes


متن ویکی سورس عوامی ملکیت سے۔ اصل کو ادویت آشرم نے شائع کیا۔