ویویکانند آرکائیو

آزاد روح

جلد3 lecture
4,809 الفاظ · 19 منٹ کا مطالعہ · Lectures and Discourses

یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ براہ کرم اصل انگریزی متن سے رجوع کریں۔

AI-translated. May contain errors. For accurate text, refer to the original English.

اردو

آزاد روح

(نیویارک میں خطاب، ۱۸۹۶ء)

سانکھیہ کا تجزیہ وجود کی دوئی پر آ کر تھم جاتا ہے — یعنی فطرت اور ارواح۔ ارواح لاتعداد ہیں، اور چونکہ وہ بسیط ہیں، اِس لیے فنا نہیں ہو سکتیں، اور لہٰذا انھیں فطرت سے جدا ہونا چاہیے۔ فطرت بذاتِ خود متغیر ہے اور اِن تمام مظاہر کو ظاہر کرتی ہے؛ اور روح، سانکھیہ کے مطابق، غیرفعال ہے۔ وہ بذاتِ خود ایک بسیط شے ہے، اور فطرت اِن تمام مظاہر کو روح کی نجات کی خاطر برپا کرتی ہے؛ اور نجات اِسی میں ہے کہ روح اِس امر کا اِدراک کر لے کہ وہ فطرت نہیں ہے۔ ساتھ ہی ہم دیکھ چکے ہیں کہ سانکھیہ کے ماننے والے یہ تسلیم کرنے پر مجبور تھے کہ ہر روح ہمہ موجود (سب جگہ حاضر) ہے۔ بسیط ہونے کی بنا پر روح محدود نہیں ہو سکتی، کیونکہ ہر حد یا تو زمان کے ذریعے آتی ہے، یا مکان کے، یا علّیت کے۔ روح چونکہ اِن سب سے بالکل ماورا ہے، اِس لیے اُس پر کوئی حد عائد نہیں ہو سکتی۔ محدود ہونے کے لیے ضروری ہے کہ شے مکان میں ہو، جس کا مطلب ہے جسم؛ اور جو شے جسم ہے، اُسے فطرت میں ہونا چاہیے۔ اگر روح کی کوئی صورت ہوتی، تو وہ فطرت کے ساتھ ہم ذات قرار پاتی؛ لہٰذا روح بے صورت ہے، اور جو شے بے صورت ہے اُس کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ یہاں ہے، وہاں ہے، یا کہیں ہے۔ اُسے لازماً ہمہ موجود ہونا چاہیے۔ اِس سے آگے سانکھیہ کا فلسفہ نہیں جاتا۔

اِس کے خلاف ویدانت کے ماننے والوں کی پہلی دلیل یہ ہے کہ یہ تجزیہ مکمل نہیں۔ اگر اُن کی فطرت مطلق ہو اور روح بھی مطلق ہو، تو دو مطلق ہو جائیں گے، اور وہ تمام دلائل جو روح کے معاملے میں اُسے ہمہ موجود ثابت کرنے کے لیے لاگو ہوتے ہیں، فطرت کے معاملے میں بھی لاگو ہوں گے، اور فطرت بھی ہر زمان، مکان اور علّیت سے ماورا ہو جائے گی، اور نتیجتاً کوئی تغیر یا اظہار باقی نہ رہے گا۔ پھر دو مطلق رکھنے کی مشکل سامنے آئے گی، جو ناممکن ہے۔ تو ویدانتی کا حل کیا ہے؟ اُس کا حل یہ ہے کہ جیسا کہ سانکھیہ والے کہتے ہیں، پسِ پشت کسی صاحبِ شعور ہستی کی، بطورِ محرّک قوت کے، ضرورت ہے، جو ذہن کو سوچنے پر اور فطرت کو عمل کرنے پر آمادہ کرے، کیونکہ فطرت اپنی تمام تبدیلیوں میں، کثیف مادے سے لے کر مہت (عقل) تک، محض بے شعور ہے۔ اب، ویدانتی کہتا ہے، یہ صاحبِ شعور ہستی جو پوری کائنات کے پسِ پشت ہے، وہی ہے جسے ہم خدا کہتے ہیں، اور نتیجتاً یہ کائنات اُس سے مختلف نہیں۔ وہی خود ہے جو یہ کائنات بن گیا ہے۔ وہ نہ صرف اِس کائنات کا فاعلی سبب ہے، بلکہ مادی سبب بھی ہے۔ سبب کبھی اپنے نتیجے سے مختلف نہیں ہوتا، نتیجہ تو محض وہی سبب ہے جو کسی اور صورت میں ازسرِنو ظاہر ہوا ہو۔ ہم یہ ہر روز دیکھتے ہیں۔ سو یہ ہستی فطرت کا سبب ہے۔ ویدانت کی تمام صورتیں اور مراحل، خواہ دوئی پرست ہوں، یا مشروط توحیدی، یا توحیدی، سب سے پہلے یہی موقف اختیار کرتے ہیں کہ خدا نہ صرف اِس کائنات کا فاعلی سبب ہے، بلکہ مادی سبب بھی، اور جو کچھ موجود ہے وہ سب وہی ہے۔ ویدانت میں دوسرا قدم یہ ہے کہ یہ ارواح بھی خدا ہی کا ایک حصہ ہیں، اُس لامحدود آتش کی ایک چنگاری۔ "جس طرح آتش کے ایک انبار سے لاکھوں ننھے ذرّے اُڑتے ہیں، اِسی طرح اِس قدیم ہستی سے یہ تمام ارواح صادر ہوئی ہیں۔" یہاں تک تو ٹھیک ہے، مگر یہ ابھی تشفی نہیں بخشتا۔ لامحدود کے ایک حصے سے کیا مراد ہے؟ لامحدود ناقابلِ تقسیم ہے؛ لامحدود کے حصے نہیں ہو سکتے۔ مطلق کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ پھر یہ کہنے سے کیا مراد ہے کہ یہ تمام چنگاریاں اُسی سے ہیں؟ وحدت الوجود کا قائل، یعنی غیرِ دوئی پرست ویدانتی، اِس مسئلے کو یوں حل کرتا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ حقیقت میں کوئی حصہ ہے ہی نہیں؛ کہ ہر روح درحقیقت لامحدود کا حصہ نہیں، بلکہ فی الواقع وہی لامحدود برہمن ہے۔ تو پھر اتنی کثرت کیسے ہو سکتی ہے؟ سورج جب پانی کے لاکھوں قطروں سے منعکس ہوتا ہے تو لاکھوں سورج معلوم ہوتا ہے، اور ہر قطرے میں سورج کی صورت کی ایک ننھی تصویر ہوتی ہے؛ سو یہ تمام ارواح محض انعکاس ہیں، حقیقی نہیں۔ یہ وہ حقیقی "میں" نہیں جو اِس کائنات کا خدا ہے، کائنات کی واحد ناقابلِ تقسیم ہستی۔ اور یہ تمام چھوٹے چھوٹے مختلف وجود، انسان اور حیوان وغیرہ، محض انعکاس ہیں، حقیقی نہیں۔ یہ تو فطرت پر محض وہمی عکس ہیں۔ کائنات میں صرف ایک ہی لامحدود ہستی ہے، اور وہی ہستی آپ کی صورت میں اور میری صورت میں ظاہر ہوتی ہے؛ مگر تقسیموں کا یہ ظہور بالآخر ایک فریب ہے۔ وہ تقسیم نہیں ہوا، بلکہ صرف تقسیم شدہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ ظاہری تقسیم اِس باعث پیدا ہوتی ہے کہ ہم اُسے زمان، مکان اور علّیت کے جال کے پار سے دیکھتے ہیں۔ جب میں خدا کو زمان، مکان اور علّیت کے جال کے پار سے دیکھتا ہوں، تو میں اُسے مادی دنیا کے روپ میں دیکھتا ہوں۔ جب میں اُسے ذرا بلند تر سطح سے، مگر اُسی جال کے پار سے دیکھتا ہوں، تو میں اُسے حیوان کے روپ میں دیکھتا ہوں، ذرا بلند تر پر انسان کے روپ میں، ذرا بلند تر پر دیوتا کے روپ میں، مگر پھر بھی وہ کائنات کی وہی واحد لامحدود ہستی ہے، اور وہی ہستی ہم ہیں۔ میں وہی ہوں، اور آپ بھی وہی ہیں۔ اُس کے حصے نہیں، بلکہ اُس کا کُل۔ "وہ ابدی عارف ہے جو تمام مظاہر کے پسِ پشت کھڑا ہے؛ وہ خود ہی یہ مظاہر ہے۔" وہ موضوع بھی ہے اور معروض بھی، وہ "میں" بھی ہے اور "آپ" بھی۔ یہ کیونکر ہے؟ "عارف کو کیسے جانا جائے؟ عارف اپنے آپ کو نہیں جان سکتا؛ میں ہر شے کو دیکھتا ہوں مگر اپنے آپ کو نہیں دیکھ سکتا۔" ذات، عارف، سب کا مالک، حقیقی ہستی، اُس تمام بصارت کا سبب ہے جو کائنات میں ہے، مگر اُس کے لیے یہ ناممکن ہے کہ اپنے آپ کو دیکھے یا اپنے آپ کو جانے، سوائے انعکاس کے ذریعے۔ آپ اپنا چہرہ آئینے کے سوا نہیں دیکھ سکتے، اور اِسی طرح ذات اپنی فطرت کو اُس وقت تک نہیں دیکھ سکتی جب تک وہ منعکس نہ ہو، اور لہٰذا یہ پوری کائنات وہی ذات ہے جو اپنے آپ کا اِدراک کرنے کی کوشش میں ہے۔ یہ انعکاس پہلے پہل پروٹوپلازم سے واپس پلٹتا ہے، پھر نباتات اور حیوانات سے، اور یوں آگے ہی آگے، بہتر سے بہتر عاکسوں سے، یہاں تک کہ سب سے بہتر عاکس، یعنی کامل انسان تک پہنچ جاتا ہے — بالکل اُس شخص کی طرح جو اپنا چہرہ دیکھنا چاہتا ہو اور پہلے گدلے پانی کے کسی ننھے تالاب میں دیکھے، اور محض ایک خاکہ سا دیکھے؛ پھر صاف پانی کے پاس آئے اور ایک بہتر عکس دیکھے؛ پھر چمکدار دھات کے کسی ٹکڑے کے پاس آئے اور اِس سے بھی بہتر عکس دیکھے؛ اور آخرکار آئینے کے پاس آئے اور اپنے آپ کو ویسا ہی منعکس دیکھے جیسا وہ ہے۔ لہٰذا کامل انسان اُس ہستی کا اعلیٰ ترین انعکاس ہے جو موضوع بھی ہے اور معروض بھی۔ اب آپ کو سمجھ آئے گی کہ انسان فطری طور پر ہر شے کی پرستش کیوں کرتا ہے، اور کامل انسان ہر ملک میں فطری طور پر بطورِ خدا کیوں پوجے جاتے ہیں۔ آپ خواہ جو چاہے کہیں، مگر وہی ہیں جن کی پرستش ہونا لازم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اوتاروں کی پرستش کرتے ہیں، جیسے مسیح یا بدھ۔ یہ ابدی ذات کے سب سے کامل مظاہر ہیں۔ یہ خدا کے اُن تمام تصورات سے کہیں بلند ہیں جو آپ یا میں بنا سکتے ہیں۔ ایک کامل انسان ایسے تصورات سے کہیں بلند ہے۔ اُس میں دائرہ مکمل ہو جاتا ہے؛ موضوع اور معروض ایک ہو جاتے ہیں۔ اُس میں تمام فریب رخصت ہو جاتے ہیں اور اُن کی جگہ یہ اِدراک آ جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ سے وہی کامل ہستی رہا ہے۔ تو پھر یہ اسیری کیسے آئی؟ اِس کامل ہستی کے لیے یہ کیونکر ممکن ہوا کہ ناقص میں تنزل کر جائے؟ یہ کیونکر ممکن ہوا کہ آزاد، اسیر بن جائے؟ وحدت الوجود کا قائل کہتا ہے کہ وہ کبھی اسیر تھا ہی نہیں، بلکہ ہمیشہ آزاد رہا۔ مختلف رنگوں کے مختلف بادل آسمان کے سامنے آتے ہیں۔ وہ ایک لمحے کے لیے وہاں ٹھہرتے ہیں اور پھر گزر جاتے ہیں۔ یہ وہی ابدی نیلا آسمان ہے جو ہمیشہ کے لیے وہاں پھیلا ہوا ہے۔ آسمان کبھی نہیں بدلتا: بدلنے والا تو بادل ہے۔ سو آپ ہمیشہ کامل ہیں، ازلی و ابدی طور پر کامل۔ کوئی شے آپ کی فطرت کو نہ کبھی بدلتی ہے، نہ کبھی بدلے گی۔ یہ تمام خیالات کہ میں ناقص ہوں، میں مرد ہوں، یا عورت، یا گناہگار، یا یہ کہ میں ذہن ہوں، میں نے سوچا، میں سوچوں گا — سب وہم ہیں؛ آپ کبھی نہیں سوچتے، آپ کا کبھی کوئی جسم نہ تھا؛ آپ کبھی ناقص نہ تھے۔ آپ اِس کائنات کے بابرکت مالک ہیں، ہر اُس شے کے واحد قادرِ مطلق فرمانروا جو ہے اور جو کبھی ہوگی، اِن سورجوں اور ستاروں اور چاندوں اور زمینوں اور سیاروں اور ہماری کائنات کے تمام ننھے ذرّوں کے واحد جبّار فرمانروا۔ آپ ہی کے ذریعے سورج چمکتا ہے اور ستارے اپنی آب و تاب بکھیرتے ہیں، اور زمین حسین بنتی ہے۔ آپ ہی کی برکت کے سبب وہ سب ایک دوسرے سے محبت کرتے اور ایک دوسرے کی طرف کھنچتے ہیں۔ آپ سب میں ہیں، اور آپ سب کچھ ہیں۔ کس سے کترانا، اور کسے اپنانا؟ آپ ہی سب میں سب کچھ ہیں۔ جب یہ معرفت آتی ہے تو فریب فوراً غائب ہو جاتا ہے۔

میں ایک مرتبہ ہندوستان میں صحرا میں سفر کر رہا تھا۔ میں ایک مہینے سے زائد سفر کرتا رہا اور ہمیشہ اپنے سامنے نہایت حسین مناظر، خوبصورت جھیلیں اور وہ سب کچھ پاتا رہا۔ ایک دن مجھے سخت پیاس لگی اور میں نے اِن جھیلوں میں سے کسی ایک سے پانی پینا چاہا؛ مگر جب میں اُس جھیل کے قریب پہنچا تو وہ غائب ہو گئی۔ فوراً ایک دھچکے کے ساتھ میرے دماغ میں یہ خیال آیا کہ یہ تو وہی سراب ہے جس کے بارے میں میں نے عمر بھر پڑھا تھا؛ اور پھر مجھے یاد آیا اور میں اپنی نادانی پر مسکرایا کہ گزشتہ پورے مہینے جو حسین مناظر اور جھیلیں میں دیکھتا رہا تھا وہ سب یہی سراب تھا، مگر اُس وقت میں اُنھیں الگ نہ کر سکا۔ اگلی صبح میں نے دوبارہ اپنا سفر شروع کیا؛ وہاں وہی جھیل اور وہی منظر تھا، مگر اِس کے ساتھ ہی فوراً یہ خیال آ گیا کہ "یہ سراب ہے۔" ایک بار پہچانے جانے پر اُس نے اپنی فریب دہی کی طاقت کھو دی۔ سو کائنات کا یہ فریب بھی ایک دن ٹوٹے گا۔ یہ سب کچھ غائب ہو جائے گا، پگھل کر مٹ جائے گا۔ یہی اِدراک ہے۔ فلسفہ کوئی مذاق یا گپ نہیں۔ اِسے سچ مچ پانا پڑتا ہے؛ یہ جسم غائب ہو جائے گا، یہ زمین اور ہر شے غائب ہو جائے گی، یہ خیال کہ میں جسم ہوں یا ذہن کچھ عرصے کے لیے غائب ہو جائے گا، یا اگر کرما ختم ہو چکا ہو تو یہ ایسا غائب ہو جائے گا کہ کبھی واپس نہ آئے گا؛ مگر اگر کرما کا ایک حصہ باقی رہ جائے، تو جس طرح کمہار کا چاک، کمہار کے گھڑا بنا چکنے کے بعد، کبھی کبھی پچھلی رفتار کے زورِ سے گھومتا رہتا ہے، اِسی طرح یہ جسم، جب فریب بالکل غائب ہو چکا ہو، کچھ عرصے تک چلتا رہے گا۔ یہ دنیا پھر آئے گی، مرد اور عورتیں اور حیوان آئیں گے، بالکل جیسے سراب اگلے دن آیا تھا، مگر اُسی شدت کے ساتھ نہیں؛ اِس کے ساتھ ہی یہ خیال آئے گا کہ اب میں اِس کی فطرت کو جانتا ہوں، اور یہ کوئی اسیری پیدا نہ کرے گا، نہ مزید کوئی درد، نہ غم، نہ مصیبت۔ جب کبھی کوئی مصیبت آئے گی، ذہن کہہ سکے گا کہ "میں تجھے وہم کے طور پر جانتا ہوں۔" جب کوئی شخص اُس حالت کو پہنچ جاتا ہے تو اُسے جیون مُکت کہا جاتا ہے، یعنی "زندہ آزاد"، حیات ہی میں آزاد۔ جنیان یوگی کے لیے اِس زندگی کا مقصد اور انتہا یہی ہے کہ وہ یہ جیون مُکت، یعنی "زندہ آزاد" بن جائے۔ وہی جیون مُکت ہے جو اِس دنیا میں بے تعلق رہ کر زندگی بسر کر سکے۔ وہ پانی میں کنول کے پتوں کی مانند ہے، جو پانی سے کبھی تر نہیں ہوتے۔ وہ انسانوں میں سب سے بلند ہے، بلکہ تمام مخلوقات میں سب سے بلند، کیونکہ اُس نے مطلق کے ساتھ اپنی یکسانیت کا اِدراک کر لیا ہے، اُس نے یہ جان لیا ہے کہ وہ خدا کے ساتھ ایک ہے۔ جب تک آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ میں خدا سے ذرا سا بھی فرق ہے، خوف آپ کو دبوچ لے گا، مگر جب آپ یہ جان لیں کہ آپ ہی وہ ہیں، کہ کوئی فرق نہیں، سرے سے کوئی فرق نہیں، کہ آپ ہی وہ ہیں، اُس کا سراسر اور اُس کا سراپا، تو تمام خوف ختم ہو جاتا ہے۔ "وہاں کون کسے دیکھتا ہے؟ کون کس کی پرستش کرتا ہے؟ کون کس سے بات کرتا ہے؟ کون کس کی سنتا ہے؟ جہاں ایک دوسرے کو دیکھتا ہے، جہاں ایک دوسرے سے بات کرتا ہے، جہاں ایک دوسرے کی سنتا ہے، وہ ادنیٰ ہے۔ جہاں نہ کوئی کسی کو دیکھتا ہے، نہ کوئی کسی سے بولتا ہے، وہی اعلیٰ ترین ہے، وہی عظیم ہے، وہی برہمن ہے۔" چونکہ آپ وہی ہیں، اِس لیے آپ ہمیشہ وہی ہیں۔ تو پھر دنیا کا کیا بنے گا؟ ہم دنیا کا کیا بھلا کریں گے؟ ایسے سوالات اُٹھتے ہی نہیں۔ "اگر میں بوڑھا ہو گیا تو میرے میٹھے کیک کا کیا بنے گا؟" دودھ پیتا بچہ کہتا ہے! "اگر میں بڑا ہو گیا تو میری کنچوں کا کیا بنے گا؟ سو میں بڑا ہی نہ ہوں گا،" لڑکا کہتا ہے! "اگر میں بوڑھی ہو گئی تو میری گڑیوں کا کیا بنے گا؟" ننھی بچی کہتی ہے! یہی سوال اِس دنیا کے سلسلے میں بھی ہے، اِس کا کوئی وجود نہ ماضی میں ہے، نہ حال میں، نہ مستقبل میں۔ اگر ہم نے آتمن کو ویسا جان لیا جیسا وہ ہے، اگر ہم نے یہ جان لیا کہ اِس آتمن کے سوا اور کچھ نہیں، کہ باقی سب محض ایک خواب ہے، جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں، تو پھر یہ دنیا اپنی غربتوں، اپنی مصیبتوں، اپنی بدی اور اپنی نیکی سمیت ہمیں پریشان کرنا چھوڑ دے گی۔ اگر اُن کا وجود ہی نہیں، تو ہم کس کے لیے اور کس واسطے زحمت اُٹھائیں؟ یہی وہ بات ہے جو جنیان یوگی سکھاتے ہیں۔ لہٰذا، آزاد ہونے کی جرأت کیجیے، اپنی فکر جہاں تک لے جائے وہاں تک جانے کی جرأت کیجیے، اور اِسے اپنی زندگی میں برتنے کی جرأت کیجیے۔ معرفت تک پہنچنا نہایت دشوار ہے۔ یہ بہادر ترین اور جری ترین لوگوں کے لیے ہے، جو تمام بتوں کو پاش پاش کرنے کی جرأت رکھتے ہیں، نہ صرف فکری بتوں کو، بلکہ حواس کے بتوں کو بھی۔ یہ جسم میں نہیں ہوں؛ اِسے جانا ہی ہے۔ اِس سے طرح طرح کی عجیب باتیں نکل سکتی ہیں۔ ایک شخص کھڑا ہو کر کہتا ہے، "میں جسم نہیں ہوں، لہٰذا میرے سر کا درد جاتا رہنا چاہیے"؛ مگر سر کا درد اگر اُس کے جسم میں نہیں تو کہاں ہے؟ ہزار سر درد اور ہزار جسم آئیں اور جائیں۔ مجھے اِس سے کیا؟ نہ میرا کوئی جنم ہے نہ مرن؛ نہ میرا کبھی کوئی باپ تھا نہ ماں؛ نہ میرے کوئی دوست ہیں نہ دشمن، کیونکہ وہ سب میں ہی ہوں۔ میں خود ہی اپنا دوست ہوں، اور خود ہی اپنا دشمن۔ میں وجودِ مطلق، علمِ مطلق، نعمتِ مطلق ہوں۔ میں وہی ہوں، میں وہی ہوں۔ اگر ہزار جسموں میں میں بخار اور دیگر علتوں میں مبتلا ہوں، تو لاکھوں جسموں میں میں تندرست ہوں۔ اگر ہزار جسموں میں میں بھوکا مر رہا ہوں، تو دوسرے ہزار جسموں میں میں دعوت اُڑا رہا ہوں۔ اگر ہزاروں جسموں میں میں مصیبت جھیل رہا ہوں، تو ہزاروں جسموں میں میں شاد و خرم ہوں۔ کون کس پر الزام دھرے، کون کس کی تعریف کرے؟ کسے ڈھونڈنا، کس سے کترانا؟ نہ میں کسی کو ڈھونڈتا ہوں، نہ کسی سے کتراتا ہوں، کیونکہ میں ہی پوری کائنات ہوں۔ میں خود ہی اپنی تعریف کرتا ہوں، خود ہی اپنے آپ کو ملامت کرتا ہوں، خود ہی اپنے لیے دکھ اُٹھاتا ہوں، اپنی ہی مرضی سے خوش ہوں، میں آزاد ہوں۔ یہی جنیانی ہے، بہادر اور جری۔ بھلے ساری کائنات ڈھے جائے؛ وہ مسکراتا ہے اور کہتا ہے کہ اِس کا تو وجود ہی کبھی نہ تھا، یہ سب ایک وہم تھا۔ وہ کائنات کو ڈھتے دیکھتا ہے۔ وہ کہاں تھی! کہاں چلی گئی!

عملی پہلو میں داخل ہونے سے پہلے، ہم ایک اور فکری سوال اُٹھائیں گے۔ یہاں تک استدلال نہایت بے رحمی سے سخت ہے۔ اگر انسان عقل سے کام لے، تو اُس کے کھڑے ہونے کے لیے اُس وقت تک کوئی جگہ نہیں جب تک وہ اِس نتیجے پر نہ پہنچ جائے کہ صرف ایک ہی وجود ہے، اور باقی سب کچھ معدوم ہے۔ عقل مند بنی نوعِ انسان کے لیے اِس نظریے کو اپنانے کے سوا کوئی اور راہ باقی نہیں۔ مگر یہ کیونکر ہوا کہ جو لامحدود، ہمیشہ کامل، ہمیشہ بابرکت، وجودِ مطلق و علمِ مطلق و نعمتِ مطلق ہے، وہ اِن فریبوں کی زد میں آ گیا؟ یہی وہ سوال ہے جو ساری دنیا میں پوچھا جاتا رہا ہے۔ عامیانہ صورت میں یہ سوال یوں بن جاتا ہے کہ "اِس دنیا میں گناہ کیسے آیا؟" یہ اِس سوال کی سب سے عامیانہ اور حسّی صورت ہے، اور دوسری اِس کی سب سے فلسفیانہ صورت ہے، مگر جواب ایک ہی ہے۔ یہی سوال طرح طرح کے درجوں اور اندازوں میں پوچھا گیا ہے، مگر اپنی پست صورتوں میں اِس کا کوئی حل نہیں ملتا، کیونکہ سیب اور سانپ اور عورت کی کہانیاں کوئی توجیہ نہیں دیتیں۔ اُس حالت میں سوال بچگانہ ہے، اور جواب بھی۔ مگر اب یہ سوال نہایت اعلیٰ پیمانے اختیار کر چکا ہے: "یہ فریب کیسے آیا؟" اور جواب بھی اُتنا ہی لطیف ہے۔ جواب یہ ہے کہ ہم کسی ناممکن سوال کے کسی جواب کی توقع نہیں رکھ سکتے۔ یہ سوال بذاتِ خود الفاظ کے اعتبار سے ناممکن ہے۔ آپ کو یہ سوال پوچھنے کا حق ہی نہیں۔ کیوں؟ کمال کیا ہے؟ جو شے زمان، مکان اور علّیت سے ماورا ہے — وہی کامل ہے۔ پھر آپ پوچھتے ہیں کہ کامل ناقص کیسے بن گیا۔ منطقی زبان میں یہ سوال یوں رکھا جا سکتا ہے: "جو شے علّیت سے ماورا ہے وہ معلول کیسے بن گئی؟" آپ خود اپنی تردید کرتے ہیں۔ آپ پہلے تسلیم کرتے ہیں کہ وہ علّیت سے ماورا ہے، اور پھر پوچھتے ہیں کہ اُس کا سبب کیا ہے۔ یہ سوال صرف علّیت کی حدود کے اندر ہی پوچھا جا سکتا ہے۔ جہاں تک زمان اور مکان اور علّیت کا دائرہ پھیلا ہوا ہے، وہیں تک یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے۔ مگر اِس سے ماورا یہ سوال کرنا بے معنی ہوگا، کیونکہ یہ سوال غیرمنطقی ہے۔ زمان، مکان اور علّیت کے اندر اِس کا جواب کبھی نہیں دیا جا سکتا، اور جو جواب اِن حدود سے ماورا ہو، وہ صرف اُسی وقت جانا جا سکتا ہے جب ہم اُن سے ماورا ہو چکے ہوں؛ لہٰذا دانا اِس سوال کو رہنے دے گا۔ جب کوئی شخص بیمار ہو، تو وہ اپنی بیماری کے علاج میں منہمک ہو جاتا ہے، یہ ضد کیے بغیر کہ پہلے اُسے یہ سیکھنا ہوگا کہ یہ بیماری اُسے لگی کیسے۔

اِس سوال کی ایک اور صورت بھی ہے، ذرا پست تر، مگر زیادہ عملی اور وضاحت دینے والی: اِس فریب کو کس نے پیدا کیا؟ کیا کوئی حقیقت فریب پیدا کر سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک فریب دوسرے فریب کو پیدا کرتا ہے، اور یوں آگے۔ ہمیشہ فریب ہی ہے جو فریب پیدا کرتا ہے۔ بیماری ہی ہے جو بیماری پیدا کرتی ہے، نہ کہ صحت بیماری پیدا کرتی ہے۔ موج پانی ہی کی مانند ایک ہی شے ہے، نتیجہ تو سبب ہی کی ایک اور صورت ہے۔ نتیجہ فریب ہے، اور لہٰذا سبب کو بھی فریب ہی ہونا چاہیے۔ اِس فریب کو کس نے پیدا کیا؟ ایک اور فریب نے۔ اور یوں بلا ابتدا یہ سلسلہ چلتا ہے۔ آپ کے پوچھنے کو صرف یہ سوال باقی رہ جاتا ہے: کیا اِس سے آپ کی توحید نہیں ٹوٹ جاتی، کیونکہ آپ کو کائنات میں دو وجود مل جاتے ہیں، ایک خود آپ اور دوسرا فریب؟ جواب یہ ہے: فریب کو وجود نہیں کہا جا سکتا۔ آپ کی زندگی میں ہزاروں خواب آتے ہیں، مگر وہ آپ کی زندگی کا کوئی حصہ نہیں بنتے۔ خواب آتے اور جاتے ہیں؛ اُن کا کوئی وجود نہیں۔ فریب کو وجود کہنا سفسطہ ہوگا۔ لہٰذا کائنات میں صرف ایک ہی انفرادی وجود ہے، ہمیشہ آزاد، اور ہمیشہ بابرکت؛ اور وہی آپ ہیں۔ یہی وہ آخری نتیجہ ہے جس تک وحدت الوجود کے قائلین پہنچے ہیں۔

پھر یہ پوچھا جا سکتا ہے: تو پھر پرستش کی اِن تمام مختلف صورتوں کا کیا بنے گا؟ وہ باقی رہیں گی؛ وہ تو محض اندھیرے میں روشنی کو ٹٹول رہی ہیں، اور اِسی ٹٹولنے کے ذریعے روشنی آئے گی۔ ہم ابھی دیکھ چکے ہیں کہ ذات اپنے آپ کو نہیں دیکھ سکتی۔ ہمارا علم مایا (لاحقیقت) کے جال کے اندر ہے، اور اِس سے ماورا آزادی ہے۔ جال کے اندر غلامی ہے، یہاں سب کچھ قانون کے ماتحت ہے؛ اِس سے ماورا کوئی قانون نہیں۔ جہاں تک کائنات کا تعلق ہے، وجود قانون کے زیرِ حکم ہے، اور اِس سے ماورا آزادی ہے۔ جب تک آپ زمان، مکان اور علّیت کے جال میں ہیں، یہ کہنا کہ آپ آزاد ہیں بے معنی ہے، کیونکہ اُس جال میں سب کچھ سخت قانون، تسلسل اور نتیجے کے ماتحت ہے۔ ہر خیال جو آپ سوچتے ہیں مسبَّب ہے، ہر احساس کا کوئی سبب رہا ہے؛ یہ کہنا کہ ارادہ آزاد ہے سراسر بے معنی ہے۔ یہ تو صرف اُسی وقت ہوتا ہے جب لامحدود وجود، گویا، مایا کے اِس جال میں آتا ہے، تو وہ ارادے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ارادہ اُسی ہستی کا ایک جزو ہے جو مایا کے جال میں پھنس گیا ہے، اور لہٰذا "آزاد ارادہ" ایک غلط نام ہے۔ اِس کا کوئی مطلب ہی نہیں — سراسر بے معنی۔ یہی حال آزادی کی اِس تمام بحث کا ہے۔ مایا میں کوئی آزادی نہیں۔

ہر شخص اپنی فکر، قول، فعل اور ذہن میں اُتنا ہی اسیر ہے جتنا پتھر کا ٹکڑا یا یہ میز۔ میں اِس وقت آپ سے جو بات کر رہا ہوں وہ بھی علّیت کے اعتبار سے اُتنی ہی جکڑی ہوئی ہے جتنا آپ کا میری بات سننا۔ جب تک آپ مایا سے ماورا نہ ہو جائیں کوئی آزادی نہیں۔ یہی روح کی حقیقی آزادی ہے۔ لوگ خواہ کتنے ہی تیز اور عقل مند کیوں نہ ہوں، خواہ کتنی ہی صفائی سے اِس منطق کی قوت دیکھ لیں کہ یہاں کوئی شے آزاد نہیں ہو سکتی، پھر بھی سب اِس بات پر سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ آزاد ہیں؛ وہ اِس سے بچ نہیں سکتے۔ کوئی کام اُس وقت تک نہیں چل سکتا جب تک ہم یہ نہ کہنے لگیں کہ ہم آزاد ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جس آزادی کی ہم بات کرتے ہیں وہ بادلوں کے بیچ سے نیلے آسمان کی ایک جھلک ہے، اور حقیقی آزادی — یعنی خود نیلا آسمان — اِس کے پسِ پشت ہے۔ حقیقی آزادی اِس فریب، اِس وہم، دنیا کی اِس بے معنویت، حواس، جسم اور ذہن کی اِس کائنات کے درمیان قائم نہیں رہ سکتی۔ یہ تمام خواب، جن کی نہ کوئی ابتدا ہے نہ انتہا، بے قابو اور ناقابلِ قابو، بدنظم، شکستہ، بے آہنگ، یہی ہماری اِس کائنات کے تصور کو تشکیل دیتے ہیں۔ خواب میں جب آپ بیس سروں والے کسی دیو کو اپنے پیچھے دوڑتے دیکھتے ہیں، اور آپ اُس سے بھاگ رہے ہوتے ہیں، تو آپ یہ نہیں سوچتے کہ یہ بے آہنگ ہے؛ آپ سمجھتے ہیں کہ یہ بجا اور درست ہے۔ ایسا ہی یہ قانون ہے۔ جسے آپ قانون کہتے ہیں وہ محض بے معنی اتفاق ہے۔ اِس خواب کی حالت میں آپ اُسے قانون کہتے ہیں۔ مایا کے اندر، جہاں تک زمان، مکان اور علّیت کا یہ قانون موجود ہے، کوئی آزادی نہیں؛ اور پرستش کی یہ تمام مختلف صورتیں اِسی مایا کے اندر ہیں۔ خدا کا تصور اور حیوان اور انسان کے تصورات اِسی مایا کے اندر ہیں، اور اِس بنا پر یکساں طور پر وہم ہیں؛ یہ سب خواب ہیں۔ مگر آپ کو خبردار رہنا چاہیے کہ آپ کچھ ایسے انوکھے لوگوں کی طرح استدلال نہ کریں جن کے بارے میں ہم اِس زمانے میں سنتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا کا تصور ایک فریب ہے، مگر اِس دنیا کا تصور سچ ہے۔ دونوں تصورات ایک ہی منطق سے قائم یا منہدم ہوتے ہیں۔ صرف اُسی کو ملحد ہونے کا حق ہے جو اِس دنیا کا بھی اِسی طرح انکار کرے جیسے دوسری دنیا کا۔ دونوں کے لیے دلیل ایک ہی ہے۔ فریب کا وہی انبار خدا سے لے کر پست ترین حیوان تک پھیلا ہوا ہے، گھاس کی ایک پتی سے لے کر خالق تک۔ وہ ایک ہی منطق سے قائم یا منہدم ہوتے ہیں۔ وہی شخص جو خدا کے تصور میں جھوٹ دیکھتا ہے، اُسے چاہیے کہ اپنے ہی جسم یا اپنے ہی ذہن کے تصور میں بھی وہی دیکھے۔ جب خدا غائب ہوتا ہے، تو جسم اور ذہن بھی غائب ہو جاتے ہیں؛ اور جب دونوں غائب ہو جاتے ہیں، تو وہ شے جو حقیقی وجود ہے ہمیشہ کے لیے باقی رہ جاتی ہے۔ "وہاں نہ آنکھیں پہنچ سکتی ہیں، نہ گفتار، نہ ذہن۔ ہم نہ اُسے دیکھ سکتے ہیں، نہ اُسے جان سکتے ہیں۔" اور اب ہم سمجھ گئے کہ جہاں تک گفتار اور فکر اور علم اور عقل کا تعلق ہے، یہ سب اِسی مایا کے اندر، اسیری کے اندر ہے۔ اِس سے ماورا حقیقت ہے۔ وہاں نہ فکر، نہ ذہن، نہ گفتار پہنچ سکتی ہے۔

یہاں تک فکری اعتبار سے سب درست ہے، مگر پھر عمل کا مرحلہ آتا ہے۔ اصل کام عمل میں ہے۔ کیا اِس وحدانیت کے اِدراک کے لیے کسی عمل کی ضرورت ہے؟ یقیناً بے حد ضرورت ہے۔ بات یہ نہیں کہ آپ یہ برہمن بن جائیں گے۔ آپ پہلے ہی وہی ہیں۔ بات یہ نہیں کہ آپ خدا یا کامل بننے والے ہیں؛ آپ پہلے ہی کامل ہیں؛ اور جب کبھی آپ سمجھیں کہ آپ نہیں ہیں، تو یہ ایک فریب ہے۔ یہ فریب جو کہتا ہے کہ آپ فلاں صاحب یا فلاں بیگم ہیں، اِس سے ایک اور فریب کے ذریعے نجات پائی جا سکتی ہے، اور وہ ہے عمل۔ آگ آگ کو کھا جائے گی، اور آپ ایک فریب کو دوسرے فریب پر قابو پانے کے لیے بروئے کار لا سکتے ہیں۔ ایک بادل آئے گا اور دوسرے بادل کو بہا لے جائے گا، اور پھر دونوں چلے جائیں گے۔ تو پھر یہ اعمال کیا ہیں؟ ہمیں ہمیشہ یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہم آزاد ہونے والے نہیں، بلکہ پہلے ہی آزاد ہیں۔ ہر وہ خیال کہ ہم اسیر ہیں ایک فریب ہے۔ ہر وہ خیال کہ ہم خوش ہیں یا ناخوش ایک زبردست فریب ہے؛ اور ایک اور فریب آئے گا — کہ ہمیں آزاد ہونے کے لیے کام کرنا، پرستش کرنا اور جدوجہد کرنا ہے — اور یہ پہلے فریب کو نکال باہر کرے گا، اور پھر دونوں رک جائیں گے۔

لومڑی کو مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں کے ہاں نہایت ناپاک سمجھا جاتا ہے۔ اِسی طرح، اگر کتا کھانے کے کسی ذرّے کو چھو لے تو اُسے پھینکنا پڑتا ہے، اُسے کوئی شخص نہیں کھا سکتا۔ ایک مسلمان کے گھر میں ایک لومڑی گھس آئی اور اُس نے میز سے کھانے کا تھوڑا سا حصہ اُٹھایا، کھا گئی اور بھاگ گئی۔ وہ شخص غریب تھا، اور اُس نے اپنے لیے ایک نہایت عمدہ دعوت تیار کی تھی، اور وہ دعوت ناپاک ہو گئی، اور وہ اُسے کھا نہ سکا۔ سو وہ ایک مُلّا کے، یعنی ایک عالمِ دین کے پاس گیا اور کہا، "میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہے؛ ایک لومڑی آئی اور میرے کھانے میں سے ایک لقمہ لے گئی۔ اب کیا کیا جا سکتا ہے؟ میں نے ایک دعوت تیار کی تھی اور بڑے شوق سے اُسے کھانا چاہتا تھا، اور اب یہ لومڑی آ کر سارا معاملہ تباہ کر گئی۔" مُلّا نے ایک لمحے سوچا اور پھر اُسے صرف ایک ہی حل سوجھا اور کہا، "آپ کے لیے واحد راہ یہ ہے کہ ایک کتا لائیں اور اُسی پلیٹ میں سے اُسے بھی ایک لقمہ کھلائیں، کیونکہ کتے اور لومڑیاں ہمیشہ سے ایک دوسرے سے جھگڑتے چلے آئے ہیں۔ جو کھانا لومڑی نے چھوڑا وہ آپ کے پیٹ میں جائے گا، اور جو کتے نے چھوڑا وہ بھی وہیں جائے گا، اور یوں دونوں پاک ہو جائیں گے۔" ہم بھی بالکل ایسی ہی مخمصے میں ہیں۔ یہ ایک وہم ہے کہ ہم ناقص ہیں؛ اور ہم ایک اور وہم اختیار کرتے ہیں، کہ ہمیں کامل بننے کے لیے عمل کرنا ہے۔ پھر ایک دوسرے کا پیچھا کرے گا، جیسے ہم ایک کانٹے کو دوسرے کانٹے کے نکالنے کے لیے بروئے کار لا سکتے ہیں اور پھر دونوں کو پھینک دیں۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے لیے اِتنا جان لینا ہی کافی علم ہے کہ "آپ ہی وہی ہیں"۔ ایک کوند کے ساتھ یہ کائنات رخصت ہو جاتی ہے اور حقیقی فطرت جگمگا اُٹھتی ہے، مگر دوسروں کو اسیری کے اِس خیال سے نجات پانے کے لیے سخت جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔

پہلا سوال یہ ہے: جنیان یوگی بننے کے اہل کون ہیں؟ وہی جو اِن لوازمات سے آراستہ ہوں: اوّل، عمل کے تمام ثمرات سے اور اِس زندگی یا کسی دوسری زندگی کی تمام لذّتوں سے دستبرداری۔ اگر آپ اِس کائنات کے خالق ہیں، تو جو کچھ آپ چاہیں گے وہ آپ کو حاصل ہوگا، کیونکہ آپ اُسے اپنے لیے خود تخلیق کریں گے۔ یہ تو محض وقت کی بات ہے۔ کچھ لوگوں کو وہ فوراً مل جاتا ہے؛ کچھ دوسروں کے لیے گزشتہ سنسکار (نقوش) اُن کی خواہشات کے حصول کی راہ میں حائل ہو جاتے ہیں۔ ہم لذّت کی خواہشات کو، خواہ اِس زندگی میں ہوں یا کسی دوسری زندگی میں، اوّلین درجہ دیتے ہیں۔ اِس بات کا انکار کیجیے کہ سرے سے کوئی زندگی ہے بھی؛ کیونکہ زندگی موت ہی کا ایک اور نام ہے۔ اِس کا انکار کیجیے کہ آپ کوئی جاندار ہیں۔ زندگی کی کسے پروا ہے؟ زندگی اِنھی وہموں میں سے ایک ہے، اور موت اُس کی ہم پلہ شے ہے۔ مسرت اِن وہموں کا ایک پہلو ہے، اور مصیبت دوسرا پہلو، اور یوں آگے۔ آپ کا زندگی یا موت سے کیا واسطہ؟ یہ سب ذہن کی تخلیقات ہیں۔ اِسی کو اِس زندگی یا کسی دوسری زندگی میں لذّت کی خواہشات کو تَرک کر دینا کہتے ہیں۔

پھر ذہن پر قابو پانے کا مرحلہ آتا ہے، اُسے ایسا پُرسکون کرنا کہ وہ موجوں میں نہ ٹوٹے اور طرح طرح کی خواہشات نہ پالے، ذہن کو ثابت قدم رکھنا، اُسے بیرونی یا اندرونی اسباب سے موجوں میں آنے نہ دینا، محض قوتِ ارادہ کے زور سے ذہن پر مکمل قابو پانا۔ جنیان یوگی اِن جسمانی یا ذہنی سہاروں میں سے کسی ایک کو بھی اختیار نہیں کرتا: محض فلسفیانہ استدلال، علم، اور اپنی قوتِ ارادہ، یہی وہ ذرائع ہیں جن پر اُسے یقین ہے۔ اِس کے بعد تتِکشا، یعنی برداشت، کا مرحلہ آتا ہے، تمام مصیبتوں کو بغیر بڑبڑائے، بغیر شکایت کیے، سہہ جانا۔ جب کوئی صدمہ پہنچے، تو اُس کی پروا نہ کیجیے۔ اگر شیر آ جائے، تو وہیں ڈٹے رہیے۔ کون بھاگتا ہے؟ ایسے لوگ موجود ہیں جو تتِکشا کی مشق کرتے ہیں، اور اِس میں کامیاب رہتے ہیں۔ ایسے لوگ ہیں جو ہندوستان کی شدید گرمیوں کی دھوپ میں گنگا کے کنارے سوتے ہیں، اور سردیوں میں سارا دن گنگا کے پانیوں میں تیرتے رہتے ہیں؛ وہ کچھ پروا نہیں کرتے۔ لوگ ہمالہ کی برف میں بیٹھتے ہیں، اور کوئی لباس پہننے کی پروا نہیں کرتے۔ گرمی کیا ہے؟ سردی کیا ہے؟ چیزیں آتی جاتی رہیں، مجھے اِس سے کیا، میں جسم نہیں ہوں۔ اِن مغربی ممالک میں اِس بات پر یقین کرنا مشکل ہے، مگر بہتر ہے کہ یہ جان لیا جائے کہ ایسا کیا جاتا ہے۔ جس طرح آپ کے لوگ توپ کے دہانے پر، یا میدانِ جنگ کے عین وسط میں کود پڑنے میں بہادر ہیں، اِسی طرح ہمارے لوگ اپنے فلسفے کو سوچنے اور عملاً برتنے میں بہادر ہیں۔ وہ اِس کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں۔ "میں وجودِ مطلق و علمِ مطلق و نعمتِ مطلق ہوں؛ میں وہی ہوں، میں وہی ہوں۔" جس طرح مغربی نصب العین عملی زندگی میں عیش و عشرت کو برقرار رکھنا ہے، اِسی طرح ہمارا نصب العین روحانیت کی اعلیٰ ترین صورت کو برقرار رکھنا ہے، یہ ثابت کرنا کہ مذہب محض جھاگ بھرے الفاظ نہیں، بلکہ اِس زندگی میں اِس کے ہر ذرّے پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ یہی تتِکشا ہے، ہر شے کو سہہ جانا، کسی شے کی شکایت نہ کرنا۔ میں نے خود ایسے لوگ دیکھے ہیں جو کہتے ہیں، "میں روح ہوں؛ کائنات سے میرا کیا واسطہ؟ نہ لذّت، نہ درد، نہ نیکی، نہ بدی، نہ گرمی، نہ سردی، میرے لیے کوئی شے نہیں۔" یہی تتِکشا ہے؛ جسم کی لذّتوں کے پیچھے نہ بھاگنا۔ مذہب کیا ہے؟ یہ دعا کرنا کہ "مجھے یہ دے، وہ دے"؟ مذہب کے کیسے احمقانہ تصورات! جو لوگ اِن پر یقین رکھتے ہیں، اُنھیں خدا اور روح کا کوئی سچا تصور نہیں۔ میرے مرشد فرمایا کرتے تھے، "گدھ اُونچا سے اُونچا اُڑتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک نقطہ بن جاتا ہے، مگر اُس کی نظر ہمیشہ زمین پر پڑی سڑی ہوئی مردار کے ٹکڑے پر ہوتی ہے۔" آخرکار، آپ کے مذہبی تصورات کا نتیجہ کیا ہے؟ گلیوں کی صفائی اور زیادہ روٹی اور کپڑے حاصل کرنا؟ روٹی اور کپڑوں کی کسے پروا ہے؟ ہر لمحے لاکھوں آتے اور جاتے ہیں۔ کسے پروا ہے؟ اِس ننھی سی دنیا کی مسرتوں اور نشیب و فراز کی پروا کیوں کی جائے؟ اگر آپ میں جرأت ہے تو اِس سے ماورا چلے جائیے؛ قانون سے ماورا چلے جائیے، ساری کائنات کو غائب ہو جانے دیجیے، اور تنہا کھڑے ہو جائیے۔ "میں وجودِ مطلق، علمِ مطلق، نعمتِ مطلق ہوں؛ میں وہی ہوں، میں وہی ہوں۔"

English

THE FREE SOUL

(Delivered in New York, 1896)

The analysis of the Sânkhyas stops with the duality of existence — Nature and souls. There are an infinite number of souls, which, being simple, cannot die, and must therefore be separate from Nature. Nature in itself changes and manifests all these phenomena; and the soul, according to the Sankhyas, is inactive. It is a simple by itself, and Nature works out all these phenomena for the liberation of the soul; and liberation consists in the soul discriminating that it is not Nature. At the same time we have seen that the Sankhyas were bound to admit that every soul was omnipresent. Being a simple, the soul cannot be limited, because all limitation comes either through time, space, or causation. The soul being entirely beyond these cannot have any limitation. To have limitation one must be in space, which means the body; and that which is body must be in Nature. If the soul had form, it would be identified with Nature; therefore the soul is formless, and that which is formless cannot be said to exist here, there, or anywhere. It must be omnipresent. Beyond this the Sankhya philosophy does not go.

The first argument of the Vedantists against this is that this analysis is not a perfect one. If their Nature be absolute and the soul be also absolute, there will be two absolutes, and all the arguments that apply in the case of the soul to show that it is omnipresent will apply in the case of Nature, and Nature too will be beyond all time, space, and causation, and as the result there will be no change or manifestation. Then will come the difficulty of having two absolutes, which is impossible. What is the solution of the Vedantist? His solution is that, just as the Sankhyas say, it requires some sentient Being as the motive power behind, which makes the mind think and Nature work, because Nature in all its modifications, from gross matter up to Mahat (Intelligence), is simply insentient. Now, says the Vedantist, this sentient Being which is behind the whole universe is what we call God, and consequently this universe is not different from Him. It is He Himself who has become this universe. He not only is the instrumental cause of this universe, but also the material cause. Cause is never different from effect, the effect is but the cause reproduced in another form. We see that every day. So this Being is the cause of Nature. All the forms and phases of Vedanta, either dualistic, or qualified-monistic, or monistic, first take this position that God is not only the instrumental, but also the material cause of this universe, that everything which exists is He. The second step in Vedanta is that these souls are also a part of God, one spark of that Infinite Fire. "As from a mass of fire millions of small particles fly, even so from this Ancient One have come all these souls." So far so good, but it does not yet satisfy. What is meant by a part of the Infinite? The Infinite is indivisible; there cannot be parts of the Infinite. The Absolute cannot be divided. What is meant, therefore, by saying that all these sparks are from Him? The Advaitist, the non-dualistic Vedantist, solves the problem by maintaining that there is really no part; that each soul is really not a part of the Infinite, but actually is the Infinite Brahman. Then how can there be so many? The sun reflected from millions of globules of water appears to be millions of suns, and in each globule is a miniature picture of the sun-form; so all these souls are but reflections and not real. They are not the real "I" which is the God of this universe, the one undivided Being of the universe. And all these little different beings, men and animals etc. are but reflections, and not real. They are simply illusory reflections upon Nature. There is but one Infinite Being in the universe, and that Being appears as you and as I; but this appearance of divisions is after all a delusion. He has not been divided, but only appears to be divided. This apparent division is caused by looking at Him through the network of time, space, and causation. When I look at God through the network of time, space, and causation, I see Him as the material world. When I look at Him from a little higher plane, yet through the same network, I see Him as an animal, a little higher as a man, a little higher as a god, but yet He is the One Infinite Being of the universe, and that Being we are. I am That, and you are That. Not parts of It, but the whole of It. "It is the Eternal Knower standing behind the whole phenomena; He Himself is the phenomena." He is both the subject and the object, He is the "I" and the "You". How is this? "How to know the Knower? The Knower cannot know Himself; I see everything but cannot see myself. The Self, the Knower, the Lord of all, the Real Being, is the cause of all the vision that is in the universe, but it is impossible for Him to see Himself or know Himself, excepting through reflection. You cannot see your own face except in a mirror, and so the Self cannot see Its own nature until It is reflected, and this whole universe therefore is the Self trying to realise Itself. This reflection is thrown back first from the protoplasm, then from plants and animals, and so on and on from better and better reflectors, until the best reflector, the perfect man, is reached — just as a man who, wanting to see his face, looks first in a little pool of muddy water, and sees just an outline; then he comes to clear water, and sees a better image; then to a piece of shining metal, and sees a still better image; and at last to a looking-glass, and sees himself reflected as he is. Therefore the perfect man is the highest reflection of that Being who is both subject and object. You now find why man instinctively worships everything, and how perfect men are instinctively worshipped as God in every country. You may talk as you like, but it is they who are bound to be worshipped. That is why men worship Incarnations, such as Christ or Buddha. They are the most perfect manifestations of the eternal Self. They are much higher than all the conceptions of God that you or I can make. A perfect man is much higher than such conceptions. In him the circle becomes complete; the subject and the object become one. In him all delusions go away and in their place comes the realisation that he has always been that perfect Being. How came this bondage then? How was it possible for this perfect Being to degenerate into the imperfect? How was it possible that the free became bound? The Advaitist says, he was never bound, but was always free. Various clouds of various colours come before the sky. They remain there a minute and then pass away. It is the same eternal blue sky stretching there for ever. The sky never changes: it is the cloud that is changing. So you are always perfect, eternally perfect. Nothing ever changes your nature, or ever will. All these ideas that I am imperfect, I am a man, or a woman, or a sinner, or I am the mind, I have thought, I will think — all are hallucinations; you never think, you never had a body; you never were imperfect. You are the blessed Lord of this universe, the one Almighty ruler of everything that is and ever will be, the one mighty ruler of these suns and stars and moons and earths and planets and all the little bits of our universe. It is through you that the sun shines and the stars shed their lustre, and the earth becomes beautiful. It is through your blessedness that they all love and are attracted to each other. You are in all, and you are all. Whom to avoid, and whom to take? You are the all in all. When this knowledge comes delusion immediately vanishes.

I was once travelling in the desert in India. I travelled for over a month and always found the most beautiful landscapes before me, beautiful lakes and all that. One day I was very thirsty and I wanted to have a drink at one of these lakes; but when I approached that lake it vanished. Immediately with a blow came into my brain the idea that this was a mirage about which I had read all my life; and then I remembered and smiled at my folly, that for the last month all the beautiful landscapes and lakes I had been seeing were this mirage, but I could not distinguish them then. The next morning I again began my march; there was the lake and the landscape, but with it immediately came the idea, "This is a mirage." Once known it had lost its power of illusion. So this illusion of the universe will break one day. The whole of this will vanish, melt away. This is realization. Philosophy is no joke or talk. It has to be realised; this body will vanish, this earth and everything will vanish, this idea that I am the body or the mind will for some time vanish, or if the Karma is ended it will disappear, never to come back; but if one part of the Karma remains, then as a potter's wheel, after the potter has finished the pot, will sometimes go on from the past momentum, so this body, when the delusion has vanished altogether, will go on for some time. Again this world will come, men and women and animals will come, just as the mirage came the next day, but not with the same force; along with it will come the idea that I know its nature now, and it will cause no bondage, no more pain, nor grief, nor misery. Whenever anything miserable will come, the mind will be able to say, "I know you as hallucination." When a man has reached that state, he is called Jivanmukta, living-free", free even while living. The aim and end in this life for the Jnâna-Yogi is to become this Jivanmukta, "living-free". He is Jivanmukta who can live in this world without being attached. He is like the lotus leaves in water, which are never wetted by the water. He is the highest of human beings, nay, the highest of all beings, for he has realised his identity with the Absolute, he has realised that he is one with God. So long as you think you have the least difference from God, fear will seize you, but when you have known that you are He, that there is no difference, entirely no difference, that you are He, all of Him, and the whole of Him, all fear ceases. "There, who sees whom? Who worships whom? Who talks to whom? Who hears whom? Where one sees another, where one talks to another, where one hears another, that is little. Where none sees none, where none speaks to none, that is the highest, that is the great, that is the Brahman." Being That, you are always That. What will become of the world then? What good shall we do to the world? Such questions do not arise "What becomes of my gingerbread if I become old?" says the baby! "What becomes of my marbles if I grow? So I will not grow," says the boy! "What will become of my dolls if I grow old?" says the little child! It is the same question in connection with this world, it has no existence in the past, present, or future. If we have known the Âtman as It is, if we have known that there is nothing else but this Atman, that everything else is but a dream, with no existence in reality, then this world with its poverties, its miseries, its wickedness, and its goodness will cease to disturb us. If they do not exist, for whom and for what shall we take trouble? This is what the Jnana-Yogis teach. Therefore, dare to be free, dare to go as far as your thought leads, and dare to carry that out in your life. It is very hard to come to Jnâna. It is for the bravest and most daring, who dare to smash all idols, not only intellectual, but in the senses. This body is not I; it must go. All sorts of curious things may come out of this. A man stands up and says, "I am not the body, therefore my headache must be cured"; but where is the headache if not in his body? Let a thousand headaches and a thousand bodies come and go. What is that to me? I have neither birth nor death; father or mother I never had; friends and foes I have none, because they are all I. I am my own friend, and I am my own enemy. I am Existence-Knowledge-Bliss Absolute. I am He, I am He. If in a thousand bodies I am suffering from fever and other ills, in millions of bodies I am healthy. If in a thousand bodies I am starving, in other thousand bodies I am feasting. If in thousands of bodies I am suffering misery, in thousands of bodies I am happy. Who shall blame whom, who praise whom? Whom to seek, whom to avoid? I seek none, nor avoid any, for I am all the universe. I praise myself, I blame myself, I suffer for myself, I am happy at my own will, I am free. This is the Jnâni, the brave and daring. Let the whole universe tumble down; he smiles and says it never existed, it was all a hallucination. He sees the universe tumble down. Where was it! Where has it gone!

Before going into the practical part, we will take up one more intellectual question. So far the logic is tremendously rigorous. If man reasons, there is no place for him to stand until he comes to this, that there is but One Existence, that everything else is nothing. There is no other way left for rational mankind but to take this view. But how is it that what is infinite, ever perfect, ever blessed, Existence-Knowledge-Bliss Absolute, has come under these delusions? It is the same question that has been asked all the world over. In the vulgar form the question becomes, "How did sin come into this world?" This is the most vulgar and sensuous form of the question, and the other is the most philosophic form, but the answer is the same. The same question has been asked in various grades and fashions, but in its lower forms it finds no solution, because the stories of apples and serpents and women do not give the explanation. In that state, the question is childish, and so is the answer. But the question has assumed very high proportions now: "How did this illusion come?" And the answer is as fine. The answer is that we cannot expect any answer to an impossible question. The very question is impossible in terms. You have no right to ask that question. Why? What is perfection? That which is beyond time, space, and causation — that is perfect. Then you ask how the perfect became imperfect. In logical language the question may be put in this form: "How did that which is beyond causation become caused?" You contradict yourself. You first admit it is beyond causation, and then ask what causes it. This question can only be asked within the limits of causation. As far as time and space and causation extend, so far can this question be asked. But beyond that it will be nonsense to ask it, because the question is illogical. Within time, space, and causation it can never be answered, and what answer may lie beyond these limits can only be known when we have transcended them; therefore the wise will let this question rest. When a man is ill, he devotes himself to curing his disease without insisting that he must first learn how he came to have it.

There is another form of this question, a little lower, but more practical and illustrative: What produced this delusion? Can any reality produce delusion? Certainly not. We see that one delusion produces another, and so on. It is delusion always that produces delusion. It is disease that produces disease, and not health that produces disease. The wave is the same thing as the water, the effect is the cause in another form. The effect is delusion, and therefore the cause must be delusion. What produced this delusion? Another delusion. And so on without beginning. The only question that remains for you to ask is: Does not this break your monism, because you get two existences in the universe, one yourself and the other the delusion? The answer is: Delusion cannot be called an existence. Thousands of dreams come into your life, but do not form any part of your life. Dreams come and go; they have no existence. To call delusion existence will be sophistry. Therefore there is only one individual existence in the universe, ever free, and ever blessed; and that is what you are. This is the last conclusion reached by the Advaitists.

It may then be asked: What becomes of all these various forms of worship? They will remain; they are simply groping in the dark for light, and through this groping light will come. We have just seen that the Self cannot see Itself. Our knowledge is within the network of Mâyâ (unreality), and beyond that is freedom. Within the network there is slavery, it is all under law; beyond that there is no law. So far as the universe is concerned, existence is ruled by law, and beyond that is freedom. As long as you are in the network of time, space, and causation, to say you are free is nonsense, because in that network all is under rigorous law, sequence, and consequence. Every thought that you think is caused, every feeling has been caused; to say that the will is free is sheer nonsense. It is only when the infinite existence comes, as it were, into this network of Maya that it takes the form of will. Will is a portion of that being, caught in the network of Maya, and therefore "free will" is a misnomer. It means nothing — sheer nonsense. So is all this talk about freedom. There is no freedom in Maya.

Every one is as much bound in thought, word, deed, and mind, as a piece of stone or this table. That I talk to you now is as rigorous in causation as that you listen to me. There is no freedom until you go beyond Maya. That is the real freedom of the soul. Men, however sharp and intellectual, however clearly they see the force of the logic that nothing here can be free, are all compelled to think they are free; they cannot help it. No work can go on until we begin to say we are free. It means that the freedom we talk about is the glimpse of the blue sky through the clouds and that the real freedom — the blue sky itself— is behind. True freedom cannot exist in the midst of this delusion, this hallucination, this nonsense of the world, this universe of the senses, body, and mind. All these dreams, without beginning or end, uncontrolled and uncontrollable, ill-adjusted, broken, inharmonious, form our idea of this universe. In a dream, when you see a giant with twenty heads chasing you, and you are flying from him, you do not think it is inharmonious; you think it is proper and right. So is this law. All that you call law is simply chance without meaning. In this dream state you call it law. Within Maya, so far as this law of time, space and causation exists, there is no freedom; and all these various forms of worship are within this Maya. The idea of God and the ideas of brute and of man are within this Maya, and as such are equally hallucinations; all of them are dreams. But you must take care not to argue like some extraordinary men of whom we hear at the present time. They say the idea of God is a delusion, but the idea of this world is true. Both ideas stand or fall by the same logic. He alone has the right to be an atheist who denies this world, as well as the other. The same argument is for both. The same mass of delusion extends from God to the lowest animal, from a blade of grass to the Creator. They stand or fall by the same logic. The same person who sees falsity in the idea of God ought also to see it in the idea of his own body or his own mind. When God vanishes, then also vanish the body and mind; and when both vanish, that which is the Real Existence remains for ever. "There the eyes cannot go, nor the speech, nor the mind. We cannot see it, neither know it." And we now understand that so far as speech and thought and knowledge and intellect go, it is all within this Maya within bondage. Beyond that is Reality. There neither thought, nor mind, nor speech, can reach.

So far it is intellectually all right, but then comes the practice. The real work is in the practice. Are any practices necessary to realise this Oneness? Most decidedly. It is not that you become this Brahman. You are already that. It is not that you are going to become God or perfect; you are already perfect; and whenever you think you are not, it is a delusion. This delusion which says that you are Mr. So-and-so or Mrs. So-and-so can be got rid of by another delusion, and that is practice. Fire will eat fire, and you can use one delusion to conquer another delusion. One cloud will come and brush away another cloud, and then both will go away. What are these practices then? We must always bear in mind that we are not going to be free, but are free already. Every idea that we are bound is a delusion. Every idea that we are happy or unhappy is a tremendous delusion; and another delusion will come — that we have got to work and worship and struggle to be free — and this will chase out the first delusion, and then both will stop.

The fox is considered very unholy by the Mohammedans and by the Hindus. Also, if a dog touches any bit of food, it has to be thrown out, it cannot be eaten by any man. In a certain Mohammedan house a fox entered and took a little bit of food from the table, ate it up, and fled. The man was a poor man, and had prepared a very nice feast for himself, and that feast was made unholy, and he could not eat it. So he went to a Mulla, a priest, and said, "This has happened to me; a fox came and took a mouthful out of my meal. What can be done? I had prepared a feast and wanted so much to eat it, and now comes this fox and destroys the whole affair." The Mulla thought for a minute and then found only one solution and said, "The only way for you is to get a dog and make him eat a bit out of the same plate, because dogs and foxes are eternally quarrelling. The food that was left by the fox will go into your stomach, and that left by the dog will go there too, and both will be purified." We are very much in the same predicament. This is a hallucination that we are imperfect; and we take up another, that we have to practice to become perfect. Then one will chase the other, as we can use one thorn to extract another and then throw both away. There are people for whom it is sufficient knowledge to hear, "Thou art That". With a flash this universe goes away and the real nature shines, but others have to struggle hard to get rid of this idea of bondage.

The first question is: Who are fit to become Jnana-Yogis? Those who are equipped with these requisites: First, renunciation of all fruits of work and of all enjoyments in this life or another life. If you are the creator of this universe, whatever you desire you will have, because you will create it for yourself. It is only a question of time. Some get it immediately; with others the past Samskâras (impressions) stand in the way of getting their desires. We give the first place to desires for enjoyment, either in this or another life. Deny that there is any life at all; because life is only another name for death. Deny that you are a living being. Who cares for life? Life is one of these hallucinations, and death is its counterpart. Joy is one part of these hallucinations, and misery the other part, and so on. What have you to do with life or death ? These are all creations of the mind. This is called giving up desires of enjoyment either in this life or another.

Then comes controlling the mind, calming it so that it will not break into waves and have all sorts of desires, holding the mind steady, not allowing it to get into waves from external or internal causes, controlling the mind perfectly, just by the power of will. The Jnana-Yogi does not take any one of these physical helps or mental helps: simply philosophic reasoning, knowledge, and his own will, these are the instrumentalities he believes in. Next comes Titikshâ, forbearance, bearing all miseries without murmuring, without complaining. When an injury comes, do not mind it. If a tiger comes, stand there. Who flies? There are men who practice Titiksha, and succeed in it. There are men who sleep on the banks of the Ganga in the midsummer sun of India, and in winter float in the waters of the Ganga for a whole day; they do not care. Men sit in the snow of the Himalayas, and do not care to wear any garment. What is heat? What is cold? Let things come and go, what is that to me, I am not the body. It is hard to believe this in these Western countries, but it is better to know that it is done. Just as your people are brave to jump at the mouth of a cannon, or into the midst of the battlefield, so our people are brave to think and act out their philosophy. They give up their lives for it. "I am Existence-Knowledge-Bliss Absolute; I am He, I am He." Just as the Western ideal is to keep up luxury in practical life, so ours is to keep up the highest form of spirituality, to demonstrate that religion is riot merely frothy words, but can be carried out, every bit of it, in this life. This is Titiksha, to bear everything, not to complain of anything. I myself have seen men who say, "I am the soul; what is the universe to me? Neither pleasure nor pain, nor virtue nor vice, nor heat nor cold is anything to me." That is Titiksha; not running after the enjoyments of the body. What is religion? To pray, "Give me this and that"? Foolish ideas of religion! Those who believe them have no true idea of God and soul. My Master used to say, "The vulture rise higher and higher until he becomes a speck, but his eye is always on the piece of rotten carrion on the earth." After all, what is the result of your ideas of religion? To cleanse the streets and have more bread and clothes? Who cares for bread and clothes? Millions come and go every minute. Who cares? Why care for the joys and vicissitudes of this little world? Go beyond that if you dare; go beyond law, let the whole universe vanish, and stand alone. "I am Existence-Absolute, Knowledge-Absolute, Bliss-Absolute; I am He, I am He."


متن ویکی سورس عوامی ملکیت سے۔ اصل کو ادویت آشرم نے شائع کیا۔